
روس تیل فروخت کرتا رہے گا، امریکی پابندیوں میں ایک اور چھوٹ
تاہم اب اس چھوٹ کی تجدید کے نتیجے میں روسی تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت تقریباً مزید ایک ماہ تک ممکن رہے گی۔
اے ایف پی، روئٹرز
یوکرین جنگ کے تناظر میں دراصل امریکہ نے روسی معیشت پر دباؤ ڈالنے کے لیے یہ پابندی لگائی تھی۔ تاہم ایران جنگ کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قمیتوں میں اضافے کے بعد امریکہ کو اس تناظر میں اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنا پڑی۔
امریکہ کی طرف یہ اعلان ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے، جب کچھ روز قبل ہی واشنگٹن انتطامیہ نے کہا تھا کہ ‘اس چھوٹ میں توسیع‘ کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔
تاہم اب اس چھوٹ کی تجدید کے نتیجے میں روسی تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت تقریباً مزید ایک ماہ تک ممکن رہے گی۔
اس نئے فیصلے کے تحت جاری ہونے والا لائسنس ممالک کو اجازت دیتا ہے کہ وہ سمندر میں موجود روسی جہازوں پر لدا تیل خرید سکیں۔ یہ نئی اجازت 16 مئی تک مؤثر رہے گی۔
تاہم اس چھوٹ کے نتیجے میں ایران، کیوبا اور شمالی کوریا کو اجازت نہیں کہ وہ روسی تیل خرید سکیں۔
ٹرمپ انتظامیہ مشکل صورتحال میں
یہ اقدام عالمی توانائی کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے کیا گیا ہے کیونکہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ کے دوران توانائی کی قیمتیں تیزی سے بڑھیں تاہم حالیہ دنوں میں عارضی جنگ بندی کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی آئی ہے۔
ساتھ ہی امریکہ نے ممالک کو ایرانی تیل خریدنے کی چھوٹ بھی دی۔ یہ اجازت 20 مارچ کو جاری کی گئی تھی، جس کی بدولت تقریباً 140 ملین بیرل تیل عالمی منڈیوں تک پہنچا۔ اس وجہ سے جنگ کے دوران توانائی کی رسد پر دباؤ کم کرنے میں مدد ملی۔
روسی اور ایرانی تیل پر پابندیوں میں نرمی کے فیصلے پر ٹرمپ انتظامیہ کو کڑی تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ یہاں تک کہ کچھ قانون سازوں نے بھی اس حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ ان رعایتوں سے ایران اور روس کو فائدہ ہوا، جو بالترتیب مشرق وسطیٰ اور یوکرین پر جنگ مسلط کیے ہوئے ہیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ بالخصوص اس اقدام نے روس کو اس آمدنی سے محروم رکھنے کی کوششوں کو کمزور کیا، جو اسے یوکرین کے خلاف جنگ کے لیے درکار ہے۔ اس وجہ سے واشنگٹن کے اس کے اپنے اتحادیوں کے ساتھ تعلقات مزید پیچیدہ ہو گئے ہیں۔



