پاکستان پریس ریلیزتازہ ترین

آزاد کشمیر کی سیاست میں ہلچل، مہاجر ایکشن کمیٹی کے قیام سے نئی صف بندیاں شروع

اسلم ندار سلہری نے عندیہ دیا ہے کہ آنے والے چند دنوں میں مہاجر ایکشن کمیٹی اپنی مکمل تنظیمی ساخت، پالیسی اور آئندہ کے لائحہ عمل کا باضابطہ اعلان کرے گی

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
آزاد کشمیر کی سیاست میں مہاجرین کی نشستوں کے معاملے نے سنگین صورتحال اختیار کرلی ہے جہاں عوامی ایکشن کمیٹی اور پاکستان میں مقیم مہاجرین کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ اس تناظر میں مہاجر رہنماؤں نے باقاعدہ طور پر “مہاجر ایکشن کمیٹی” کے قیام کا اعلان کردیا ہے جس کے بعد سیاسی حلقوں میں نئی بحث اور صف بندی کا آغاز ہوگیا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق مہاجر ایکشن کمیٹی کا قیام دراصل عوامی ایکشن کمیٹی کے مؤقف کے ردعمل کے طور پر سامنے آیا ہے۔ اس پیش رفت نے آزاد کشمیر کی سیاسی فضا میں ایک نئی کشیدگی پیدا کردی ہے جبکہ مختلف سیاسی و سماجی حلقے اس صورتحال کو نہایت حساس قرار دے رہے ہیں۔
مہاجر رہنما اسلم ندار سلہری کی قیادت میں شروع ہونے والی اس تحریک نے مختصر وقت میں سیاسی توجہ حاصل کرنا شروع کردی ہے۔ ذرائع کے مطابق اسلم ندار سلہری نے مختلف شہروں اور علاقوں میں عوامی رابطہ مہم تیز کردی ہے جہاں وہ مہاجرین، سیاسی کارکنوں اور مختلف عوامی حلقوں سے ملاقاتیں کررہے ہیں۔ ان ملاقاتوں میں مہاجرین کے سیاسی مستقبل، حق نمائندگی، شناخت اور آئندہ کی حکمت عملی پر تفصیلی مشاورت جاری ہے۔
اسلم ندار سلہری نے عندیہ دیا ہے کہ آنے والے چند دنوں میں مہاجر ایکشن کمیٹی اپنی مکمل تنظیمی ساخت، پالیسی اور آئندہ کے لائحہ عمل کا باضابطہ اعلان کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تحریک کسی ایک فرد یا جماعت کی نہیں بلکہ لاکھوں مہاجرین کے مستقبل اور سیاسی بقا کی جنگ ہے۔
انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ “میں سب سے پہلے مہاجر ہوں اور بعد میں پاکستان پیپلزپارٹی کا جیالا۔ مہاجرین کے حقوق کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔” ان کا کہنا تھا کہ سیاسی وابستگیاں اپنی جگہ مگر مہاجرین کے حق نمائندگی، شناخت اور سیاسی وجود پر کوئی سودا ہرگز قبول نہیں ہوگا۔
انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں سے وابستہ مہاجرین سے اپیل کی کہ وہ جماعتی اختلافات سے بالاتر ہوکر مہاجرین کے نکاتی ایجنڈے پر متحد ہوجائیں۔ ان کے مطابق مہاجر نشستوں میں اضافے کی گنجائش موجود ہے تاہم ان نشستوں میں کمی کسی صورت قابل قبول نہیں ہوگی۔
اسلم ندار سلہری نے مزید کہا کہ مہاجرین کی نشستوں پر حملہ دراصل کشمیر کاز پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ لاکھوں مہاجرین نے اپنے گھر بار، زمینیں اور کاروبار چھوڑ کر پاکستان ہجرت کی مگر آج انہی کی شناخت اور نمائندگی ختم کرنے کی باتیں کی جارہی ہیں جو کسی صورت برداشت نہیں کی جائیں گی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ مہاجرین کی نمائندگی کے بغیر آزاد کشمیر اسمبلی کی آئینی، اخلاقی اور سیاسی حیثیت پر سنگین سوالات اٹھیں گے اور عالمی سطح پر بھی ایسی اسمبلی کو حقیقی نمائندہ ادارہ تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
اسلم ندار سلہری نے عوامی ایکشن کمیٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ چند عناصر نفرت اور تقسیم کی سیاست کے ذریعے مہاجرین اور کشمیریوں کے درمیان خلیج پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مہاجرین ہمیشہ جمہوری اور پُرامن جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں تاہم ان کے صبر کا مزید امتحان نہ لیا جائے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ اگر مہاجرین کے حقوق سلب کرنے کی کوششیں جاری رہیں تو ملک بھر میں احتجاجی تحریک چلائی جائے گی اور ہر جمہوری، سیاسی اور قانونی فورم پر آواز بلند کی جائے گی۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق مہاجر ایکشن کمیٹی کے قیام کے بعد آزاد کشمیر کی سیاست ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے اور آنے والے دنوں میں یہ معاملہ مزید شدت اختیار کرسکتا ہے۔ دوسری جانب مہاجرین کی جانب سے واضح پیغام دیا گیا ہے کہ وہ اپنے سیاسی وجود، شناخت اور حق نمائندگی کے تحفظ کے لیے متحد اور متحرک ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button