
By VOG Urdu News Team
مشرقی یورپ میں جاری جنگ ایک بار پھر شدت اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے، جہاں روس اور یوکرین دونوں اپنی عسکری پیش رفت کے دعوے کر رہے ہیں۔ تازہ ترین بیانات کے مطابق، میدان جنگ میں صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور دونوں جانب سے کامیابیوں کے دعوے سامنے آ رہے ہیں۔
روس کا بڑا دعویٰ: وسیع علاقے پر کنٹرول
روسی فوج کے سربراہ ویلری گیراسیموف نے کہا ہے کہ روسی افواج نے 2026 کے آغاز سے اب تک یوکرین کے تقریباً 1,700 مربع کلومیٹر علاقے پر قبضہ کر لیا ہے۔
روسی وزارت دفاع کی جانب سے جاری ایک ویڈیو بیان میں انہوں نے بتایا کہ اس دوران 80 سے زائد بستیاں بھی روسی کنٹرول میں آ چکی ہیں۔ ان کے مطابق روسی فوج مشرقی یوکرین میں اہم دفاعی پوزیشنز کی جانب مسلسل پیش قدمی کر رہی ہے۔
ڈونباس: جنگ کا مرکزی محاذ
یہ پیش رفت خاص طور پر ڈونباس کے علاقے میں ہو رہی ہے، جو طویل عرصے سے جنگ کا مرکز بنا ہوا ہے۔
روس کا بنیادی ہدف اس صنعتی اور اسٹریٹیجک خطے پر مکمل کنٹرول حاصل کرنا ہے۔ یہاں شدید لڑائی کے باعث یوکرینی افواج کو متعدد مقامات پر دفاعی لائنوں تک پسپائی اختیار کرنا پڑی ہے۔
یوکرین کا بھی جوابی دعویٰ
دوسری جانب یوکرین نے بھی روسی پیش قدمی کے باوجود اپنی کامیابیوں کا دعویٰ کیا ہے۔
یوکرین کے اعلیٰ فوجی کمانڈر اولیکسانڈر سرسکی کے مطابق یوکرینی افواج نے مارچ کے دوران تقریباً 50 مربع کلومیٹر علاقہ دوبارہ حاصل کیا ہے۔
یہ دعویٰ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جنگ یک طرفہ نہیں بلکہ دونوں اطراف سے مسلسل حملے اور جوابی کارروائیاں جاری ہیں۔
آزادانہ تصدیق ممکن نہیں
خبر رساں ادارہ روئٹرز ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا ہے۔
اسی طرح یوکرینی جنرل اسٹاف کے ترجمان نے روسی دعوؤں پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے، جس سے صورتحال مزید غیر واضح ہو جاتی ہے۔
جنگ کا پس منظر
روس یوکرین جنگ 2022 میں روس کی جانب سے یوکرین میں فوجی مداخلت کے بعد شروع ہوئی تھی، اور تب سے یہ تنازع یورپ کی سب سے بڑی اور مہلک جنگ بن چکا ہے۔
اس جنگ نے نہ صرف خطے بلکہ عالمی سیاست، معیشت اور توانائی کے شعبے پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔
زمینی صورتحال: مسلسل دباؤ اور غیر یقینی
موجودہ صورتحال میں روس کی جانب سے پیش قدمی اور یوکرین کی جانب سے محدود جوابی کامیابیاں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ جنگ ابھی طویل عرصے تک جاری رہ سکتی ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق ڈونباس میں کنٹرول حاصل کرنا اس جنگ کا فیصلہ کن مرحلہ ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ یہ علاقہ صنعتی اور عسکری لحاظ سے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔
عالمی تشویش میں اضافہ
جنگ کے طول پکڑنے سے عالمی سطح پر تشویش بھی بڑھ رہی ہے۔ یورپی ممالک، امریکہ اور دیگر عالمی طاقتیں اس تنازع پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، جبکہ سفارتی حل کی کوششیں تاحال کوئی بڑی پیش رفت حاصل نہیں کر سکیں۔
نتیجہ
روس اور یوکرین کے متضاد دعوؤں کے درمیان حقیقت کا تعین مشکل ہوتا جا رہا ہے، تاہم ایک بات واضح ہے کہ میدان جنگ میں شدت کم ہونے کے بجائے بڑھ رہی ہے۔
ڈونباس میں جاری لڑائی آنے والے مہینوں میں جنگ کے رخ کا تعین کر سکتی ہے، اور اس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا پر مرتب ہوں گے۔




