یورینیم افزودگی جاری رکھنے پر ایرانی حکومت کے اصرار نے ملک کو سخت اقتصادی پابندیوں کی زد میں رکھا، جبکہ بعض اندازوں کے مطابق اس سے ایران کو تقریباً 3.5 کھرب ڈالر کا براہِ راست معاشی نقصان پہنچا۔
تہران اور واشنگٹن کے درمیان حالیہ فوجی کشیدگی اور نازک جنگ بندی کے دوران ایران کا جوہری پروگرام ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ امریکہ خاص طور پر ایرانی افزودہ یورینیم کے ذخیرے پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
خیال کیا جاتا ہے کہ ایران کے پاس 60 فیصد تک افزودہ کیا گیا 440 کلوگرام سے زیادہ یورینیم موجود ہے، جو سول مقاصد کے لیے درکار مقدار سے کہیں زیادہ ہے۔ ماہرین کے مطابق اسے نسبتاً کم وقت میں 90 فیصد تک افزودہ کر کے جوہری ہتھیاروں کے لیے قابلِ استعمال بنایا جا سکتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ برس جون میں ایران کی جوہری تنصیبات پر حملوں کے بعد اس مواد کو "جوہری گرد” قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی کارروائی نے ایران کے جوہری پروگرام کو تباہ کر دیا ہے۔ ٹرمپ کئی بار کہہ چکے ہیں کہ امریکہ اس مواد کو اپنی تحویل میں لے گا، تاہم اس حوالے سے ان کے بیانات متضاد رہے ہیں۔
دوسری جانب ایران نے تاحال کسی ایسے معاہدے کی تصدیق نہیں کی جس میں افزودہ یورینیم حوالے کرنے کی بات شامل ہو۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ یہ مواد اب بھی ملبے تلے موجود ہے اور ایران کے پاس اسے نکالنے کا کوئی منصوبہ نہیں۔
تاہم بعض اطلاعات کے مطابق ایران اپنے ذخیرے کا کچھ حصہ کم افزودہ کرنے اور باقی کسی تیسرے ملک منتقل کرنے پر آمادہ ہو سکتا ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے بھی عندیہ دیا ہے کہ روس ایران کا افزودہ یورینیم محفوظ رکھنے کے لیے تیار ہے۔
افزودہ یورینیم ہے کہاں؟
ماہرین کے مطابق اصل سوال یہ ہے کہ یہ مواد اس وقت کہاں موجود ہے اور اسے محفوظ طریقے سے منتقل کرنا کس حد تک ممکن ہے۔ ایران کی تین بڑی جوہری تنصیبات اصفہان، فردو اور نطنز کو گزشتہ برس شدید امریکی اور اسرائیلی حملوں میں نقصان پہنچا تھا۔
بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے سربراہ رافائل گروسی کے مطابق زیادہ تر افزودہ یورینیم ممکنہ طور پر اصفہان کے جوہری کمپلیکس میں موجود ہے۔ ان کے بقول جون 2025 میں جنگ شروع ہونے سے چند روز قبل 18 نیلے کنٹینرز، جن میں تقریباً 200 کلوگرام افزودہ یورینیم تھا، اصفہان کے ایک زیرِ زمین سرنگوں والے حصے میں منتقل کیے گئے تھے۔
کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ جورہی مواد اب فردو یا بوشہر کے جوہری پلانٹ میں بھی موجود ہو سکتا ہے۔

افزودہ یورینیم کی مشروط منتقلی ممکن
جرمنی کے انسداد تابکاری کے ماہر رولینڈ وولف کے مطابق سخت بین الاقوامی نگرانی میں اس مواد کو ایران سے نکالنا تکنیکی طور پر ممکن ہے، تاہم اس کے لیے انتہائی سخت حفاظتی اقدامات درکار ہوں گے، خاص طور پر اس لیے کہ ایران افزودہ یورینیم کو زیرِ زمین محفوظ رکھتا ہے۔
امریکہ کے سابق قومی سلامتی مشیر جان بولٹن نے اس معاملے کا موازنہ 2003 اور 2004 میں لیبیا کے جوہری پروگرام کے خاتمے سے کیا ہے، جب امریکی اور برطانوی حکام نے وہاں موجود جوہری مواد ہٹا کر امریکہ منتقل کر دیا تھا۔ ان کے مطابق ایران کا پروگرام کہیں زیادہ وسیع اور پیچیدہ ہے، اس لیے اس عمل میں زیادہ وقت درکار ہو گا۔
بولٹن نے کہا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ افزودہ یورینیم یا جوہری پروگرام کے دیگر حصے دہشت گرد گروہوں یا "باغی ریاستوں” کے ہاتھ نہ لگیں۔
انہوں نے ایرانی قیادت کے نظریات کو "انتہا پسندانہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کا واحد راستہ موجودہ نظام اور پاسدارانِ انقلاب کے اثر و رسوخ کا خاتمہ ہے۔


