
اسرائیل کا دعویٰ: باکو-جیحان تیل پائپ لائن پر حملے کے ایرانی منصوبے کو ناکام بنا دیا
سیل کے ارکان کو آذربائیجانی حکام نے گرفتار کر لیا جن کے پاس دھماکہ خیز ڈرون اور دیگر تباہ کن آلات تھے۔
رائٹرز
اسرائیل نے پیر کو کہا ہے کہ اس نے ایک ایرانی نیٹ ورک بے نقاب کیا ہے جس نے آذربائیجان سے بحیرۂ روم تک خام تیل لے جانے والی پائپ لائن اور ساتھ ہی آذربائیجان میں اسرائیلی اور یہودی اہداف پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔
ایک مشترکہ بیان میں موساد اور شِن بیٹ انٹیلی جنس ایجنسیوں نے کہا کہ کئی ہفتے قبل جارجیا سے ترکیہ جانے والی باکو-تبلیسی-جیحان پائپ لائن پر ایران کے پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے حملے کا منصوبہ ناکام بنا دیا گیا تھا۔
ایجنسیوں نے بتایا کہ اس سیل نے آذربائیجان میں یہودی کمیونٹی کے رہنماؤں کے ساتھ ساتھ یہودی اور اسرائیلی اہداف بشمول باکو میں اسرائیلی سفارت خانے اور ایک عبادت گاہ پر حملوں کی بھی منصوبہ بندی کی تھی۔
ایران کی وزارتِ خارجہ نے اس پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
سیل کے ارکان کو آذربائیجانی حکام نے گرفتار کر لیا جن کے پاس دھماکہ خیز ڈرون اور دیگر تباہ کن آلات تھے۔
بیان میں کہا گیا ہے، "اپنے ارادوں پر عمل کرنے کے لیے سیل نے مختلف طریقوں سے اہداف کے بارے میں انٹیلی جنس معلومات جمع کرنے کا کام کیا بشمول جسمانی نگرانی اور فوٹوگرافی۔ یہ سب انہوں نے ایران میں اپنے آقاؤں کے براہِ راست احکامات کے تحت کیا”۔
نیز کہا، "زمین پر سخت انٹیلی جنس تحقیقات اور آپریشنل سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ یہ کارروائی آئی آر جی سی اور اس کی چین آف کمانڈ کے اندر قائم خفیہ دہشت گرد نیٹ ورک کو بے نقاب کرنے کا باعث بنی۔”
اس میں کہا گیا کہ اس سیل کی قیادت رحمان مقدم نامی شخص کر رہا تھا جو آئی آر جی سی انٹیلی جنس کے سپیشل آپریشنز ڈویژن یا یونٹ 4000 کے سربراہ کے طور پر بھی کام کرتا رہا۔
مقدم گذشتہ ماہ اسرائیلی فضائی حملوں کے دوران ہلاک ہو گیا تھا جو اسرائیل اور امریکہ کی ایران کے خلاف فضائی جنگ کا حصہ تھے۔



