کالمزناصف اعوان

عوام کی بدلتی سوچ ؟…..ناصف اعوان

خیر کسی نہ کسی نے تو اٹھہتر برس کے بگاڑ کو ٹھیک کرنا ہی تھا رہی بات تخصیص و تفریق کی تو وہ بھی ختم ہو جائے گی حکومتوں کے لئے بڑے مسائل ہوتے ہیں جنہیں سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے

حکومت اٹھہتر برس پر محیط بگاڑ کو ٹھیک کرنے کے لئے قانون سازی کر رہی ہے مگر کچھ لوگ ایسا نہیں چاہتے لہذا وہ سخت بیزار نظر آتے ہیں وہ نئے قوانین کو غیر مناسب قرار دے رہے ہیں اس کی وجہ انہیں اپنی من مرضی کی عادت پڑ چکی ہے ۔انہوں نے اپنے اصول و قوانین وضع کر رکھے تھے لہذا اب جب موجودہ حکومت نے انہیں پابند کرنا چاہا ہے تو یہ اقدام ان پر گراں گزر رہا ہے اور وہ مزاحمت پر اتر آئے ہیں مگر اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ سرکار بڑی طاقتور ہوتی ہے وہ جب اپنی آئی پر آتی ہے تو پھر اس کے سامنے کوئی نہیں ٹھہرتا لہذا ابھی وہ ایسے مزاحمتی اور بگڑے لوگوں کو سمجھا رہی ہے کہ وہ قوانین کی پابندی کریں بصورت دیگر انہیں سزائیں بھی ہو سکتی ہیں مگر دیکھنا یہ بھی ہے کہ کیا حکومت اس امر کا جائزہ لے رہی ہے کہ جو لوگ قوانین کی پاسداری نہیں کرتے اس کی وجوہات کیا ہیں۔ لگتا ہے حکومتی سطح پرکوئی غورنہیں کیا جارہا اس حوالے سے کوئی تھنک ٹینک بھی موجود نہیں جو بنیادی اسباب کو جان کر انہیں دور کرنے سے متعلق حکومت کو تجاویز دے ۔
بہرحال قانون کی عمل داری ضروری ہے کیونکہ حالات کیسے بھی ہوں جب تک قانون کی حکمرانی قائم نہیں ہوتی معاشرتی سدھار ممکن نہیں مگر قانون کا نفاذ صرف عوامی سطح پر نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اوپری طبقہ اکثر اس کی زد سے بچ نکلتا ہے شاید ایک وجہ یہ بھی ہو کہ جو لوگ قوانین کا احترام نہیں کرتے لہذا قانون پر عمل درآمد کروانے والے اداروں یا محکموں کو عوام کی طرف سے معمولی و غیر معمولی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کہ جب وہ ایک طویل مدت سے اپنی مرضی کرتے چلے آرہے تھے انہیں روکنے والا کوئی نہیں تھا۔ تھا بھی تو اس کی جیب گرم کر دی جاتی اور وہ منہ دوسری جانب پھیرتے ہوئے آگے بڑھ جاتا اب حکومت نے باقاعدہ فورسز تشکیل دے دی ہیں جن کا کام ہی لوگوں کو سیدھا کرنا ہے تو وہ حیران بھی ہیں اور پریشان بھی۔ہمارے دوست جاوید خیالوی کے مطابق ”حکومت پہلے خود سے آغاز کرے ان میں شامل لوگ تو قانون کی حکمرانی نہیں چاہتے وہ توجو جی میں آتا ہے کرتے ہیں انہیں تو سڑک پر کسی اشارہ کی خلاف ورزی پر ٹریفک پولیس کا اہلکار روک لے تو وہ آپے سے باہر ہو جاتے ہیں کہ تمھاری یہ جرآت کہ تو ہمیں روکے وہ انہیں جتنے بھی قوانین بتائے اور کہے کہ یہ انہوں نے ہی بنائے ہیں تب بھی وہ نہیں مانتے اور اگلے روز ایوان میں تحریک استحقاق پیش کر دیتے ہیں لہذا قانون کی حکمرانی کا خواب کیسے پورا ہو سکتا ہے اسے تو عوام کو دبانا کہا جائے گا کہ وہ ڈرے سہمے رہیں مزید روزی روٹی کے چکر میں پڑے رہیں تاکہ وہ ان کی شاہانہ طرز زندگی کے بارے میں غور و فکر نہ کریں اور اگر سوچیں بھی تو انہیں اپنے ”قانونی“ محکموں کے ذریعے خاموش کرا دیا جائے “
ہمیں اس سے تھوڑا سا اتفاق بھی ہے مگر سو فیصد ہر گز نہیں کیونکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ ناجائز تجاوزات کے حوالے سے جو فورس تیار کی گئی ہے وہ جب بلڈوزر چلاتی ہے تو وہ کسی ایم این اے یا ایم پی اے کو نہیں دیکھتی اور ناجائز تجاوزات کو ہٹا دیتی ہے مگر یہ بھی ہے کہ بعض جگہوں پر انہیں استثناء بھی حاصل ہوا ہے لہذا جب یہ دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ماڑے لوگوں کو کیوں تنگ کیا جا رہا ہے ؟
خیر کسی نہ کسی نے تو اٹھہتر برس کے بگاڑ کو ٹھیک کرنا ہی تھا رہی بات تخصیص و تفریق کی تو وہ بھی ختم ہو جائے گی حکومتوں کے لئے بڑے مسائل ہوتے ہیں جنہیں سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو حکومتی لوگ آج شتر بے مہار ہیں تو کل وہ ضرور پابند ہوں گے۔ ہم یہاں یہ عرض کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ قواعد و ضوابط جن سے غریب آدمی کی زندگی پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہوں ان پر نظر ثانی ہونی چاہیے کیونکہ اچانک کسی کے رزق کا چِھن جانا اس کے لئے کسی زلزلہ سے کم نہیں ہوتا لہذا جتنی بھی قوانین بنائے جارہے ہیں ان میں عوام کی بہتری ہی ہونی چاہیے کیونکہ وہ ہوتے ہی اس لئے ہیں اگر ان میں اذیت کا پہلو موجود ہو تو پھر وہ مشکوک ہو جاتے ہیں۔ ”سماجی سائنس کے ماہرین کہتے ہیں کہ ”کسی بھی معاشرے کو قانون کا پابند بنانے کے لئے لازمی ہوتا ہے کہ اسے زندگی کی بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں کہ ریاست ہر شہری کو تعلیم صحت اور روزگار دینے کی ذمہ دار ہوتی ہے سستا انصاف فراہم کرنا بھی اس کے فرائض میں شامل ہوتا ہے لہذا جب تک انہیں لوازمات زندگی نہیں دئیے جاتے وہ قانون کا احترام کرنا نہیں سیکھتے جو ہمیں دکھائی دیتا ہے کہ وہ اس کے آگے جھک گئے ہیں تو ایسا محض ڈر اور خوف کی وجہ سے ہوتا ہے جس کا ردعمل جلد یا بدیر ظاہر بھی ہو جاتا ہے اس لئے ریاست ذرائع پیداوار کا انتظام کرے انصاف کی فراہمی کو ممکن بنائے تعلیم و صحت کی سہولت مفت دینے کا انتظام کرے جہاں یہ سب ہوتا ہے وہاں شہری خوش دلی سے قوانین پر عمل کرتے ہیں “
بالکل ایسا ہونا چاہیے مگر یہاں تو آئے روز کوئی نہ کوئی نیا ٹیکس لگا دیا جاتا ہے مہنگائی کا طوفان برپا رہتا ہے۔ ملاوٹ عام ہے جسے روکنے والا کوئی نہیں متعلقہ محکمہ بس درشنی پہلوان ہے منتھلیاں لیتا ہے اور سویا رہتا ہے وگرنہ جس طرح ان دنوں کچھ محکمے فعال ہیں اسے بھی ہونا چاہیے مگر نہیں لہذا ملاوٹ کا زہر لوگوں کی رگوں میں اتر کر ان کی توانائی سلب کر رہا ہے۔ یہی چیز اگر کسی مغربی یورپی یا کسی دوسرے ترقی یافتہ ملک میں ہو تو وہ ملاوٹ کرنے والے کو پھانسی دے دے۔ بجلی گیس اور پٹرول کی قیمتیں بھی آنکھیں بند کرکے بڑھائی جاتی ہیں کہ ایسا کرنے کو آئی ایم ایف کہتا ہے وہ اشرافیہ کے اخراجات میں کمی کرنے کو کیوں نہیں کہتا اور ان کی جائیدادوں اور بنک بیلنسوں کا کیوں نہیں پوچھتا کہ یہ کہاں سے آئے ؟
سب باتیں عوام کو بیوقوف بنانے کی ہیں وہ سوال اٹھاتے ہیں تو انہیں جاہل کم علم کہا جاتا ہے پٹرول کی عالمی قیمت میں اضافہ ہو نہ ہو یہاں ہو جاتا ہے ظاہر ہے اس کی بنا پر ہر چیز کی قیمت بڑھ جاتی ہے پھر سرکاری اہلکار کارروائی ڈالنے کے لئے سرکاری نرخ مقرر کرتے ہیں جن پر شاید ہی کبھی عمل ہوا ہو گا
ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ
اس کے باوجود عوام کو اپنا طرز حیات تبدیل کرنا ہو گا وہ جب ایک اچھا تاثر ابھاریں گے تو پھر وہ منطقی اعتبار سے سوال کرنے کے اہل بھی قرار پائیں گے لہذا انہیں مزاحمت نہیں مفاہمت کی طرف آنا چاہیے اس وقت ہماری معیشت کا بھٹہ بیٹھ چکا ہے ملکی خزانہ میں سوائے قرضوں کی رقم کے اور کچھ نہیں جنہیں عوام نے ہی ادا کرنا ہے۔ وہ روئیں یا ہنسیں کوڑا گُھٹ ان کو بھرنا ہی پڑے گا لہذا حکمت و دانائی سے کام لیا جائے تو کوئی راحت کا سامان میسرآ سکتا ہے ۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button