
صوفیہ، بلغاریہ (روئٹرز، اے ایف پی، ڈی پی اے) — مشرقی یورپ کے یورپی یونین کے رکن ملک بلغاریہ میں 19 اپریل 2026 کو ہونے والے قومی پارلیمانی انتخابات میں سابق صدر رومین رادیف کی جماعت نے نمایاں کامیابی حاصل کر لی ہے، جس کے بعد ملک کے سیاسی منظرنامے میں ایک بڑی تبدیلی متوقع ہے۔
انتخابی نتائج اور بڑی کامیابی
دارالحکومت صوفیہ سے موصول ہونے والی غیر سرکاری اطلاعات کے مطابق رادیف کی جماعت پروگریسیو بلغاریہ نے تقریباً 44.6 فیصد ووٹ حاصل کیے، جو دیگر تمام جماعتوں کے مقابلے میں واضح برتری کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کامیابی کے بعد امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان کی جماعت اکیلے ہی حکومت بنانے کی پوزیشن میں آ سکتی ہے، جو گزشتہ تقریباً تین دہائیوں میں ایک غیر معمولی پیش رفت ہوگی۔
سیاسی بحران کے بعد استحکام کی امید
یہ انتخاب ایسے وقت میں منعقد ہوئے جب بلغاریہ طویل عرصے سے سیاسی عدم استحکام، بدعنوانی کے الزامات اور عوامی احتجاجی مظاہروں کا سامنا کر رہا تھا۔ رادیف کی جیت کو کئی مبصرین عوام کے اعتماد کی بحالی اور نظام میں تبدیلی کی خواہش سے تعبیر کر رہے ہیں۔
اپنی فتح کے بعد رادیف نے اسے:
“بداعتمادی کے خلاف امید کی جیت اور خوف کے خلاف آزادی کی فتح”
قرار دیا۔
روس نواز امیج اور یورپی یونین کے خدشات
رومین رادیف کو عمومی طور پر ایک روس نواز سیاستدان سمجھا جاتا ہے، کیونکہ ماضی میں وہ روس کے ساتھ بہتر تعلقات کے حامی رہے ہیں۔ تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ وہ اقتدار میں آنے کے بعد محتاط پالیسی اختیار کریں گے تاکہ یورپی یونین کے ساتھ تعلقات متاثر نہ ہوں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، بلغاریہ کی معیشت کا بڑا انحصار یورپی فنڈز پر ہے، اس لیے رادیف کسی ایسی پالیسی سے گریز کریں گے جو برسلز کی جانب سے ممکنہ تادیبی کارروائی کا باعث بنے۔
اہم چیلنجز: معیشت اور کرپشن
نئے ممکنہ وزیراعظم کے طور پر رادیف کو کئی بڑے چیلنجز کا سامنا ہوگا، جن میں شامل ہیں:
- بدعنوانی کے خلاف مؤثر کارروائی
- کمزور معیشت کو سنبھالنا
- سیاسی استحکام قائم کرنا
- عوامی اعتماد کی بحالی
یہ مسائل گزشتہ کئی سالوں سے بلغاریہ کی سیاست پر حاوی رہے ہیں۔
سیاسی سفر اور پس منظر
رومین رادیف پیشہ ورانہ طور پر فضائیہ کے ایک سابق فائٹر جیٹ پائلٹ رہے ہیں۔ وہ پہلی بار 2017 میں صدر منتخب ہوئے اور جنوری 2026 تک اس عہدے پر فائز رہے۔
انہوں نے صدارتی منصب سے استعفیٰ دے کر پارلیمانی انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا، جسے ایک جرات مندانہ سیاسی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
انتخابی مہم اور عوامی پیغام
اپنی انتخابی مہم کے دوران رادیف نے عوام سے وعدہ کیا کہ وہ:
- ملک کو بدعنوانی سے پاک کریں گے
- سیاسی اشرافیہ کے اثر کو کم کریں گے
- عوامی مفادات کو ترجیح دیں گے
انہوں نے ووٹروں پر زور دیا کہ وہ خود کو “بدعنوان حکام، سازشی عناصر اور انتہا پسندوں” سے آزاد کرائیں۔
حکومت سازی: اکیلی یا مخلوط؟
اگرچہ نتائج رادیف کی جماعت کے حق میں ہیں، تاہم انہوں نے ابھی تک حکومت سازی کے حوالے سے کوئی حتمی اعلان نہیں کیا۔ ماہرین کے مطابق:
- وہ اکیلے حکومت بنا سکتے ہیں
- یا سیاسی استحکام کے لیے مخلوط حکومت کا انتخاب کر سکتے ہیں
نتیجہ: ایک نئے دور کا آغاز؟
بلغاریہ میں یہ انتخاب ایک نئے سیاسی دور کا آغاز ثابت ہو سکتے ہیں۔ رومین رادیف کی قیادت میں ملک میں اصلاحات، استحکام اور معاشی بحالی کی امیدیں وابستہ کی جا رہی ہیں، تاہم آنے والے مہینے یہ طے کریں گے کہ آیا وہ اپنے وعدوں کو عملی جامہ پہنا پاتے ہیں یا نہیں۔
یہ واضح ہے کہ عوام نے تبدیلی کے حق میں فیصلہ دے دیا ہے، اور اب نظریں نئی حکومت کی کارکردگی پر مرکوز ہیں۔



