یورپتازہ ترین

یورپی تشویش برقرار: ایران-امریکہ ممکنہ معاہدے پر اختلافات، دباؤ اور سفارتکاری ساتھ ساتھ

ان کا کہنا تھا کہ سفارتکاری کے ساتھ ساتھ سخت مؤقف بھی ضروری ہے تاکہ ایران کو سنجیدہ مذاکرات کی طرف لایا جا سکے۔

https://vogurdunews.de/our-team/

BY VOG Urdu News Team

یورپی یونین کے رہنماؤں نے ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ نئے معاہدے کے حوالے سے بڑھتی ہوئی تشویش کا اظہار کیا ہے، جبکہ بیک وقت یہ اشارہ بھی دیا ہے کہ اگر تہران مراعات دینے پر آمادہ ہو تو پابندیوں میں نرمی ممکن ہو سکتی ہے۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسلام آباد میں دونوں ممالک کے درمیان مذاکراتی عمل کو دوبارہ شروع کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

جرمن چانسلر کا بیان: دباؤ اور لچک دونوں

فریڈرک میرٹز نے نیکوسیا میں یورپی رہنماؤں کے اجلاس کے دوران کہا کہ اگر ایران سنجیدہ مراعات دینے کے لیے تیار ہوتا ہے تو یورپ پابندیوں میں نرمی کے لیے بھی تیار ہوگا۔

تاہم انہوں نے واضح طور پر یہ بھی کہا کہ ایران وقت ضائع کر رہا ہے، اور یورپی یونین کو دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی اپنانی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ سفارتکاری کے ساتھ ساتھ سخت مؤقف بھی ضروری ہے تاکہ ایران کو سنجیدہ مذاکرات کی طرف لایا جا سکے۔

یورپی خدشات: صرف جوہری معاملہ کافی نہیں

دوسری جانب کایا کالس نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات صرف جوہری پروگرام تک محدود رہ سکتے ہیں، جو یورپ کے لیے تشویش کا باعث ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کا میزائل پروگرام اور خطے میں اس کے اتحادی گروہوں کی حمایت بھی اہم مسائل ہیں، جنہیں کسی بھی جامع معاہدے میں شامل کیا جانا چاہیے۔

کایا کالس کے مطابق، اگر ان معاملات کو نظر انداز کیا گیا تو کوئی بھی معاہدہ پائیدار ثابت نہیں ہوگا۔

“جلد بازی” کے معاہدے پر تنقید

یورپی سفارتی حلقوں میں یہ خدشہ بھی بڑھ رہا ہے کہ امریکی مذاکراتی ٹیم ایک ایسے فوری یا “فریم ورک” معاہدے کی طرف بڑھ سکتی ہے جو وقتی طور پر تو کامیابی دکھائے، مگر بنیادی مسائل کو حل نہ کر سکے۔

ماہرین کے مطابق، ایسا معاہدہ طویل المدتی استحکام کے بجائے مزید پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے۔

اسلام آباد میں مذاکراتی سرگرمیاں

یاد رہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور دو ہفتے قبل اسلام آباد میں منعقد ہوا تھا، جو کسی حتمی نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا تھا۔

دوسرے دور کے مذاکرات 22 اپریل کو متوقع تھے، تاہم مختلف وجوہات کی بنا پر ان میں تاخیر ہو گئی۔

اب ایک بار پھر سفارتی کوششیں تیز ہو گئی ہیں، اور اسی سلسلے میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی ایک وفد کے ہمراہ اسلام آباد پہنچ چکے ہیں۔ دوسری جانب امریکی وفد کی آمد بھی متوقع ہے۔

براہِ راست مذاکرات کا امکان کم

تاہم ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ امریکی وفد کے ساتھ کسی بھی قسم کے براہِ راست مذاکرات کا امکان نہیں ہے، اور بات چیت بالواسطہ طریقے سے کی جائے گی۔

یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اعتماد کی کمی اب بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے، جس کے باعث مذاکراتی عمل پیچیدہ بنا ہوا ہے۔

یورپ کا کردار اور عالمی تناظر

تجزیہ کاروں کے مطابق، یورپی یونین اس معاملے میں ایک متوازن کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جہاں ایک طرف وہ سفارتی حل کی حمایت کر رہی ہے، جبکہ دوسری طرف ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کی پالیسی بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔

یورپ کے لیے یہ معاملہ صرف جوہری پروگرام تک محدود نہیں بلکہ خطے کی مجموعی سلامتی، توانائی کی ترسیل، اور عالمی استحکام سے بھی جڑا ہوا ہے۔

نتیجہ

ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ معاہدے کے حوالے سے یورپی خدشات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ عالمی طاقتیں کسی بھی “جلد بازی” میں کیے گئے فیصلے کے بجائے ایک جامع اور دیرپا حل چاہتی ہیں۔

اسلام آباد میں جاری سفارتی سرگرمیاں اس پیچیدہ تنازع کے حل کی ایک نئی کوشش ضرور ہیں، تاہم بیانات، اختلافات اور شرائط کو دیکھتے ہوئے فوری پیش رفت کے امکانات محدود نظر آتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہوگا کہ آیا یہ مذاکرات کسی ٹھوس نتیجے تک پہنچتے ہیں یا نہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button