
ایران جنگ کے دوران تہران کی طرف سے خلیج فارس کے علاقے میں آبنائے ہرمز کے معمول کی تجارتی جہاز رانی کے لیے بند کیے جانے کے بعد سے اس راستے سے عالمی برآمدات کے تناسب میں ہوش ربا کمی ہو چکی ہے، جو عالمی معیشت کے لیے گہری تشویش کی بات ہے۔
نیوز ایجنسی اےایف پی کے مطابق اقتصادی تحقیقی ادارے Kpler کے مارچ کے مہینے کے لیے تیار کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ماہ آبنائے ہرمز کے راستے اپنی برآمدات کے حجم کے لحاظ سے سب سے بڑا ملک ایران تھا، جبکہ دیگر ممالک کی زیادہ تر تیل اور گیس کی برآمدات میں اس عرصے کے دوران ہوش ربا حد تک کمی ہوئی۔

’کیپلر‘ کے جاری کردہ ڈیٹا کے مطابق گزشتہ ماہ اس آبنائے سے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، عراق اور قطر کی برآمدات کی بحری مال برداری میں کم از کم بھی 96 فیصد کی کمی آ گئی۔ اس کمی کے تناسب کے تعین کے لیے بنیاد گزشتہ 12 ماہ کی ایسی برآمدات کی ماہانہ اوسط کو بنایا گیا تھا۔
اس دوران جنگ کی وجہ سے آبنائے ہرمز کے راستے توانائی کی ایرانی برآمدات میں بھی کمی ہوئی، لیکن یہ کمی پچھلے ایک سال کے دوران ماہانہ اوسط سے صرف 26 فیصد کم تھی۔
آبنائے ہرمز ایک ایسا بہت مصروف تجارتی راستہ ہے، جہاں سے دنیا بھر میں خام تیل اور قدرتی گیس کی برآمدات کا تقریباﹰ پانچواں حصہ گزر کر عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔

اسی لیے اس آبنائے کی بندش اور مجموعی طور پر موجودہ ایران جنگ کے باعث بین الاقوامی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں بحرانی حد تک اضافہ ہو چکا ہے، جس پر حکومتیں پریشان ہیں۔



