
عالمی سفارتکاری میں تناؤ: ایران کی اسلام آباد مذاکرات میں شرکت کی خبروں کی تردید، امریکہ پر پروپیگنڈا کا الزام
ایران نے خاص طور پر اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے نام نہاد بحری محاصرہ، جسے تہران نے کھلی جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا ہے، خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا رہا ہے
ایران نے اسلام آباد میں مجوزہ مذاکرات کے دوسرے دور میں اپنی شرکت سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے اور انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے۔ ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق، یہ دعوے کہ تہران اس مذاکراتی عمل میں شامل ہو رہا ہے، حقیقت کے منافی ہیں اور ان کا مقصد گمراہ کن فضا پیدا کرنا ہے۔
ذرائع کے مطابق، ایران نے واضح کیا ہے کہ موجودہ حالات میں مذاکرات میں شمولیت اس کے مفادات کے مطابق نہیں، خاص طور پر اس وقت جب امریکہ کی جانب سے غیر متوازن، غیر منطقی اور مسلسل بدلتے ہوئے مطالبات سامنے آ رہے ہیں۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی موقف میں تسلسل کی کمی، متضاد بیانات اور دباؤ پر مبنی حکمت عملی نے اعتماد کی فضا کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
ایران نے خاص طور پر اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے نام نہاد بحری محاصرہ، جسے تہران نے کھلی جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا ہے، خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا رہا ہے۔ ایرانی مؤقف کے مطابق، ایسے اقدامات نہ صرف بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہیں بلکہ کسی بھی تعمیری مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہیں۔
ایرانی ذرائع نے مزید کہا کہ امریکہ کی جانب سے میڈیا میں پھیلائی جانے والی خبریں دراصل ایک منظم پروپیگنڈا مہم کا حصہ ہیں، جس کا مقصد ایران کو عالمی سطح پر تنقید کا نشانہ بنانا اور اس پر سفارتی دباؤ بڑھانا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی ایسے عمل کا حصہ نہیں بنے گا جو یکطرفہ شرائط اور دباؤ پر مبنی ہو۔
واضح رہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے مجوزہ مذاکرات کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ایک اہم کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا تھا، تاہم ایران کی عدم شمولیت کے بعد ان مذاکرات کے مستقبل پر سوالیہ نشان کھڑا ہو گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، جب تک فریقین کے درمیان اعتماد سازی اور شفافیت کو یقینی نہیں بنایا جاتا، اس نوعیت کی سفارتی کوششیں خاطر خواہ نتائج دینے میں ناکام رہیں گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام متعلقہ فریقین کشیدگی کم کرنے، باہمی احترام کو فروغ دینے اور حقیقت پسندانہ مطالبات کے ساتھ مذاکرات کی میز پر آئیں تاکہ خطے میں پائیدار امن کی راہ ہموار ہو سکے۔




