مشرق وسطیٰتازہ ترین

جنگ کے باعث ایران میں لاکھوں ملازمتیں ختم

یہ جنگ ایران کی معیشت کے لیے تباہ کن ثابت ہوئی ہے، جو پہلے ہی بدانتظامی، بدعنوانی اور پابندیوں کا شکار رہی ہے۔

مِصنفہ: شبنم فان ہائن
ایران کے 93 ملین سے زائد باشندے ایک ایسی جنگ کے سائے میں زندگی گزار رہے ہیں، جو کسی بھی وقت دوبارہ بھڑک سکتی ہے۔ بہت سے ایرانی اب آنے والے مشکل دنوں سے خوفزدہ ہیں۔
ٹریڈ یونین رہنما اسماعیل عابدی نے کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا، ”جنگ کا سب سے زیادہ اثرعام لوگوں پر پڑتا ہے، خاص طور پر مزدوروں، اساتذہ اور تنخواہ دار طبقے پر۔‘‘
استاد اور انسانی حقوق کے کارکن اسماعیل عابدی کو ایرانی حکام نے ”سیاسی نظام کے خلاف پروپیگنڈا‘‘ کے الزام میں کئی سال تک جیل میں رکھا، لیکن بین الاقوامی دباؤ کے بعد بالآخر انہیں رہا کر دیا گیا۔ مارچ 2025 سے وہ جرمنی میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، ”گزشتہ چند ہفتوں میں ہمیں ایران میں جنگی حالات کے دوران محنت کش طبقے کی تکالیف کے بارے میں چونکا دینے والی رپورٹیں موصول ہوئی ہیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ”جب فیکٹریاں، کارخانے یا سروس پروجیکٹس بند ہو جاتے ہیں یا ان کا کام کم کر دیا جاتا ہے، تو سب سے پہلے ٹھیکے پر کام کرنے والے مزدور، یومیہ مزدور اور غیر رسمی شعبے سے وابستہ کارکن متاثر ہوتے ہیں۔ اس عمل سے مزدوروں کی سودے بازی کی طاقت کمزور ہو جاتی ہے اور اجرتیں مزید تیزی سے گرتی ہیں۔‘‘
یہ جنگ ایران کی معیشت کے لیے تباہ کن ثابت ہوئی ہے، جو پہلے ہی بدانتظامی، بدعنوانی اور پابندیوں کا شکار رہی ہے۔
ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی کے مطابق تہران نے جنگ سے ہونے والے نقصانات کا ابتدائی تخمینہ تقریباً 229 بلین یورو (تقریباً 270 بلین ڈالر) لگایا ہے۔ تاہم ملک کی بڑی صنعتی تنصیبات، جو معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی ہیں، کو ہونے والے حقیقی نقصانات کا مکمل مجموعہ ابھی تک واضح نہیں ہو سکا۔
اصفہان میں واقع مبارکہ اسٹیل کمپنی کو امریکہ اور اسرائیل کے دوسرے حملے کے بعد مکمل طور پر اپنی پیداوار روکنے پر مجبور ہونا پڑا۔ اسٹیل فوجی ساز و سامان جیسے میزائل، ڈرون اور بحری جہاز بنانے کے لیے ایک اہم خام مال ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ شہری صنعتوں میں بھی نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے، جن میں آٹوموبائل سپلائی چین، گھریلو آلات کی تیاری، پیکیجنگ اور کیننگ انڈسٹری شامل ہیں۔ تعمیراتی شعبے میں بھی اسٹیل ناگزیر سمجھا جاتا ہے۔
اسٹیل انڈسٹری کو ایران کی معیشت کی اہم محرک قوتوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ورلڈ اسٹیل ایسوسی ایشن کے مطابق 2025 میں ایران دنیا کے 10 بڑے اسٹیل پیدا کرنے والے ممالک میں شامل تھا اور وہ سالانہ تقریباً 31.8 ملین ٹن اسٹیل برآمد کرتا تھا۔ مارچ 2025 سے جنوری 2026 کے درمیان برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدنی 860 ملین ڈالر (تقریباً 741 ملین یورو) رہی۔
پیداوار معطل ہونے کے بعد ہزاروں مزدوروں کو گھروں کو بھیج دیا گیا، اور یہ واضح نہیں کہ یہ صورتحال کتنی دیر تک جاری رہے گی۔ اسٹیل انڈسٹری میں کم از کم 10 ہزار یومیہ مزدور ہیں۔
ماہر توانائی اور جارج میسن یونیورسٹی کے سینئر وزیٹنگ فیلو عمود شکری کے مطابق پیٹروکیمیکل پلانٹس پر حملوں کے بھی لیبر مارکیٹ پر بہت شدید اثرات مرتب ہوں گے۔
عسلوئیہ (ساؤتھ پارس)، ماہشہر اور شیراز میں بڑے پیٹروکیمیکل مراکز پر حملوں سے شدید نقصان ہوا اور متعدد صنعتی تنصیبات مکمل طور پر بند ہو گئیں۔
عمود شکری نے بتایا کہ ماہشہر جیسے صنعتی مراکز، جہاں 30 ہزار سے زائد افراد ملازمت کرتے ہیں، وہاں اب بہت سے کارکن اچانک بے روزگاری اور تنخواہوں میں کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا، ”نقصان صرف تنصیبات تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات سپلائی چین، حکومتی آمدنی اور عام لوگوں کے روزگار تک پھیل جاتے ہیں۔‘‘ ان کے مطابق ماہشہر جیسے اہم مرکز کی بحالی میں تقریباً دو سال لگ سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس کے لیے غیر ملکی ٹیکنالوجی، سرمایہ، اسپیئر پارٹس اور تکنیکی مہارت تک بہتر رسائی درکار ہوگی، جبکہ موجودہ پابندیوں کے ماحول میں ایسی شرائط کا پورا ہونا انتہائی مشکل ہے۔
صنعتی شعبے میں ملازمتوں کے خاتمے نے پہلے ہی وسیع پیمانے پر عدم تحفظ پیدا کر دیا ہے۔ 14 اپریل کو ایرانی لیبر نیوز ایجنسی (النا) نے اپنے تمام صحافیوں کو برطرف کر دیا اور ان کی ملازمت کو فری لانس معاہدوں میں تبدیل کر دیا۔
اطلاعات کے مطابق بہت سی دیگر کمپنیوں نے بھی بڑے پیمانے پر ملازمین کو فارغ کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس کی ایک مثال ڈیجیٹل سروسز کا شعبہ ہے، جس میں اسنیپ جیسے پلیٹ فارمز شامل ہیں، جسے اکثر ‘ایرانی اوبر‘ کہا جاتا ہے۔
جنگ شروع ہونے کے بعد ممکنہ احتجاج کو روکنے کے لیے حکام کی جانب سے انٹرنیٹ پر پابندیاں لگا دی تھیں۔ ٹریڈ یونین رہنما اسماعیل عابدی نے کہا، ”صرف انٹرنیٹ پابندیوں کی وجہ سے ہی ہزاروں فری لانسرز، پروگرامرز اور ڈیجیٹل مواد تیار کرنے والے افراد اپنی کام کرنے کی صلاحیت کھو چکے ہیں۔ انہیں اب دوبارہ روایتی اور پہلے سے کمزور لیبر مارکیٹ میں دھکیلا جا رہا ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ”قلیل مدت میں اس صورتحال کے نتیجے میں حقیقی آمدنی میں کمی اور مزدوروں میں غربت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ طویل مدت میں خدشہ ہے کہ ایک ایسا معاشرہ ابھرے گا جو زیادہ استحصال کا شکار، کم مہارت والا اور دوسروں پر زیادہ انحصار کرنے والا ہو گا۔‘‘
تاہم ایسا لگتا ہے کہ ایرانی عوام کی مشکلات کو زیادہ توجہ نہیں دی جا رہی، نہ ہی اسلامی جمہوریہ کی قیادت کی جانب سے، جس کی ترجیح اقتدار میں رہنا ہے، اور نہ ہی حمایت کے وعدوں کے باوجود امریکی صدر کی جانب سے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button