مدثر احمد-امریکہ،وائس آف جرمنی اردو نیوز
عالمی سطح پر بھوک اور غربت میں خطرناک حد تک اضافے کا انکشاف کرتے ہوئے اقوام متحدہ نے اپنی تازہ رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ دنیا کے دو تہائی افراد کسی نہ کسی شکل میں خوراک کے بحران سے متاثر ہو رہے ہیں۔
یہ رپورٹ جمعہ کے روز جاری کی گئی، جس میں یورپی یونین اور مختلف انسانی ہمدردی کے اداروں کے اعداد و شمار کو شامل کیا گیا ہے۔
بحران کی شدت میں اضافہ
رپورٹ کے مطابق سال 2025 میں دنیا کے 47 ممالک اور خطوں سے تعلق رکھنے والے تقریباً 266 ملین افراد شدید غذائی قلت اور قحط جیسی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ تعداد سال 2016 کے مقابلے میں تقریباً دوگنی ہو چکی ہے، جو عالمی سطح پر تشویش کا باعث بن گئی ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق گزشتہ برس یہ بحران صرف چند ممالک تک محدود تھا، تاہم اب اس کا دائرہ وسیع ہو کر کئی خطوں تک پھیل چکا ہے۔
متاثرہ ممالک کی فہرست
رپورٹ میں جن ممالک کو شدید غذائی بحران کا سامنا قرار دیا گیا ہے، ان میں افغانستان، بنگلہ دیش، کانگو، میانمار، نائیجیریا، پاکستان، جنوبی سوڈان، سوڈان، شام اور یمن شامل ہیں۔
ان میں سے کئی ممالک طویل عرصے سے جاری تنازعات، معاشی بدحالی اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث پہلے ہی کمزور صورتحال کا شکار ہیں۔
جنگیں اور عدم استحکام: بنیادی وجوہات
رپورٹ میں خاص طور پر مشرق وسطیٰ میں جاری جنگوں کو غذائی بحران کا بڑا سبب قرار دیا گیا ہے۔ ان تنازعات کے باعث لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں، زرعی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں اور خوراک کی ترسیل میں رکاوٹیں پیدا ہوئی ہیں۔
خاص طور پر غزہ اور سوڈان میں جاری قحط کی صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیا گیا ہے۔
بہتری اور بگاڑ کے رجحانات
رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش اور شام میں حالات میں کچھ بہتری دیکھنے میں آئی ہے، جبکہ افغانستان، میانمار اور زمبابوے میں صورتحال بدستور نازک ہے اور مزید بگاڑ کا خطرہ موجود ہے۔
عالمی امداد میں کمی
اقوام متحدہ نے رپورٹ میں بین الاقوامی امداد میں کمی پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق امداد میں کمی کے باعث متاثرہ ممالک میں خوراک کی فراہمی مزید متاثر ہو سکتی ہے۔
اس کے علاوہ کھاد اور توانائی کی قیمتوں میں اضافہ بھی زرعی پیداوار کو متاثر کر رہا ہے، جس سے مستقبل میں خوراک کی قلت میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
عالمی کشیدگی کے اثرات
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جاری جنگ اور آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں کے باعث کھاد کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، جس سے عالمی غذائی بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔
زرعی شعبے پر دباؤ
بین الاقوامی فنڈ برائے زرعی ڈویلپمنٹ (IFAD) کے سربراہ الوارو لاریو نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ کاشتکاری کے موسم میں توانائی اور کھاد کی بڑھتی قیمتیں پیداوار کو متاثر کریں گی۔
انہوں نے کہا کہ کسانوں کی فوری مدد ضروری ہے تاکہ خوراک کی پیداوار کو برقرار رکھا جا سکے۔
ممکنہ حل اور تجاویز
الوارو لاریو کے مطابق مقامی سطح پر کھاد کی پیداوار بڑھانے اور مٹی کی بہتری پر توجہ دے کر اس بحران کے اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ پائیدار زرعی طریقوں کو اپنانا اور کسانوں کو جدید وسائل فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
نتیجہ
اقوام متحدہ کی یہ رپورٹ عالمی برادری کے لیے ایک سنجیدہ وارننگ ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو خوراک کا بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کے حل کے لیے نہ صرف انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد میں اضافہ ضروری ہے بلکہ تنازعات کے خاتمے، معاشی استحکام اور زرعی اصلاحات پر بھی بھرپور توجہ دینا ہوگی، تاکہ دنیا کو ایک بڑے انسانی بحران سے بچایا جا سکے۔



