
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
اسلام آباد: پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان مجوزہ امن مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت کے حوالے سے ایران کی جانب سے باضابطہ ردعمل نہ آنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے، جبکہ جنگ بندی کے خاتمے کا وقت قریب آتا جا رہا ہے۔
ایران کے جواب کا انتظار
وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے منگل کے روز کہا کہ پاکستان کو اب تک ایران کی جانب سے مذاکرات میں شرکت کے حوالے سے کوئی حتمی جواب موصول نہیں ہوا۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد مسلسل تہران سے رابطے میں ہے، مگر شام 7:30 بجے تک کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ دو ہفتوں پر مشتمل جنگ بندی 22 اپریل کو صبح 4:50 بجے ختم ہو رہی ہے، اس لیے ایران کا بروقت فیصلہ انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔
پاکستان کی سفارتی کوششیں جاری
وزیر اطلاعات کے مطابق پاکستان ایرانی قیادت کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کوششیں نہ صرف مخلصانہ ہیں بلکہ خطے میں امن کے قیام کے لیے ناگزیر بھی ہیں۔
اسحاق ڈار کی امریکہ اور ایران سے اپیل
دوسری جانب نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے امریکہ اور ایران دونوں پر زور دیا ہے کہ وہ جنگ بندی میں توسیع پر غور کریں۔
انہوں نے امریکی ناظم الامور نٹالی بیکر سے ملاقات کے دوران کہا کہ سفارت کاری اور مذاکرات ہی مسائل کا واحد قابل عمل حل ہیں۔
دفتر خارجہ کے مطابق اس ملاقات میں علاقائی صورتحال اور امن کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ پاکستان نے واضح کیا کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان روابط کو فروغ دینے کا خواہاں ہے۔
امریکہ کا پاکستان کے کردار کا اعتراف
امریکی نمائندہ نٹالی بیکر نے خطے میں امن کے فروغ اور مذاکرات کی سہولت کاری میں پاکستان کے مثبت کردار کو سراہا۔
پاکستان کو اس عمل میں ایک اہم ثالث کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔
ٹرمپ کا سخت مؤقف
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔
انہوں نے امریکی نشریاتی ادارے CNBC کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ ایک “بڑی ڈیل” کے قریب ہے اور اس کی مذاکراتی پوزیشن مضبوط ہے۔
ٹرمپ نے واضح کیا کہ وہ جنگ بندی میں توسیع کے حق میں نہیں ہیں، اور اگر جلد کوئی معاہدہ نہ ہوا تو امریکہ دوبارہ حملے شروع کر سکتا ہے۔
انہوں نے یہاں تک کہا کہ فوج کارروائی کے لیے تیار ہے اور بمباری بھی ایک ممکنہ آپشن ہے۔
جنگ بندی کی صورتحال
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ بندی ابتدائی طور پر 21 اپریل کو ختم ہونا تھی، تاہم بعد میں اس کی مدت میں معمولی تبدیلی کی گئی۔
اس دوران امریکہ نے ایران پر متعدد بار جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات بھی عائد کیے ہیں، جس سے صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔
اسلام آباد میں اہم پیش رفت متوقع
ذرائع کے مطابق مذاکرات کے دوسرے دور سے قبل اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطحی امریکی وفد کی آمد متوقع ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی اس وفد کا حصہ ہو سکتے ہیں، جو اس معاملے کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
پہلے مذاکرات کا پس منظر
یاد رہے کہ 11 اور 12 اپریل کو اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے پہلے براہ راست مذاکرات کسی حتمی معاہدے کے بغیر ختم ہوئے تھے، تاہم اس دوران جنگ بندی برقرار رہی۔
یہ مذاکرات پاکستان کی ثالثی میں ہوئے تھے، جسے بعد میں دونوں ممالک نے باضابطہ طور پر تسلیم بھی کیا۔
تنازع کی ابتدا
یہ کشیدگی 28 فروری کو اس وقت شروع ہوئی جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے کیے، جس کے بعد خطے میں صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی اور عالمی سطح پر توانائی بحران کے خدشات پیدا ہوئے۔
مستقبل کیا ہوگا؟
فی الحال سب کی نظریں ایران کے فیصلے پر مرکوز ہیں۔ اگر تہران مذاکرات میں شرکت پر آمادہ ہو جاتا ہے تو خطے میں امن کی امید پیدا ہو سکتی ہے، بصورت دیگر جنگ بندی کے خاتمے کے بعد صورتحال مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے۔
پاکستان بدستور ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے دونوں فریقین کو مذاکرات کی طرف لانے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم آنے والے چند گھنٹے اس پورے عمل کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔





