
چینی سیکس ٹوائے انڈسٹری میں آے آئی کا بڑھتا استعمال
شنگھائی میں ہونے والی ایک تجارتی نمائش کے دوران بعض کمپنیوں نے مشین سے تیار ہونے والے جنسی مواد سے متعلق قانونی خدشات کا اظہار بھی کیا
چین سیکس ٹوائز بنانے والا دنیا میں سب سے بڑا ملک ہے۔ اس انڈسٹری میں فعال کاروباری کمپنیاں دیگر شعبوں کی طرح مصنوعی ذہانت کے ٹولز کو بھی تیزی سے اپنا رہی ہیں۔
شہوت انگیز چیٹ بوٹس، ویڈیو سنکرونائزیشن اور آڈیو ایکٹیویٹڈ ڈیوائسز نے شنگھائی میں منعقد ہونے والے بین الاقوامی ‘اڈلٹ پراڈکٹ انڈسٹری ایکسپو‘ کے شرکا کو حیرت میں ڈال دیا۔ لگتا ہے کہ چین کی اڈلٹ پراڈکٹ فرمز مصنوعی ذہانت کے گلوبل ٹرینڈ کو اب عمدہ طریقے اپنانا شروع ہو چکی ہیں۔
چین سیکس ٹوائز بنانے والا دنیا میں سب سے بڑا ملک ہے۔ اس انڈسٹری میں فعال کاروباری کمپنیاں دیگر شعبوں کی طرح مصنوعی ذہانت کے ٹولز کو بھی تیزی سے اپنا رہی ہیں۔
شنگھائی میں ہونے والی ایک تجارتی نمائش کے دوران بعض کمپنیوں نے مشین سے تیار ہونے والے جنسی مواد سے متعلق قانونی خدشات کا اظہار بھی کیا جبکہ کچھ ادارے اپنی نئی اور بہتر مصنوعات کو نمایاں طور پر پیش کرنے کے خواہاں نظر آ رہے ہیں۔
چار اپریل کو شروع ہونے والی یہ نمائش انیس اپریل جاری رہے گی، جس میں چار سو سے زائد نمائش کنندگان شریک ہیں۔ توقع ہے کہ اس نمائش میں سو ممالک سے تعلق رکھنے والے ساٹھ ہزار سے زائد افراد اسے دیکھیں گے۔
نمائش ہال میں مختلف اسٹالز پر مصنوعی ذہانت سے چلنے والی ایپس اور جدید کنزیومر ٹیکنالوجی نے شرکا کو ورطہ حیرت میں ڈال رکھا ہے۔ گوانگژو کی ‘اے آئی کریکٹر ڈیٹنگ‘ کمپنی نے اس نمائش میں ورچوئل کیریکٹرز پر مبنی Luvmazer نامی ایک ایپ متعارف کرائی جبکہ ایک اور اسٹال پر انسانی جذبات اور گفتگو کی نقل کرنے والا ایک جدید پروٹوٹائپ سیکس ٹوائے نمائش کے لیے رکھا گیا ہے۔
مصنوعی ذہانت کی مدد سے یہ سیکس ٹوائے گفتگو بھی کر سکتا ہے۔ اس سیکس ڈول کے خالق کا دعوی ہے کہ ‘اس کا ایک جملہ، جسم میں شہوت بھری ہیجانی کیفیت پیدا کر دے گا‘۔
اس کمپنی کے نمائندے کے مطابق، ”آج کے دور میں بہت سے لوگ سماجی میل جول کم رکھتے ہیں، گھروں میں ڈیجیٹل سرگرمیوں کو ترجیح دیتے ہیں لیکن پھر بھی انہیں رفاقت اور تعلق کا احساس درکار ہوتا ہے اور یہی ضرورت نئی ٹیکنالوجی کا محور بن رہی ہے۔‘‘
اس نمائش میں لائف سائز سائبر پنک انسپائرڈ سیلیکون ڈول بھی دکھنے کو ملی، جس کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وہ ‘نیچرل‘ جذبات اور مکالمے کی ماہر ہے۔
اس نمائش میں موجود متعدد اداروں کے مطابق وہ مصنوعی ذہانت کو حساس ویڈیو اور آڈیو مواد کے ساتھ جوڑنے کے حوالے سے محتاط رویہ اپنا رہے ہیں کیونکہ اس سے قانونی اور پرائیویسی سے متعلق خدشات جنم لیتے ہیں۔
چین میں پورنو گرافی اور جنسی مواد کی کھلے عام نمائش پر قانونی پابندیاں عائد ہیں اور فحش ویب سائٹس تک رسائی صرف وی پی این کی مدد سے ہی ممکن ہے، جس کے باعث کاروباری اداروں کو اپنی مصنوعات کی تیاری میں اضافی احتیاط برتنا پڑتی ہے۔
شنگھائی میں قائم ایک کنزیومر ٹیک کمپنی کے بانی سیم شئی کا کہنا ہے کہ اگرچہ ان کی مصنوعات مصنوعی ذہانت کے ساتھ مطابقت رکھتی ہیں اور اسی لیے سافٹ ویئر تیار کرنے والے پارٹنرز کے انتخاب میں انہیں خاص طور پر محتاط رہنا پڑتا ہے۔
ان کے مطابق ذرا سی کوتاہی مختلف مسائل کو جنم دے سکتی ہے جبکہ صارفین کی جانب سے شکایات یا رپورٹ کیے جانے کا خدشہ بھی موجود رہتا ہے۔



