
امریکہ۔ایران مذاکرات پر غیر یقینی صورتحال برقرار
نے ایک باخبر ذریعے کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ جب تک امریکی بحریہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی جاری رکھے گی، اس وقت تک مزید مذاکرات ممکن نہیں ہوں گے۔
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان ایران اور امریکہ کے درمیان مجوزہ مذاکرات کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق تہران کی قیادت نے تاحال یہ فیصلہ نہیں کیا کہ وہ مذاکرات کے نئے دور میں شریک ہوگی یا نہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی سطح پر ان دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
ٹرمپ کا اعلان اور پاکستان میں متوقع مذاکرات
قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ امریکی مذاکرات کار جنگ کے خاتمے کے لیے نئی بات چیت کے سلسلے میں پیر کو پاکستان پہنچیں گے۔
اس اعلان کے بعد یہ توقع کی جا رہی تھی کہ پاکستان ایک بار پھر اہم سفارتی کردار ادا کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کرے گا۔
ایرانی مؤقف: آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی بڑی رکاوٹ
ایرانی خبر رساں ادارے نے ایک باخبر ذریعے کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ جب تک امریکی بحریہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی جاری رکھے گی، اس وقت تک مزید مذاکرات ممکن نہیں ہوں گے۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس علاقے میں کشیدگی عالمی معیشت پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔
پاکستان کی ثالثی میں رابطے جاری
رپورٹ کے مطابق اگرچہ باضابطہ مذاکرات کا فیصلہ نہیں ہوا، تاہم گزشتہ چند دنوں کے دوران پاکستان کی ثالثی میں دونوں فریقین کے درمیان پیغامات کا تبادلہ جاری رہا ہے۔
یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پسِ پردہ سفارتی کوششیں بدستور جاری ہیں، اور مکمل تعطل کے باوجود رابطے منقطع نہیں ہوئے۔
خطے میں بڑھتی ہوئی حساسیت
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی پہلے ہی مشرق وسطیٰ کے استحکام کے لیے ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔
اگر مذاکرات کا عمل مزید تاخیر کا شکار ہوتا ہے تو اس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں، خصوصاً توانائی کی منڈیوں اور سکیورٹی صورتحال پر۔
عالمی برادری کی نظریں مذاکرات پر
عالمی برادری اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، کیونکہ امریکہ اور ایران کے درمیان کسی بھی ممکنہ معاہدے یا کشیدگی میں اضافہ عالمی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
فی الحال سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ آیا ایران مذاکرات میں شامل ہونے کا فیصلہ کرے گا یا نہیں، اور کیا پاکستان کی ثالثی ان دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کامیاب ہو سکے گی۔
مستقبل کا لائحہ عمل
موجودہ صورتحال میں یہ واضح ہے کہ مذاکرات کا مستقبل کئی عوامل پر منحصر ہے، جن میں سکیورٹی صورتحال، فوجی اقدامات اور سفارتی دباؤ شامل ہیں۔
اگر آبنائے ہرمز کی صورتحال میں بہتری آتی ہے اور دونوں فریق لچک کا مظاہرہ کرتے ہیں، تو مذاکرات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ بصورت دیگر خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ برقرار رہے گا۔



