بین الاقوامیتازہ ترین

ایران کا افزودہ یورینیم امریکہ منتقل کرنے کے دعوے کی تردید

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا کہ ایران کے حوالے سے "بہت اچھی خبر" ہے، تاہم انہوں نے اس کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں

ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ تہران افزودہ یورینیم امریکہ منتقل کرنے پر رضامند ہو گیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ ایران اپنی افزودہ یورینیم کو کسی بھی صورت ملک سے باہر منتقل نہیں کرے گا۔

انہوں نے کہا، "افزودہ یورینیم ہمارے لیے ایرانی سرزمین کی طرح مقدس ہے اور اسے کسی بھی حالت میں کہیں منتقل نہیں کیا جائے گا۔” ان کے بیان نے دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کو مزید واضح کر دیا ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا کہ ایران کے حوالے سے "بہت اچھی خبر” ہے، تاہم انہوں نے اس کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں، جس کے باعث سفارتی حلقوں میں قیاس آرائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے دوسرے دور کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق، اگر کوئی معاہدہ طے پاتا ہے تو صدر ٹرمپ کی جانب سے اسلام آباد کا دورہ بھی متوقع ہو سکتا ہے، جس کے پیش نظر شہر میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

ادھر ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ جنگ بندی کی باقی مدت کے دوران آبنائے ہرمز تجارتی جہازوں کے لیے "مکمل طور پر کھلی” ہے۔ تاہم جہازرانی کے عالمی ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ حقیقت میں اس اہم بحری راستے سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے، جو خطے میں غیر یقینی صورتحال کی عکاسی کرتی ہے۔

اسی تناظر میں ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی جاری رہی تو آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنا ممکن نہیں ہوگا۔ ان کے اس بیان کو عالمی توانائی سپلائی کے لیے ایک سنگین اشارہ سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اسی راستے سے گزرتا ہے۔

مزید برآں، امریکی صدر ٹرمپ نے پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی جانب سے بحری ناکہ بندی کسی ممکنہ معاہدے تک جاری رہے گی۔

ادھر امریکہ نے بعض ممالک کو مزید ایک ماہ کے لیے روسی تیل خریدنے کی اجازت دے دی ہے، جسے عالمی توانائی منڈی میں استحکام برقرار رکھنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، حالیہ بیانات اور پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ اگرچہ سفارتی رابطے جاری ہیں، لیکن امریکہ اور ایران کے درمیان اعتماد کا فقدان بدستور موجود ہے۔ آبنائے ہرمز کی صورتحال، بحری ناکہ بندی اور یورینیم کے معاملے پر اختلافات خطے کو ایک حساس مرحلے میں داخل کر رہے ہیں، جہاں کسی بھی غیر متوقع اقدام کے عالمی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button