پاکستان پریس ریلیزاہم خبریں

اسلام آباد: رمشا کالونی کے مکین بے دخلی کے خوف میں مبتلا

تاہم وقت گزرنے کے ساتھ نہ تو انہیں مالکانہ حقوق دیے گئے اور نہ ہی بجلی، پانی اور گیس جیسی بنیادی سہولیات میسر ہو سکیں۔

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ

اسلام آباد کے سیکٹر ایچ نائن میں واقع رمشا کالونی کے مکین ایک بار پھر بے گھری کے خدشات میں مبتلا ہیں، جہاں حالیہ دنوں میں کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کی جانب سے غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی نے رہائشیوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔

رمشا کالونی کے رہائشی شہزاد مسیح، جو ایک سکول میں خاکروب کے طور پر کام کرتے ہیں، اپنے چار بچوں کے ساتھ ایک چھوٹے سے گھر میں رہتے ہیں جسے انہوں نے قرض لے کر تعمیر کیا تھا۔ چند ماہ قبل سی ڈی اے کی کارروائی کے دوران ان کے گھر کا ایک حصہ مسمار کر دیا گیا، جس کے باعث ان کا خاندان کھلے آسمان تلے آ گیا۔ شہزاد مسیح کی ماہانہ آمدنی 25 ہزار روپے ہے جبکہ قرض کی قسط 29 ہزار روپے تک پہنچ چکی ہے، جسے پورا کرنے کے لیے انہیں اضافی محنت کرنا پڑ رہی ہے۔

رمشا کالونی میں تقریباً 1500 گھرانے آباد ہیں، جن میں سے بیشتر افراد نے بینکوں سے قرض لے کر ڈھائی مرلہ کے پلاٹس پر اپنے مکانات تعمیر کیے ہیں۔ یہ آبادی تقریباً 14 برس قبل اس وقت وجود میں آئی جب مہر آبادی میں ایک مذہبی تنازع کے بعد مسیحی برادری کے افراد کو یہاں منتقل کیا گیا۔

مقامی رہائشی اور امن کمیٹی کے رکن اعجاز غوری کے مطابق، ابتدا میں سی ڈی اے نے خود ان افراد کو یہاں منتقل کیا اور کچھ عرصے تک بنیادی سہولیات بھی فراہم کیں۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ نہ تو انہیں مالکانہ حقوق دیے گئے اور نہ ہی بجلی، پانی اور گیس جیسی بنیادی سہولیات میسر ہو سکیں۔

حالیہ کارروائی کے حوالے سے سی ڈی اے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ رمشا کالونی کے مکینوں کو کوئی باقاعدہ بے دخلی نوٹس جاری نہیں کیا گیا بلکہ صرف غیر قانونی کمرشل عمارتوں کو گرایا گیا ہے۔ تاہم مکینوں کا دعویٰ ہے کہ اہلکاروں نے زبانی طور پر پوری بستی خالی کرنے کا حکم دیا تھا، جس کے بعد احتجاج بھی کیا گیا۔

سماجی کارکن عاصم سجاد کے مطابق، کچی آبادیوں کو مسمار کرنا بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں ایسی آبادیوں کو ریگولرائز کیا جاتا ہے اور وہاں رہنے والوں کو بنیادی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ اگر حکومت ان افراد کو بے دخل کرنا چاہتی ہے تو متبادل رہائش اور مناسب معاوضہ فراہم کرنا اس کی ذمہ داری ہے۔

رمشا کالونی کے مکینوں کا مطالبہ ہے کہ انہیں اسی جگہ مالکانہ حقوق دیے جائیں یا پھر کسی مناسب مقام پر منتقل کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ایک بار بے گھر ہو چکے ہیں اور دوبارہ اس کرب سے گزرنا نہیں چاہتے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button