
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
صدرِ پاکستان نے پاک فوج، پاک بحریہ اور پاک فضائیہ کے افسران و جوانوں کو مختلف ملٹری اعزازات سے نوازنے پر گہری خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ ان اعزازات کا اعلان ملک کے دفاع اور سلامتی کے لیے غیر معمولی خدمات، بہادری اور قربانیوں کے اعتراف میں کیا گیا۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق مجموعی طور پر 11 ستارۂ بسالت، 475 تمغۂ بسالت، 130 امتیازی اسناد، 378 چیف آف آرمی اسٹاف تعریفی کارڈز، 23 ہلالِ امتیاز (ملٹری)، 100 ستارۂ امتیاز (ملٹری) اور 136 دیگر امتیازی اعزازات عطا کیے گئے۔
ستارۂ بسالت حاصل کرنے والے افسران و جوان
ستارۂ بسالت پانے والوں میں نمایاں ناموں میں میجر کامل حسین، میجر سبطین حیدر (شہید)، میجر حمزہ اسرار (شہید)، میجر عدنان اسلم (شہید)، کیپٹن حسنین اختر (شہید) شامل ہیں۔
اسی طرح دیگر بہادر جوانوں میں حوالدار علی بلاول (شہید)، نائیک بخت زمین، نائیک بخت الرحمن (شہید)، اور سپاہی ثقلین حکم داد (شہید) شامل ہیں۔
پاک بحریہ سے ریئر ایڈمرل محمد سہیل ارشد اور ریئر ایڈمرل مظہر محمود ملک کو بھی ان کی نمایاں خدمات پر ستارۂ بسالت سے نوازا گیا۔
تمغۂ بسالت حاصل کرنے والے افسران و جوان
تمغۂ بسالت حاصل کرنے والوں کی فہرست خاصی طویل ہے، جس میں لیفٹیننٹ کرنل محمد سیف اللہ بیگ، میجر سید معیز عباس شاہ (شہید)، میجر محمد شبیر، میجر دانیال تنویر راجہ، اور میجر محمد اویس (شہید) شامل ہیں۔
کیپٹن رینک کے افسران میں کیپٹن محمد علی قریشی (شہید)، کیپٹن محمد ارشاد، کیپٹن خرم شہزاد، کیپٹن عزیر محمود ملک (شہید)، اور کیپٹن محمد زوہیب الدین (شہید) شامل ہیں۔
لیفٹیننٹس، صوبیدارز، نائب صوبیدارز اور دیگر جونیئر کمیشنڈ افسران میں بھی بڑی تعداد نے یہ اعزاز حاصل کیا، جن میں کئی شہداء شامل ہیں جنہوں نے وطن کے دفاع میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
جوانوں کی قربانیاں اور خدمات
تمغۂ بسالت حاصل کرنے والے سپاہیوں، حوالداروں اور نائیکوں کی ایک بڑی تعداد کا تعلق فرنٹیئر کور، ناردرن لائٹ انفنٹری، پنجاب رجمنٹ، سندھ رجمنٹ اور دیگر یونٹس سے ہے۔ ان میں سے متعدد جوان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں۔
نمایاں ناموں میں حوالدار شوکت علی (شہید)، حوالدار سعید اقبال (شہید)، حوالدار یاسر خان (شہید)، حوالدار عمران نواز (شہید)، نائیک محمد پرویز (شہید)، اور نائیک خرم شہزاد (شہید) شامل ہیں۔
صدرِ پاکستان کا پیغام
صدرِ پاکستان نے اپنے پیغام میں کہا کہ قوم اپنے بہادر سپاہیوں اور افسران کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی۔ انہوں نے شہداء کے اہلِ خانہ کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پیاروں کی قربانیاں ملک کی سلامتی اور بقاء کی ضمانت ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ اعزازات نہ صرف انفرادی بہادری کا اعتراف ہیں بلکہ پوری قوم کے لیے فخر کا باعث ہیں۔
قومی سطح پر خراجِ تحسین
ملک بھر میں ان اعزازات کے اعلان کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ افواجِ پاکستان کے جوانوں کی قربانیاں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سنگِ میل ثابت ہوئی ہیں۔
یہ اعزازات اس عزم کی تجدید ہیں کہ پاکستان کی مسلح افواج ہر قسم کے خطرات سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں اور قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے۔



