مشرق وسطیٰتازہ ترین

مذاکرات محاصرے کے خاتمے سے مشروط… "ہم دشمن پر بھروسا نہیں کرتے”: قالیباف

لفظی گولہ باری میں یہ تیزی امریکی افواج کی جانب سے "توسکا" نامی ایرانی مال بردار جہاز کو قبضے میں لینے کے بعد آئی ہے۔

www.vogurdunews.de

ایران اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں سیاسی تناؤ کی حالیہ لہر کے دوران، ایرانی چیف مذاکرات کار اور اسپیکر پارلیمنٹ محمد باقر قاليباف نے واضح کیا ہے کہ ان کا ملک "دشمن پر بھروسہ نہیں کرتا کیونکہ وہ کسی بھی لمحے جنگ کو تیز کر سکتا ہے”۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران "مذاکرات کر رہا ہے لیکن وہ ضروری اقدامات کرنے کے لیے بھی تیار ہے”، تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔ حسبِ روایت ایرانی ذرائع ابلاغ نے آج پیر کو یہ رپورٹ جاری کی ہے۔

امریکی محاصرے کا خاتمہ

اسی دوران پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے مذاکرات کو ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری محاصرے کے خاتمے سے مشروط کر دیا۔ انہوں نے اتوار کو رات گئے "ایکس” (ٹویٹر) پر اپنے اکاؤنٹ میں کہا کہ "واشنگٹن کے ساتھ اختلافات کے نکات اس وقت تک برقرار رہیں گے جب تک بحری محاصرہ جاری ہے”۔

انہوں نے مزید لکھا "آپ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی، محاصرے میں سختی، ایران کو مزید جنگی جرائم کی دھمکی دینے، اپنے غیر منطقی مطالبات پر اصرار، بے سود بیانات کے ذریعے دوسروں کی توہین کرنے اور سفارت کاری کا ڈھونگ رچانے کا سلسلہ جاری نہیں رکھ سکتے”۔

لفظی گولہ باری میں یہ تیزی امریکی افواج کی جانب سے "توسکا” نامی ایرانی مال بردار جہاز کو قبضے میں لینے کے بعد آئی ہے۔

یہ پیش رفت ایرانی اسپیکر پارلیمنٹ کے بیان کے بعد سامنے آئی ہے، جنہوں نے گذشتہ ہفتے اسلام آباد میں ایرانی مذاکراتی ٹیم کی قیادت کی تھی۔ قالیباف نے ہفتے کے روز تصدیق کی تھی کہ دونوں فریقوں نے پیش رفت کی ہے لیکن ایٹمی مسائل اور آبنائے ہرمز کے بارے میں کسی معاہدے تک پہنچنے سے ابھی دور ہیں۔

منصفانہ اور معقول پیشکش۔۔۔ یا تباہی

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کل اتوار کو اس بات پر زور دیا کہ یہ تہران کے لیے آخری موقع ہے۔ ٹرمپ انہوں نے اسے "امریکی پیشکش” قبول کرنے کی ترغیب دی جسے انہوں نے منصفانہ اور معقول قرار دیا۔ انہوں نے دھمکی دی کہ اگر کوئی معاہدہ نہ ہوا تو ایران، اس کے تمام پلوں اور بجلی گھروں کو تباہ کر دیا جائے گا۔

تاہم امریکی صدر نے ساتھ ہی دونوں ممالک کے درمیان امن معاہدے تک پہنچنے کے حوالے سے امید کا دروازہ بند نہیں کیا۔ انہوں نے تصدیق کی کہ ان کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور داماد جیرڈ کشنر کی سربراہی میں ایک امریکی وفد آج شام اسلام آباد روانہ ہوگا، جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کی توقع ہے۔

دوسری طرف تہران نے اپنا وفد نہ بھیجنے کے احتمال کی طرف اشارہ کیا ہے، حالانکہ با خبر پاکستانی ذرائع نے بتایا ہے کہ ایرانی مذاکراتی وفد کل بروز منگل پہنچ جائے گا۔ توقع ہے کہ مذاکرات اسی روز یا آئندہ بدھ کو ہوں گے۔

اسرائیل میں جنگ کی واپسی کے امکان کے پیش نظر بے چینی اور فوجی الرٹ کی فضا برقرار ہے۔ اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کل شام اس بات پر زور دیا کہ ایران کے ساتھ محاذ آرائی ابھی ختم نہیں ہوئی، انہوں نے کسی بھی لمحے نئی پیش رفت کے امکان کی طرف اشارہ کیا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button