
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
پاکستان توانائی کے تحفظ کے لیے متعدد امکانات پر غور کر رہا ہے جس میں کارپوریٹ دفاتر کے عملے کو گھر سے کام کی سہولت یقینی بنانے کا حکم دینا اور یونیورسٹیز کو آن لائن کلاسز کی طرف منتقل ہونے کی ہدایت شامل ہے، جیسا کہ شرقِ اوسط کے جاری تنازعات سے پیٹرولیم مصنوعات کی عالمی رسد میں خلل آنے کا خطرہ ہے تو ایک سینئر اہلکار نے جمعرات کو تصدیق کی۔
پیٹرولیم کی قیمتوں کی نگرانی کے لیے وزیرِ اعظم شہباز شریف کی تشکیل کردہ کابینہ کمیٹی نے ان تجاویز پر بدھ کو غور کیا۔ کمیٹی پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کے ذخیرے اور بدلتی ہوئی علاقائی صورتِ حال کا جائزہ لینے کے لیے روزانہ اجلاس کرتی ہے۔
امریکہ-اسرائیل-ایران تنازعے کے پیشِ نظر ایران نے آبنائے ہرمز کی نہایت اہم تجارتی آبی گذرگاہ بند کر دی ہے جس کے ذریعے عالمی تیل اور گیس کی رسد کا تقریباً 20 فیصد حصہ گذرتا ہے۔
پاکستان شرقِ اوسط کے خام تیل پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے اور اس کی توانائی کی زیادہ تر درآمدات عام طور پر آبنائے سے گذرتی ہیں جس سے گھریلو ایندھن کی رسد میں کوئی بھی رکاوٹ ایک بڑا خطرہ بن جاتی ہے۔
وزارتِ خزانہ کے ایک سینئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر عرب نیوز کو بتایا، "جی ہاں، اعلیٰ سطحی کمیٹی میں کاروباری دفاتر کے لیے گھر سے کام کرنے اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کے لیے آن لائن کلاسز جیسی تجاویز پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ تاہم چند دنوں میں جب ترجیحی علاقوں کی بنیاد پر ایکشن پلان کو حتمی شکل مل جائے تو ہی حتمی فیصلے کیے جائیں گے۔”
اہلکار نے کہا، حکومت عوام کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کا مشورہ بھی دے سکتی ہے اور یہ کہ مختلف صنعتوں اور دیگر اہم شعبوں کے لیے ایندھن کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔
دریں اثناء پاکستانی حکام نے آئل ریفائنریز میں استعمال ہونے والے کیمیکل پیٹرولیم کنڈینسیٹ کی برآمد پر پابندی عائد کر دی ہے تاکہ شرقِ اوسط کا بحران مزید بگڑنے کی صورت میں اس کی گھریلو رسد محفوظ رہے۔
پاکستان کے پیٹرولیم ڈویژن کے ایک سینئر اہلکار نے بدھ کو سینیٹ کی ایک کمیٹی کو بتایا کہ ملک میں اس وقت پیٹرولیم کے کافی ذخائر ہیں جن سے تقریباً ایک ماہ تک گذارہ ہو سکتا ہے۔
اہلکار نے کہا، "ملک میں تقریباً ایک ماہ کی ریفائنڈ پیٹرولیم مصنوعات دستیاب ہیں جس کے ساتھ دس دن سے زیادہ کے خام تیل کا ذخیرہ موجود ہے۔”
انہوں نے مزید کہا، تنازع جاری رہنے کی صورت میں حکومت توانائی کی آئندہ ضروریات پورا کرنے کے لیے ہنگامی منصوبہ بندی پر کام کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا، "پاکستان بحیرۂ احمر کے راستے سعودی عرب سے ایندھن درآمد کرنے کے امکانات تلاش کر رہا ہے تاکہ بلاتعطل رسد یقینی بنائی جائے۔”
وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک کی سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی سے ملاقات کے بعد پاکستان کی وزارت برائے پیٹرولیم نے بدھ کے روز ایک بیان میں اس بات کی تصدیق کی۔
اہلکار نے خبردار کیا کہ عالمی منڈی کے رجحانات کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں بالخصوص اگر رسد کو متبادل، طویل راستوں سے لے جانا پڑے۔
انہوں نے مزید کہا ‘طویل تنازع کی صورت میں پاکستان امریکہ اور دیگر ممالک سے ایندھن درآمد کرنے پر غور کر سکتا ہے۔’



