پاکستانتازہ ترین

خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی بڑی کارروائیاں، بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج کے 13 دہشت گرد ہلاک

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائیاں صوبے کے پانچ مختلف مقامات پر کی گئیں جہاں دہشت گردوں کی موجودگی کی مصدقہ اطلاعات پر فورسز نے فوری کارروائی کی

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز،سیکورٹی فورسز کے ساتھ

پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے 6 اور 7 مارچ کو خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں انتہائی مؤثر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کرتے ہوئے بھارتی پراکسی تنظیم فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 13 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ یہ کارروائیاں ملک میں جاری انسداد دہشت گردی مہم کے تسلسل کا حصہ تھیں جن کا مقصد علاقے کو دہشت گردی سے پاک کرنا اور سرحدی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائیاں صوبے کے پانچ مختلف مقامات پر کی گئیں جہاں دہشت گردوں کی موجودگی کی مصدقہ اطلاعات پر فورسز نے فوری کارروائی کی۔ آپریشنز کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں اور دہشت گردوں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجے میں متعدد دہشت گرد مارے گئے جبکہ ان کے ٹھکانوں سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔

باجوڑ میں بڑا آپریشن

ضلع باجوڑ میں انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر کیے گئے ایک اہم آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ایک ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا۔ کارروائی کے دوران شدید جھڑپ ہوئی جس کے نتیجے میں پانچ دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔ ذرائع کے مطابق مارے جانے والے دہشت گرد علاقے میں مختلف دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث تھے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب تھے۔

بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان میں مقابلے

اسی طرح بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان میں ہونے والی دو الگ الگ جھڑپوں کے دوران سیکیورٹی فورسز نے بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج کے تین دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ فورسز نے خفیہ اطلاعات پر کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو گھیرے میں لیا جس کے بعد فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور دہشت گرد مارے گئے۔

خیبر اور جنوبی وزیرستان میں مزید کامیابیاں

خیبر اور جنوبی وزیرستان کے اضلاع میں بھی سیکیورٹی فورسز نے دو مختلف مقامات پر کارروائیاں کیں۔ ان کارروائیوں کے دوران مزید پانچ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔ فورسز نے علاقے کو مکمل طور پر گھیرے میں لے کر دہشت گردوں کے فرار کے تمام راستے بند کر دیے جس کے باعث وہ سیکیورٹی اہلکاروں کا مقابلہ نہ کر سکے۔

اسلحہ اور گولہ بارود برآمد

کارروائیوں کے بعد مارے گئے دہشت گردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا گیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ دہشت گرد علاقے میں دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں میں سرگرم تھے اور سیکیورٹی فورسز و عام شہریوں کو نشانہ بنانے کے منصوبوں میں ملوث تھے۔

سرحدی چیلنجز اور سیکیورٹی اقدامات

سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں ایسے وقت میں کی جا رہی ہیں جب پاکستان کو افغانستان کے ساتھ سرحدی علاقوں میں ابھرتے ہوئے سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے۔ فورسز مسلسل ان خطرات کا مقابلہ کر رہی ہیں اور ملک کی سرحدوں کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار اور پرعزم ہیں۔

سینی ٹائزیشن آپریشن جاری

سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے وژن "عزمِ استحکام” کے تحت علاقے میں سینی ٹائزیشن آپریشن بھی جاری ہے۔ یہ مہم نیشنل ایکشن پلان کے تحت قائم وفاقی سپریم کمیٹی کی منظوری سے شروع کی گئی ہے جس کا مقصد ملک میں موجود دہشت گرد نیٹ ورکس کا مکمل خاتمہ ہے۔

حکام کے مطابق اس آپریشن کے دوران علاقے میں موجود کسی بھی بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد کو ختم کرنے کے لیے کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی تاکہ دہشت گردی کے خطرے کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے اور ملک میں پائیدار امن قائم ہو سکے۔

پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گی اور قومی سلامتی پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button