
طبقاتی انصاف اور منشیات کا ناسور…….سید عاطف ندیم
اعداد و شمار اور زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ منشیات اب صرف غریب یا پسماندہ علاقوں کا مسئلہ نہیں رہی بلکہ یہ تعلیمی اداروں، سوشل میڈیا، فیشن کلچر اور نام نہاد ماڈرن لائف اسٹائل کے ذریعے معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچ چکی ہے
معاشروں کی تباہی ہمیشہ توپ و تفنگ، جنگوں، قحط سالیوں یا معاشی بحرانوں سے نہیں ہوتی، بعض اوقات قومیں خاموشی سے اندر سے کھوکھلی ہو جاتی ہیں۔ منشیات بھی ایسی ہی ایک خاموش تباہی ہے جو صرف افراد کو نہیں بلکہ پورے سماجی ڈھانچے، خاندانی نظام اور آنے والی نسلوں کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں منشیات کے خلاف جنگ اکثر نمائشی کارروائیوں، وقتی بیانات اور طبقاتی مفادات کی نذر ہوتی دکھائی دیتی ہے۔
ملک بھر میں برسوں سے گلیوں، محلوں، تعلیمی اداروں، کالجوں، یونیورسٹیوں اور پسماندہ بستیوں میں نوجوان منشیات کی دلدل میں گرتے رہے، مگر طاقت اور اختیار کے ایوانوں میں بیٹھے افراد کی توجہ اس وقت تک اس مسئلے پر مرکوز نہ ہوئی جب تک یہ زہر اشرافیہ کے گھروں، پوش علاقوں اور بااثر خاندانوں تک نہ پہنچا۔ یہی وہ تلخ حقیقت ہے جو ہمارے نظامِ انصاف اور سماجی رویوں پر ایک بڑا سوالیہ نشان بن چکی ہے۔
سماجی ماہرین کے مطابق جب کسی غریب گھرانے کا نوجوان نشے کا شکار ہوتا ہے تو اسے “بگڑا ہوا لڑکا” یا “ناکام نسل” قرار دے کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے، مگر جب یہی مسئلہ طاقتور طبقے کی دہلیز تک پہنچتا ہے تو اچانک ادارے متحرک ہو جاتے ہیں، ہنگامی اجلاس بلائے جاتے ہیں اور منشیات کے خلاف بیانات کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ یہی طبقاتی سوچ اس ناسور کو مسلسل مضبوط کر رہی ہے۔
منشیات فروش صرف قانون شکن عناصر نہیں بلکہ معاشرے کے مستقبل کے قاتل ہیں۔ وہ نوجوان ذہنوں کو تباہ کرتے ہیں، خاندانوں کو برباد کرتے ہیں اور معاشرے سے امید اور توانائی چھین لیتے ہیں۔ ایک نوجوان جب نشے کا عادی بنتا ہے تو صرف اس کی اپنی زندگی متاثر نہیں ہوتی بلکہ اس کے والدین، بہن بھائی، دوست اور پورا سماجی دائرہ اس تباہی کی لپیٹ میں آ جاتا ہے۔
اعداد و شمار اور زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ منشیات اب صرف غریب یا پسماندہ علاقوں کا مسئلہ نہیں رہی بلکہ یہ تعلیمی اداروں، سوشل میڈیا، فیشن کلچر اور نام نہاد ماڈرن لائف اسٹائل کے ذریعے معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچ چکی ہے۔ آئس، کوکین، ایکسٹیسی اور دیگر مصنوعی نشے نوجوان نسل میں تیزی سے پھیل رہے ہیں، جبکہ کئی تعلیمی اداروں کے اطراف میں منشیات فروش نیٹ ورک منظم انداز میں سرگرم دکھائی دیتے ہیں۔
بے روزگاری، ذہنی دباؤ، خاندانی مسائل، سماجی تنہائی اور مستقبل سے مایوسی بھی نوجوانوں کو نشے کی طرف دھکیلنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ایسے نوجوان وقتی سکون یا مصنوعی خوشی کی تلاش میں منشیات کے جال میں پھنس جاتے ہیں، مگر یہ راستہ بالآخر انہیں ذہنی، جسمانی اور معاشی تباہی کی طرف لے جاتا ہے۔
منشیات کے کاروبار کے پیچھے صرف چند چھوٹے ڈیلر نہیں بلکہ ایک طاقتور مافیا کام کرتا ہے، جس میں سرمایہ، سیاسی روابط، کرپشن، بااثر شخصیات اور بعض اوقات خاموش سرپرستی بھی شامل ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر بڑے کردار قانون کی گرفت سے بچ نکلتے ہیں جبکہ چند چھوٹے کرداروں کو گرفتار کر کے وقتی طور پر عوامی غصہ ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
منشیات کے خلاف جنگ صرف پولیس کارروائیوں یا گرفتاریوں سے نہیں جیتی جا سکتی۔ اس کے لیے تعلیمی اداروں، والدین، میڈیا، مذہبی و سماجی حلقوں اور ریاستی اداروں کو مشترکہ حکمتِ عملی اپنانا ہوگی۔ نوجوانوں میں شعور بیدار کرنا، ذہنی صحت کی سہولیات فراہم کرنا، کھیلوں اور مثبت سرگرمیوں کو فروغ دینا اور بحالی مراکز کو مؤثر بنانا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔
ہمارے معاشرے میں ایک بڑا مسئلہ خاموشی بھی ہے۔ کئی خاندان بدنامی کے خوف سے اپنے بچوں کے نشے کے مسئلے کو چھپاتے ہیں، تعلیمی ادارے اپنی ساکھ بچانے کے لیے ایسے واقعات دبا دیتے ہیں جبکہ متعلقہ ادارے وقتی کارروائیوں سے آگے نہیں بڑھتے۔ یہی خاموشی منشیات فروشوں کو مزید طاقتور بناتی ہے۔
اگر واقعی منشیات کے ناسور کا خاتمہ کرنا ہے تو قانون کو طاقتور اور کمزور میں فرق ختم کرنا ہوگا۔ چاہے کوئی بااثر خاندان ہو، سیاسی شخصیت ہو یا مالی طور پر مضبوط نیٹ ورک، اگر وہ منشیات کے کاروبار میں ملوث ہے تو اس کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہونی چاہیے۔ جب تک انصاف طبقاتی بنیادوں پر تقسیم ہوتا رہے گا، اس وقت تک جرم کم ہونے کے بجائے مزید مضبوط ہوتا جائے گا۔
حکومت کو چاہیے کہ نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، کھیلوں کے میدان آباد کیے جائیں، ذہنی صحت کے مراکز قائم کیے جائیں اور بحالی پروگراموں کو مؤثر بنایا جائے تاکہ نوجوان مایوسی کے بجائے امید کی طرف آئیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صرف سزا کافی نہیں بلکہ بچاؤ، آگاہی اور بحالی کا نظام بھی اتنا ہی ضروری ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق منشیات کی جنگ دراصل قوم کے مستقبل کی جنگ ہے۔ اگر آج بھی سنجیدہ اور غیرطبقاتی اقدامات نہ کیے گئے تو یہ آگ ہر گھر تک پہنچ سکتی ہے۔ ایک ماں کا درد، درد ہی ہوتا ہے چاہے وہ محل میں رہتی ہو یا کچی آبادی میں۔ اگر قانون صرف اشرافیہ کے نقصان پر حرکت میں آئے گا تو پھر حقیقی انصاف کبھی قائم نہیں ہو سکے گا۔
اگر ریاست، معاشرہ اور تمام متعلقہ ادارے اب بھی خوابِ غفلت میں رہے تو آنے والے برسوں میں نوجوان نسل ایک ایسے بحران کا شکار ہو سکتی ہے جس کے اثرات صرف خاندانوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری قومی ساخت، معیشت اور سماجی استحکام کو ہلا کر رکھ دیں گے۔


