
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
پاکستان کے خلاف سوشل میڈیا پر چلائی جانے والی ایک منظم اور مربوط جھوٹے پراپیگنڈے کی مہم بے نقاب ہو گئی ہے، جس میں جعلی بیانات، من گھڑت خبروں اور گمراہ کن دعوؤں کے ذریعے عوام میں اشتعال اور غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔
حکام کے مطابق یہ مہم نہ صرف پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لیے چلائی جا رہی تھی بلکہ اس کا مقصد حساس علاقائی معاملات میں کشیدگی کو بڑھانا بھی تھا۔
جعلی ٹویٹس اور گمراہ کن بیانات
تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ سوشل میڈیا پر ایک جعلی ٹویٹ گردش کر رہی تھی جسے ڈونلڈ ٹرمپ سے منسوب کیا گیا۔ اس ٹویٹ میں ایرانی تحفے سے متعلق ایک بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا، جس کی بنیاد پر بے بنیاد تجزیے اور دعوے سامنے آئے۔
حکام نے واضح کیا کہ مذکورہ ٹویٹ کا کوئی مستند ثبوت موجود نہیں اور یہ مکمل طور پر جعلی مواد پر مبنی ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ سے منسوب جھوٹا بیان
اسی مہم کے تحت ایک اور جعلی خبر بھی سامنے آئی جس میں عباس عراقچی سے منسوب کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا گیا کہ انہوں نے پاکستان پر "سرخ لکیر عبور” کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اس بیان کی نہ تو کسی سرکاری سطح پر تصدیق ہوئی اور نہ ہی ایرانی حکام کی جانب سے ایسا کوئی بیان جاری کیا گیا۔ اس خبر کو دانستہ طور پر پھیلایا گیا تاکہ پاکستان اور ایران کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کی جا سکیں۔
آبنائے ہرمز سے متعلق جھوٹے دعوے
جعلی خبروں میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ آبنائے ہرمز سے پاکستانی پرچم بردار تیل بردار جہازوں کے گزرنے پر ایران نے اسے "غداری” قرار دیا ہے۔
حکام نے اس دعوے کو بھی مکمل طور پر بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے ایران کی طرف سے کوئی سرکاری بیان جاری نہیں ہوا۔ ماہرین کے مطابق اس قسم کی خبریں حساس جغرافیائی اور معاشی معاملات کو متنازع بنانے کی کوشش ہیں۔
منظم مہم کے مقاصد
سیکیورٹی اور میڈیا ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی جھوٹی مہمات کے پیچھے کئی مقاصد ہو سکتے ہیں، جن میں شامل ہیں:
- عوام میں خوف اور بے چینی پھیلانا
- ریاستی اداروں پر اعتماد کو کمزور کرنا
- پاکستان کے بین الاقوامی تعلقات کو متاثر کرنا
- علاقائی کشیدگی کو ہوا دینا
ماہرین کے مطابق جدید دور میں "اطلاعاتی جنگ” (Information Warfare) ایک اہم ہتھیار بن چکی ہے، جس کے ذریعے بغیر کسی روایتی جنگ کے بھی ممالک کو نقصان پہنچایا جا سکتا ہے۔
عوام کے لیے احتیاطی ہدایات
حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ:
- غیر مصدقہ خبروں پر یقین نہ کریں
- کسی بھی معلومات کو شیئر کرنے سے پہلے اس کی تصدیق کریں
- مستند ذرائع اور سرکاری بیانات پر انحصار کریں
- سوشل میڈیا کے ذمہ دارانہ استعمال کو فروغ دیں
ڈیجیٹل دور میں ذمہ داری کی ضرورت
ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کی تیز رفتار دنیا میں جھوٹی خبر چند لمحوں میں لاکھوں افراد تک پہنچ سکتی ہے، جس کے اثرات نہایت خطرناک ہو سکتے ہیں۔ اس لیے ہر صارف کی ذمہ داری ہے کہ وہ معلومات کو پرکھے بغیر آگے نہ بڑھائے۔
نتیجہ: قومی بیانیے کا تحفظ ضروری
پاکستان کے خلاف اس منظم پراپیگنڈا مہم کے بے نقاب ہونے سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ ملک کو نہ صرف زمینی بلکہ ڈیجیٹل محاذ پر بھی چیلنجز کا سامنا ہے۔ ایسے میں قومی یکجہتی، ذمہ دارانہ صحافت اور عوامی شعور ہی اس قسم کی مہمات کا مؤثر جواب ثابت ہو سکتے ہیں۔


