
طائرانہ نظر سے….ناصف اعوان
مہنگائی میں خوفناک حد تک اضافہ ہو سکتا ہے لہذا دنیا ان دو ممالک کو مزاکرات کے لئے آمادہ کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کرے
ایران امریکا کشیدگی ابھی تک موجود ہے ۔اگرچہ پاکستان امن کے قیام کے لئے دونوں ممالک کے مابین صلح کی کوشش کر رہا ہے مگر فی الحال فریقین بات چیت کرنے سے گریزاں نظر آتے ہیں ۔ جو شرائط امریکا کی طرف سے پیش کی گئی ہیں ان کو ایران تسلیم نہیں کر رہا ۔ امریکا چاہتا ہے کہ افزودہ یورینیم اس کے حوالے کیا جائے مگر ایران کہتا ہے کہ اسے وہ کسی صورت اس کے حوالے نہیں کرے گا کیونکہ اس بنیاد پر ایک خوفناک جنگ ہو چکی ہے آئندہ بھی اس کا امکان ہے۔ ایران کی بات بڑی حد تک درست ہے اتنے بڑے نقصان کے بعد وہ اپنے یورینیم سے کیوں ہاتھ دھوئے گا پھر جوہری توانائی کا حصول ہر ملک کا حق ہے مستقبل میں توانائی کی ضرورت بڑھے گی کم نہیں ہو گی ۔کیونکہ جوں جوں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں اضافہ ہو رہا ہے توانائی پر انحصار بھی بڑھتا جا رہا ہے جب اس میں کمی واقع ہوگی تو لازمی معاشی مسائل بڑھیں گے لہذا ایران کو بھی اپنے عوام کی بہتری و فلاح کے لئے سوچنا ہے مگر امریکا اس کی بنیادی ضرورت کو پیش نظر نہیں رکھ رہا اس کا مطالبہ جائز نہیں جب وہ اور اسرائیل جوہری توانائی کو بروئے کار لا رہے ہیں اور انہوں نے اس سے انسانی ہلاکت کا سامان بھی تیار کر رکھا ہے تو ایران کو کیسے روکا جا رہاہے ایران تو جوہری توانائی سے بم بنانے کا خواہشمند ہی نہیں ۔
بہرحال ایران امریکا کشیدگی سے بہت سے ملکوں کی معیشت پر بُرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں کہ تیل و گیس کی قلت سے صنعتی پہیہ رکنے لگا ہے ۔ دیگر سرگرمیاں بھی متاثر ہونے لگی ہیں ۔ غربت بے روزگاری اور
مہنگائی میں خوفناک حد تک اضافہ ہو سکتا ہے لہذا دنیا ان دو ممالک کو مزاکرات کے لئے آمادہ کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کرے
پاکستان کماحقہ ہو اپنا فرض ادا کر رہا ہے ۔
دونوں تینوں ملکوں کی تباہی بہت ہو چکی ہے اگر امریکا نے دوبارہ جنگ کا آغاز کیا تو اسے بہت بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ ایران کو چین روس اور شمالی کوریا کی طرف سے جو اسلحہ و بارود دیا گیا ہے وہ انتہائی جدید اور حیرت انگیز ہے لہذا جنگ کے شعلے بھڑکانے والوں کو اپنے عوام کو تباہی و بربادی سے بچانے کے لئے گفتگو کی میز پر بیٹھنا ہو گا یہی واحد راستہ ہے امن اور خوشحالی کا !



