پاکستان پریس ریلیزتازہ ترین

گرین پاکستان انیشیٹو: صحراؤں سے زرعی خوشحالی تک کا تاریخی سفر

اگر اسی رفتار سے جدید زرعی اصلاحات جاری رہیں تو پاکستان نہ صرف اپنی غذائی ضروریات پوری کرنے کے قابل ہو جائے گا

(خصوصی رپورٹ)
حکومتِ پاکستان کے وژن کے تحت شروع کیے گئے “گرین پاکستان انیشیٹو” نے ملک میں زرعی شعبے کی بحالی اور ترقی کے لیے ایک نئے دور کا آغاز کر دیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت بنجر اور غیر آباد زمینوں کو جدید زرعی ٹیکنالوجی کے ذریعے قابلِ کاشت بنا کر نہ صرف زرعی پیداوار میں اضافہ کیا جا رہا ہے بلکہ ملکی معیشت کو بھی مضبوط بنیادوں پر استوار کیا جا رہا ہے۔

بنجر زمینوں کی بحالی، زرعی انقلاب کی بنیاد
گرین پاکستان انیشیٹو کے تحت بڑے پیمانے پر ایسے علاقوں پر توجہ دی جا رہی ہے جو ماضی میں بنجر اور غیر پیداواری سمجھے جاتے تھے۔ جدید زرعی تکنیک، مؤثر منصوبہ بندی اور نجی و سرکاری اشتراک سے ان زمینوں کو دوبارہ زندگی دی جا رہی ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف زرعی رقبے میں اضافہ ہوا ہے بلکہ دیہی معیشت کو بھی نئی توانائی ملی ہے۔

1500 ایکڑ پر جدید کاشتکاری کا کامیاب ماڈل
گرین امپیکس پرائیویٹ لمیٹڈ کے بزنس مینجر محمد ابو بکر کے مطابق، کمپنی نے 1500 ایکڑ بنجر زمین کو جدید طریقوں سے قابلِ کاشت بنایا ہے جہاں روڈگراس اور الفالفا جیسی اعلیٰ معیار کی فصلیں کامیابی سے اگائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان فصلوں کا تقریباً 20 فیصد حصہ مقامی ڈیری فارمز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے جبکہ 80 سے 90 فیصد پیداوار برآمد کی جا رہی ہے، جس سے قیمتی زرمبادلہ حاصل ہو رہا ہے۔

پانی کی بچت اور جدید آبپاشی نظام
اس منصوبے میں سنٹرل پیوٹ ایریگیشن سسٹم کا استعمال ایک اہم پیش رفت ثابت ہوا ہے۔ اس جدید نظام کے ذریعے 40 فیصد تک پانی کی بچت ممکن ہوئی ہے جبکہ روزانہ 150 ایکڑ زمین کو مؤثر انداز میں سیراب کیا جا رہا ہے۔ یہ اقدام پانی جیسے قیمتی وسائل کے تحفظ کے ساتھ ساتھ زرعی پیداوار بڑھانے میں بھی کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔

ٹیکنالوجی کا استعمال اور موسمی نگرانی
گرین امپیکس کے سپروائزر محمد مدثر کے مطابق جدید ویدر اسٹیشن کی مدد سے موسمی حالات کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے، جس سے فصلوں کی دیکھ بھال اور کاشتکاری کے فیصلوں میں بہتری آئی ہے۔ بروقت معلومات کی فراہمی سے کسان بہتر منصوبہ بندی کر پا رہے ہیں، جس سے پیداوار میں اضافہ ہو رہا ہے۔

گرین ایگری مال: کسانوں کے لیے مکمل سہولت
سی ای او گرین امپیکس پرائیویٹ لمیٹڈ گلزار احمد کا کہنا ہے کہ گرین پاکستان انیشیٹو کے تحت “گرین ایگری مال” کا قیام ایک انقلابی قدم ہے۔ اس کے ذریعے کسانوں کو جدید زرعی مشینری، سنٹرل پیوٹ سسٹمز اور دیگر ضروری سہولیات ایک ہی جگہ پر فراہم کی جا رہی ہیں، جس سے کاشتکاری کا عمل آسان اور مؤثر ہو گیا ہے۔

معیشت، سماجی ترقی اور فوڈ سکیورٹی میں بہتری
اسسٹنٹ ڈائریکٹر گرین پاکستان انیشیٹو سعد احسن کے مطابق یہ منصوبہ نہ صرف بنجر زمینوں کو قابلِ کاشت بنانے میں کامیاب ہو رہا ہے بلکہ اس کے ذریعے ملکی معیشت، سماجی ترقی اور فوڈ سکیورٹی کو بھی فروغ مل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات سے پاکستان زرعی خودکفالت کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

سرسبز پاکستان کی جانب پیش قدمی
گرین پاکستان انیشیٹو کی بدولت وہ علاقے جو کبھی ویران اور خشک تھے، آج سرسبز کھیتوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ یہ منصوبہ نہ صرف زرعی شعبے میں انقلاب لا رہا ہے بلکہ ماحولیات کے تحفظ، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور دیہی علاقوں کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر اسی رفتار سے جدید زرعی اصلاحات جاری رہیں تو پاکستان نہ صرف اپنی غذائی ضروریات پوری کرنے کے قابل ہو جائے گا بلکہ عالمی منڈی میں زرعی برآمدات کے ذریعے ایک مضبوط معیشت کے طور پر ابھر سکتا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button