مشرق وسطیٰتازہ ترین

ایران نے آبنائے ہرمز کو معمول کی تجارتی جہاز رانی کے لیے پوری طرح کھول دیا، عباس عراقچی

آبنائے ہرمز کو، جہاں سے دنیا بھر کو تیل اور گیس کی برآمدات کا تقریباﹰ پانچواں حصہ گزرتا ہے، اب ہر طرح کی تجارتی مال برداری کرنے والے اور تمام ممالک کے بحری جہازوں کے لیے کھول دیا گیا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے 17 اپریل جمعے کی سہ پہر اعلان کیا کہ تہران نے آبنائے ہرمز کو معمول کی تجارتی جہاز رانی کے لیے دوبارہ اور پوری طرح کھول دیا ہے، جس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کا شکریہ بھی ادا کیا۔

ایران جنگ کی وجہ سے پورے مشرق وسطیٰ میں پائی جانے والی شدید کشیدگی اور عالمی معیشت کو درپیش خطرات کے تناظر میں یہ ایرانی اعلان اتنا بڑا اور اچانک تھا کہ اس پر فوری مثبت رد عمل کے نتیجے میں دیکھتے ہی دیکھتے عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں 10 فیصد کم ہو گئیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپتصویر: Daniel Torok/Avalon/Photoshot/picture alliance

صدر ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں ’تھینک یو‘ لکھا

امریکہ اور اسرائیل کے ایران کے خلاف 28 فروری کے فضائی حملوں کے ساتھ شروع ہونے والی ایران جنگ مین اس وقت دو ہفتے کی محدود اور مشروط فائر بندی جاری ہے۔ اسی فائر بندی وقفے کے دوران عالمی وقت کے مطابق جمعرات کو رات نو بجے سے لبنان جنگ میں 10 روزہ فائر بندی بھی شروع ہو گئی تھی۔

ان دونوں واقعات کے مثبت اثرات اور ایران جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان کی قیادت میں کی جانے والی کوششوں کی وجہ سے خاص طور پر کل جمعرات اور آج جمعے کے روز یہ امیدیں کافی بڑھ گئی تھیں کہ امریکہ اور ایران کے مابین موجودہ فائر بندی ایک دیرپا جنگ بندی معاہدے میں بھی بدل سکتی ہے۔

ایسا اسی پس منظر میں ہو اکہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نےجمعے کی سہ پہر اعلان کر دیا کہ تہران نے خلیج فارس میں تیل کی عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم آبنائے ہرمز کو معمول کی کمرشل شپنگ کے لیے دوبارہ کھول دیا ہے اور ایسا ایران جنگ میں فائر بندی ڈیل کے باقی ماندہ عرصے تک کے لیے کیا گیا ہے۔

آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھولے جانے سے متعلق ایک بین الاقوامی کانفرنس آج جمعے کو پیرس میں منعقد ہوئی، جس میں جرمنی اور فرانس سمیت کئی ممالک کے سربراہان مملکت و حکومت نے شرکت کی، اس کانفرنس کی ایک تصویر
آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھولے جانے سے متعلق ایک بین الاقوامی کانفرنس آج جمعے کو پیرس میں منعقد ہوئی، جس میں جرمنی اور فرانس سمیت کئی ممالک کے سربراہان مملکت و حکومت نے شرکت کی، اس کانفرنس کی ایک تصویرتصویر: Tom Nicholson/AFP

اس اعلان کے بعد امریکی صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنی ایک پوسٹ میں اس ایرانی اعلان کی تصدیق کی اور کہا کہ آبنائے ہرمزکو دوبارہ پوری طرح کھول دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی امریکی صدر نے اپنی پوسٹ کے آخر میں ایران کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ’تھینک یو‘‘ بھی لکھا۔

سیزفائر وقفے کے باقی ماندہ مدت تک آبنائے ہرمز کھلی

آبنائے ہرمز کو، جہاں سے دنیا بھر کو تیل اور گیس کی برآمدات کا تقریباﹰ پانچواں حصہ گزرتا ہے، اب ہر طرح کی تجارتی مال برداری کرنے والے اور تمام ممالک کے بحری جہازوں کے لیے کھول دیا گیا ہے۔

آبنائے ہرمز میں بحری جہاز
آبنائے ہرمز سے اب تمام ممالک کے بحری جہاز آزادانہ گزر سکتے ہیںتصویر: Altaf Qadri/AP Photo/picture alliance

عباس عراقچی کے مطابق ایران نے ایسا اس لیے کیا کہ جنگ میں موجودہ سیزفائر کو مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے یہ اعلان ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں کیا، جس کے چند ہی منٹ بعد اسی ایرانی اعلان کے بارے میں صدر ٹرمپ نے بھی سوشل میڈیا پر اپنی ایک پوسٹ پبلش کر دی۔

عراقچی نے ایکس پر لکھا، ’’آبنائے ہرمز کے پوری طرح کھول دیے جانے کا اعلان کیا جاتا ہے۔‘‘ ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق یہ آبنائے ایران جنگ میں فائر بندی ڈیل کے باقی ماندہ عرصے تک پوری طرح کھلی رہے گی۔ اب تک کی صورت حال میں یہ 14 روزہ فائر بندی 22 اپریل کو ختم ہونا ہے۔

ساتھ ہی عباس عراقچی نے لکھا کہ آبنائے ہرمز کا کھولا جانا لبنان جنگ میں فائر بندی کی مناسبت سے ممکن ہوا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button