
صدر عون مستقبل قریب میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے بات نہیں کریں گے، لبنانی حکام
قبل ازیں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے کہا گیا تھا کہ لبنان اور اسرائیل کے ’رہنماؤں‘ کے مابین متوقع بات چیت آج جمعرات 16 اپریل کو ہو نے والی تھی۔
مشرق وسطیٰ کی ریاست لبنان میں تین سرکاری اہلکاروں نے نیوز ایجنسی روئٹرز کو بتایا کہ ملکی صدر جوزف عون مستقبل قریب میں اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کےساتھ کسی ٹیلی فون کال پر بات نہیں کریں گے۔
قبل ازیں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے کہا گیا تھا کہ لبنان اور اسرائیل کے ’رہنماؤں‘ کے مابین متوقع بات چیت آج جمعرات 16 اپریل کو ہو نے والی تھی۔
اسی طرح کی توقعات کا اظہار ایک اسرائیلی وزیر نے بھی کیا تھا، جس کے بعد لبنانی صدر عون کا یہ بیان سامنے آیا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ کسی بھی اعلیٰ سطحی بات چیت کے لیے، جو اگر ہوتی تو گزشتہ تین عشروں سے بھی زائد عرصے سے دونوں ہمسایہ ممالک کے مابین اپنی نوعیت کی اولین براہ راست مکالمت ہوتی، یہ ناگزیر ہے کہ پہلے اسرائیل لبنان پر اپنے ہر طرح کے زمینی اور فضائی حملے بند کرے۔

صدر عون کی امریکی وزیر خارجہ سے فون پر گفتگو
اس تناظر میں نیوز ایجنسی روئٹرز نے لکھا ہے کہ لبنان کے تین سرکردہ اہلکاروں نے اس خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے جمعرات کے روز کہا کہ صدر جوزف عون مستقبل قریب میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے ٹیلیفون پر کوئی بات نہیں کریں گے۔
ان تین لبنانی حکام میں سے دو نے یہ بھی بتایا کہ امریکہ میں لبنان کے سفارت خانے کی طرف سے واشنگٹن میں ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کو بتا دیا گیا ہے کہ صدر جوزف عون بینجمن نیتن یاہو کے ساتھ بات نہیں کریں گے۔
ان لبنانی حکام کے بقول ٹرمپ انتظامیہ کو یہ پیغام دیے جانے کے بعد ہی صدر عون اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے مابین آج جمعرات ہی کے روز ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی۔

اس گفتگو کی لبنانی حکام نے کوئی تفصیلات نہیں بتائیں لیکن غالب امکان ہے کہ لبنانی صدر اور امریکی وزیر خارجہ کے مابین اس بات چیت میں لبنان پر اسرائیلی حملوں کے بارے میں ہی تبادلہ خیال کیا گیا۔




