مشرق وسطیٰتازہ ترین

ہم نے آبنائے ہرمز بند نہیں کی تاہم یہ امریکہ کے سبب غیر محفوظ ہو گئی ہے : ایرانی فوج

تہران پر حملوں کی نئی لہر اور اسرائیل کی جانب سے جنگ کے "نئے مرحلے" کا اعلان

ایران.ایجنسیاں
ایرانی فوج کے ترجمان نے آبنائے ہرمز کو بحری آمد و رفت کے لیے بند کرنے کی تردید کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ ان کا ملک امریکہ اور اسرائیل کی جنگ میں شامل ہونے کا خواہش مند نہیں۔
ترجمان نے آج جمعے کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "ہم نے آبنائے ہرمز کو بند نہیں کیا لیکن امریکی اشتعال انگیزیوں کے باعث اب یہ محفوظ نہیں ہے”۔ انہوں نے مزید کہا "ہم ایسی جنگ میں داخل ہوئے ہیں جس کی ہمیں خواہش نہیں تھی، اور ہم نے دشمن کو متنبہ کیا تھا کہ اگر اس نے حساب کتاب میں غلطی کی تو اسے بھاری نقصان اٹھانا پڑے گا”۔
اسرائیلی فوج نے جمعے کے روز تہران پر "بڑے پیمانے پر” حملوں کا سلسلہ شروع کیا اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا، جبکہ دوسری جانب تہران نے میزائل اور ڈرونز داغے جن کے نتیجے میں تل ابیب میں دھماکے ہوئے۔ سرکاری ٹیلی ویژن سمیت متعدد ایرانی میڈیا ذرائع نے جمعہ کی صبح سویرے دارالحکومت تہران کے مختلف حصوں، بالخصوص مشرقی اور مغربی علاقوں میں دھماکوں کے ایک سلسلے کی اطلاع دی ہے۔
اسرائیلی فوج کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کی افواج نے "تہران میں بنیادی ڈھانچے پر حملوں کا ایک وسیع سلسلہ شروع کیا ہے۔ ادھر ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے جمعہ کو تل ابیب کی سمت میزائلوں کی بوچھار کا اعلان کیا جہاں جمعرات کی شام دھماکے سنے گئے تھے، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
یاد رہے کہ 28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے غیر معمولی حملے سے شروع ہونے والی اس جنگ کے ساتویں دن بھی ایران کے پاس اب بھی جارحانہ صلاحیتیں موجود ہیں۔ اسرائیلی چیف آف اسٹاف ایال زامیر نے جمعرات کی شام کہا کہ جنگ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا "اچانک حملے کا مرحلہ کامیابی سے مکمل کرنے کے بعد، جس کے دوران ہم نے فضائی برتری حاصل کی اور بیلسٹک میزائل نیٹ ورک کو ناکارہ بنایا، اب ہم آپریشن کے ایک نئے مرحلے کی طرف بڑھ رہے ہیں”۔ انہوں نے مزید کہا "اس مرحلے کے دوران، ہم ایرانی نظام اور اس کی فوجی صلاحیتوں کو ختم کرنا جاری رکھیں گے۔ ہمارے پاس ابھی مزید حیران کن چیزیں ہیں جنہیں ظاہر کرنے کا میرا کوئی ارادہ نہیں ہے”۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button