
کینسر کے علاج کی ادویات تیار کرنے والی توفیق دارو نامی ایک فیکٹری ان حملوں میں مکمل تباہ ہو چکی ہے۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریسس کے مطابق، ”بمباری سے پاسچر انسٹی ٹیوٹ، تہران شہر کے وسط میں نفسیاتی امراض کا ہسپتال اور تہران کے مضافات میں واقع ایک اور جنرل ہسپتال بھی متاثر ہوا ہے۔
یہ ان حملوں میں کم از کم 9 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات بھی ہیں۔
امریکی ماہرینِ قانون کی مذمت
امریکہ کی معروف یونیورسٹیز ہارورڈ، ییل اور اسٹینفورڈ سے وابستہ 100 سے زائد بین الاقوامی ماہرینِ قانون نے ایک مشترکہ خط میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ان حملوں کی مذمت کی ہے جن میں اسکول، طبی مراکز اور رہائشی مکانات تباہ ہوئے ہیں۔ ایرانی ہلال احمر تنظیم کے مطابق جنگ کے ابتدائی تین ہفتوں میں 236 صحت کے مراکز بمباری کی زد میں آئے۔
ماہرین نے ان حملوں کو اقوام متحدہ کے قوانین کی کھلی خلاف ورزی اور جنگی جرائم قرار دیا ہے۔
توفیق دارو پر ایران اور اسرائیل کا متضاد مؤقف
توفیق دارو نامی ادویات بنانے والی کمپنی پر حملے کے بعد ایران کے نائب وزیرِ صحت مہدی پیر صالحی نے کہا کہ فیکٹری کو براہِ راست میزائل حملے سے نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے کہا، ”یہ پلانٹ ہسپتالوں میں استعمال ہونے والی ادویات کے اجزا تیار کرنے والے اہم ترین مراکز میں سے ایک تھا۔ حملے نے اس مرکز میں موجود تحقیق و ترقی کے تمام شعبوں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔‘‘
اسرائیل نے بھی اس حملے کی تصدیق کی ہے مگر ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ یہ فیکٹری ‘طبی ادارے کی آڑ‘ میں ایرانی حکومت کو خطرناک کیمیکلز فراہم کرتی تھی۔ اسرائیل کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ ان کیمیکلز میں فینٹینیل نامی کیمیکل بھی شامل ہے جو کہ ایک انتہائی طاقتور اور نشہ آور (بے ہوش کرنے والی دوا) ہے۔

اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ یہ کیمیکل ایران کے دفاعی تحقیقی ادارے کو فراہم کیا جاتا تھا، جو اسے کیمیائی ہتھیاروں کی تیاریاور تحقیق میں استعمال کرتا تھا۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔
بین الاقوامی فارماسیوٹیکل کمپنیز کی اندراجی لسٹ میں توفیق دارو کا اندراج کینسر، اینستھیزیا اور دیگر ادویات کے مختلف اجزا تیار کرنے والی کمپنی کے طور پر کیا گیا ہے۔
کینسر کے مریض شدید خطرے میں
ویانا میں مقیم ایرانی نژاد ڈاکٹر حسن نایاب ہاشم نے بتایا کہ توفیق دارو ملک میں اہم ادویات کی ایک وسیع رینج تیار کرتی تھی۔
ان کے مطابق، ”یہ فیکٹری 50 سے زائد ادویات میں استعمال ہونے والے ضروری اجزا کی مقامی سطح پر تیاری میں کامیاب ہو چکی تھی۔ لیکن ان حملوں کے بعد ادویات کی ایک بڑی مقدار سپلائی چین سے غائب ہو گئی ہے اور موجودہ حالات میں بیرونِ ملک سے یہ مقدار حاصل کرنا تقریباً ناممکن ہے۔‘‘
کینسر کا علاج ایران میں پہلے ہی انتہائی مہنگا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انشورنس کمپنیاں درآمدی ادویات کا خرچ ادا کرنے سے انکار کر دیتی ہیں جس کے باعث مریضوں کے لیے ان مہنگی ادویات تک رسائی انتہائی محدود ہو جاتی ہے۔
نایاب ہاشم اور ان کے ساتھی ڈاکٹر حمید ہمت پور کے مطابق طبی تنصبات کو نشانہ بنانا جنیوا کنونشنز اور عالمی ادارہ صحت کے قوانین کے تحت وار کرائم کے زمرے میں آتا ہے۔
’صورتحال نہایت سنگین ہے‘
ڈاکٹر ہمّت پور نے خبردار کیا کہ ایران کی دواساز صنعت کی تباہی ملک کے صحت کے نظام کے لیے مہلک ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا، ”جنگ کے دوران بھارت جیسے ممالک سے ادویات درآمد کرنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔‘‘

جنگ کے سبب طبی ماہرین بھی ہجرت پر مجبور
جنگ کے آغاز کے بعد دوہری شہریت رکھنے والے کئی ڈاکٹر آرمینیا اور ترکی کے راستے سرحد پار کر کے ایران چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ بہت سے نجی کلینک بند ہو چکے ہیں اور جو ڈاکٹر باقی رہ گئے ہیں ان پر مریضوں کا بوجھ ناقابلِ برداشت حد تک بڑھ ہو چکا ہے۔
تہران کے بعض علاقوں میں ایک ڈاکٹر روزانہ 200 سے 300 مریضوں کا معائنہ کرتا ہے اور دارالحکومت سے باہر صورتحال اس سے بھی بدتر ہے۔
’اصل المیہ ابھی باقی ہے‘
ڈاکٹر نایاب ہاشم کے مطابق جنگ کے اثرات طویل المدتی ہوں گے۔ انہوں نے کہا، ”اگر جنگ مستقل طور پر ختم بھی ہو جائے تو حکومت کی ترجیح سب سے پہلے فوجی تنصیبات دوبارہ تعمیر کرنا ہوگی، عوام کی صحت اور سلامتی کے مراکز نہیں۔‘‘



