کاروبارتازہ ترین

آبنائے ہرمز کے راستے اوسط عالمی برآمدات کے تناسب میں 96 فیصد کمی، سبب اس سمندری راستے کی بندش

اس دوران جنگ کی وجہ سے آبنائے ہرمز کے راستے توانائی کی ایرانی برآمدات میں بھی کمی ہوئی

ایران جنگ کے دوران تہران کی طرف سے خلیج فارس کے علاقے میں آبنائے ہرمز کے معمول کی تجارتی جہاز رانی کے لیے بند کیے جانے کے بعد سے اس راستے سے عالمی برآمدات کے تناسب میں ہوش ربا کمی ہو چکی ہے، جو عالمی معیشت کے لیے گہری تشویش کی بات ہے۔

نیوز ایجنسی اےایف پی کے مطابق اقتصادی تحقیقی ادارے Kpler کے مارچ کے مہینے کے لیے تیار کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ماہ آبنائے ہرمز کے راستے اپنی برآمدات کے حجم کے لحاظ سے سب سے بڑا ملک ایران تھا، جبکہ دیگر ممالک کی زیادہ تر تیل اور گیس کی برآمدات میں اس عرصے کے دوران ہوش ربا حد تک کمی ہوئی۔

آبنائے ہرمز میں کھڑا ایک کارگو شپ، متحدہ عرب امارات کی ریاست فجیرہ کے ساحل سے لی گئی ایک تصویر
آبنائے ہرمز میں کھڑا ایک کارگو شپ، متحدہ عرب امارات کی ریاست فجیرہ کے ساحل سے لی گئی ایک تصویرتصویر: Giuseppe Cacace/AFP

’کیپلر‘ کے جاری کردہ ڈیٹا کے مطابق گزشتہ ماہ اس آبنائے سے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، عراق اور قطر کی برآمدات کی بحری مال برداری میں کم از کم بھی 96 فیصد کی کمی آ گئی۔ اس کمی کے تناسب کے تعین کے لیے بنیاد گزشتہ 12 ماہ کی ایسی برآمدات کی ماہانہ اوسط کو بنایا گیا تھا۔

اس دوران جنگ کی وجہ سے آبنائے ہرمز کے راستے توانائی کی ایرانی برآمدات میں بھی کمی ہوئی، لیکن یہ کمی پچھلے ایک سال کے دوران ماہانہ اوسط سے صرف 26 فیصد کم تھی۔

آبنائے ہرمز ایک ایسا بہت مصروف تجارتی راستہ ہے، جہاں سے دنیا بھر میں خام تیل اور قدرتی گیس کی برآمدات کا تقریباﹰ پانچواں حصہ گزر کر عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔

ایرانی جزیرے خارگ کی بندرگاہ پر تیل کی برآمد کے لیے قائم ایک ٹرمینل
ایرانی جزیرے خارگ کی بندرگاہ پر تیل کی برآمد کے لیے قائم ایک ٹرمینلتصویر: Fatemeh Bahrami/Anadolu Agency/IMAGO

اسی لیے اس آبنائے کی بندش اور مجموعی طور پر موجودہ ایران جنگ کے باعث بین الاقوامی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں بحرانی حد تک اضافہ ہو چکا ہے، جس پر حکومتیں پریشان ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button