مدثر احمد-امریکہ،وائس آف جرمنی اردو نیوز
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے معاملے پر انہیں چین کی مدد کی ضرورت نہیں، تاہم وہ اپنے دورۂ بیجنگ کے دوران چینی صدر شی جن پنگ سے اس موضوع پر تفصیلی بات چیت ضرور کریں گے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق وائٹ ہاؤس سے چین روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ایران کے معاملے میں مکمل برتری رکھتا ہے اور واشنگٹن اس تنازع میں ’’ایک یا دوسرے طریقے سے کامیاب ہو جائے گا۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’میرا نہیں خیال کہ ہمیں ایران کے معاملے پر کسی مدد کی ضرورت ہے۔ ہم یہ جنگ جیت لیں گے، چاہے وہ پرامن انداز میں ہو یا کسی اور طریقے سے۔‘‘
صدر ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے جبکہ جنگ بندی اور سفارتی حل کی کوششیں تاحال کسی واضح نتیجے تک نہیں پہنچ سکیں۔
صحافیوں سے گفتگو کے دوران ایک رپورٹر نے سوال کیا کہ کیا امریکہ ایک مرتبہ پھر پاکستان کو ثالثی کے عمل میں شامل کرنے پر غور کر رہا ہے؟ اس پر صدر ٹرمپ نے پاکستان کی قیادت کی تعریف کرتے ہوئے کہا، ’’نہیں، لیکن وہ بہترین لوگ ہیں۔ پاکستان کے فیلڈ مارشل اور وزیر اعظم بالکل زبردست رہے ہیں۔‘‘
امریکی صدر نے اگرچہ پاکستان کے ممکنہ کردار کی تفصیلات بیان نہیں کیں، تاہم ان کے بیان کو خطے میں پاکستان کی سفارتی اہمیت کے اعتراف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان ماضی میں بھی ایران اور مغربی ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے مختلف سفارتی رابطوں میں کردار ادا کرتا رہا ہے، جبکہ حالیہ مہینوں میں اسلام آباد نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر متوازن مؤقف اختیار کیا ہے۔
صدر ٹرمپ کا دورۂ چین اس اعتبار سے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے کہ دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے سربراہان کے درمیان یہ چھ ماہ سے زائد عرصے کے بعد پہلی بالمشافہ ملاقات ہوگی۔
یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب امریکہ اور چین کے تعلقات کئی اہم معاملات پر شدید تناؤ کا شکار ہیں۔ ان معاملات میں تجارتی تنازعات، ٹیکنالوجی پر پابندیاں، تائیوان کا مسئلہ، بحیرہ جنوبی چین کی صورتحال اور ایران کے حوالے سے پالیسی اختلافات شامل ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ایران کے مسئلے پر چین کا کردار انتہائی اہمیت اختیار کر چکا ہے کیونکہ بیجنگ کے تہران کے ساتھ قریبی اقتصادی اور سفارتی تعلقات موجود ہیں۔ چین نہ صرف ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار تصور کیا جاتا ہے بلکہ وہ ایران کے لیے عالمی سطح پر ایک اہم سفارتی سہارا بھی سمجھا جاتا ہے۔
صدر ٹرمپ گزشتہ کئی ہفتوں سے چین پر زور دیتے رہے ہیں کہ وہ تہران پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے تاکہ ایران کو واشنگٹن کے ساتھ کسی ممکنہ معاہدے پر آمادہ کیا جا سکے۔ امریکی حکام کے مطابق خطے میں جاری کشیدگی کا آغاز فروری کے اواخر میں ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد مزید شدت اختیار کر گیا تھا۔
امریکی صدر بدھ کے روز بیجنگ پہنچیں گے جبکہ جمعرات اور جمعے کو اعلیٰ سطحی مذاکرات طے پائے ہیں۔ سنہ 2017 کے بعد یہ ڈونلڈ ٹرمپ کا پہلا دورۂ چین ہوگا، جسے دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
بعد ازاں ایک اور سوال کے جواب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کے پاس چین کے ساتھ گفتگو کے لیے کئی اہم موضوعات موجود ہیں، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایران ان مذاکرات کا مرکزی نکتہ نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہا، ’’ہمارے پاس بات کرنے کے لیے بہت سی چیزیں ہیں، لیکن سچ کہوں تو میں یہ نہیں کہوں گا کہ ایران ان میں شامل ہے، کیونکہ ایران پر ہمارا مکمل کنٹرول ہے۔‘‘
تجزیہ کاروں کے مطابق صدر ٹرمپ کا یہ مؤقف اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ واشنگٹن ایران کے معاملے میں اپنی عسکری اور سفارتی پوزیشن کو مضبوط سمجھتا ہے، تاہم چین کے ساتھ جاری رابطے اس بحران کے ممکنہ سیاسی حل کے لیے اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔

