پاکستانتازہ ترین

پاکستان میں انصاف یا اثر و رسوخ؟ رپورٹ

سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سے عدالتی اصلاحات، تفتیشی نظام کی بہتری، پراسیکیوشن کے مؤثر ڈھانچے اور مقدمات کے جلد فیصلوں پر زور دیا جا رہا ہے۔

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
پاکستان میں بااثر شخصیات سے جڑے سنگین جرائم، متنازع عدالتی فیصلوں اور طاقتور ملزمان کو ملنے والی مبینہ رعایتوں نے ایک بار پھر عدالتی نظام، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انصاف کی فراہمی کے عمل پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ سوشل میڈیا، عوامی حلقوں اور قانونی ماہرین کی جانب سے متعدد ہائی پروفائل مقدمات کو مثال بنا کر یہ مؤقف اختیار کیا جا رہا ہے کہ ملک میں انصاف کا نظام کمزور اور طاقتور طبقات کے سامنے بے بس دکھائی دیتا ہے۔
گزشتہ چند برسوں کے دوران سامنے آنے والے کئی مقدمات نے عوام میں یہ تاثر مضبوط کیا ہے کہ دولت، اثر و رسوخ اور طاقت رکھنے والے افراد قانون سے بچ نکلتے ہیں جبکہ عام شہری سخت قانونی کارروائیوں کا سامنا کرتے ہیں۔
شاہ رخ جتوئی کا نام پاکستان کے متنازع ترین مقدمات میں شمار کیا جاتا ہے۔ دسمبر 2012 میں کراچی میں نوجوان شاہ زیب کے قتل نے ملک بھر میں شدید غم و غصے کو جنم دیا تھا۔
اس مقدمے میں شاہ رخ جتوئی کو سزائے موت سنائی گئی تھی، تاہم بعد میں قانونی پیچیدگیوں، صلح اور عدالتی کارروائیوں کے نتیجے میں وہ جیل سے رہا ہو گیا۔ اس کیس کو اکثر پاکستان میں بااثر خاندانوں کے اثر و رسوخ کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
پاکستانی ماڈل ایان علی بھی 2015 میں اس وقت خبروں کی زینت بنی تھیں جب انہیں مبینہ طور پر بھاری مقدار میں غیر ملکی کرنسی اسمگل کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔
یہ مقدمہ طویل عرصے تک میڈیا اور عدالتی بحث کا موضوع بنا رہا، تاہم بعد ازاں ایان علی بیرونِ ملک چلی گئیں۔ اس کیس کے حوالے سے ناقدین یہ مؤقف اپناتے رہے کہ مالی وسائل اور اثر و رسوخ نے قانونی کارروائی کو متاثر کیا۔
حالیہ برسوں میں سب سے زیادہ ہولناک مقدمات میں سے ایک مصطفی عامر قتل کیس ہے، جس میں مرکزی ملزم ارمغان قریشی پر نہ صرف قتل بلکہ منشیات کے مبینہ کاروبار، غیر قانونی سرگرمیوں اور پولیس مقابلے جیسے سنگین الزامات بھی سامنے آئے۔
رپورٹس کے مطابق مصطفیٰ عامر کو ذاتی تنازع پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور بعد ازاں قتل کر دیا گیا۔ کیس نے اس وقت مزید توجہ حاصل کی جب پولیس چھاپے کے دوران مبینہ طور پر ملزم کی جانب سے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر شدید فائرنگ کی اطلاعات سامنے آئیں۔
اس مقدمے میں عدالتی کارروائی، ضمانتوں اور دیگر قانونی معاملات پر بھی سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں شدید بحث جاری رہی۔
کراچی کے کارساز روڈ پر پیش آنے والا المناک حادثہ بھی عوامی ردعمل کا مرکز بنا رہا، جس میں نتا شا اقبال پر گاڑی کے ذریعے دو افراد کی ہلاکت کا الزام سامنے آیا۔
بعد ازاں متاثرہ خاندان کی جانب سے معافی نامہ جمع کروائے جانے کے بعد قتل کے مقدمے میں قانونی کارروائی ختم ہونے پر شدید تنقید کی گئی۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ پاکستان میں دیت اور صلح کے قوانین بعض اوقات طاقتور طبقات کے حق میں استعمال ہوتے ہیں۔
تاہم اس کیس میں منشیات سے متعلق الزامات اور دیگر قانونی پہلوؤں پر کارروائی جاری رہی۔
حالیہ دنوں انمول پنکی عرف “پنکی” کی گرفتاری نے بھی سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی۔ پولیس کی جانب سے مبینہ منشیات نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کے دوران انمول پنکی کو گرفتار کیا گیا، تاہم گرفتاری کے طریقہ کار، پروٹوکول اور مبینہ نرم رویے پر شدید تنقید سامنے آئی۔
سوشل میڈیا صارفین نے سوال اٹھایا کہ عام ملزمان اور بااثر افراد کے ساتھ برتاؤ میں واضح فرق کیوں دکھائی دیتا ہے۔ بعد ازاں اس معاملے پر متعلقہ اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
ان مقدمات کے بعد ملک بھر میں یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ آیا پاکستان کا عدالتی اور قانونی نظام طاقتور اور کمزور افراد کے لیے یکساں طور پر کام کرتا ہے یا نہیں۔
قانونی ماہرین کے مطابق انصاف کی شفاف فراہمی، تیز رفتار عدالتی کارروائی، پولیس اصلاحات اور سیاسی و مالی دباؤ سے آزاد نظام ہی عوام کا اعتماد بحال کر سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ہائی پروفائل مقدمات میں شفافیت، غیر جانبداری اور بروقت فیصلے یقینی نہ بنائے گئے تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہو سکتا ہے۔
ان مقدمات پر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شدید عوامی ردعمل دیکھنے میں آیا جہاں صارفین نے عدالتی اصلاحات، سخت احتساب اور قانون کے یکساں نفاذ کا مطالبہ کیا۔
شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ قانون کی حقیقی بالادستی اسی وقت ممکن ہوگی جب بااثر اور عام شہری کے لیے ایک ہی معیار اپنایا جائے اور سنگین جرائم میں ملوث افراد کو بلاامتیاز سزا دی جائے۔
سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سے عدالتی اصلاحات، تفتیشی نظام کی بہتری، پراسیکیوشن کے مؤثر ڈھانچے اور مقدمات کے جلد فیصلوں پر زور دیا جا رہا ہے۔
مبصرین کے مطابق پاکستان میں انصاف کے نظام پر بڑھتے ہوئے سوالات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عوام اب شفاف، تیز اور غیر جانبدار انصاف کے خواہاں ہیں تاکہ قانون پر اعتماد بحال ہو سکے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button