پاکستانتازہ ترین
پاکستان نے ایک بار پھر خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنی سفارتی کوششوں کو تیز کرتے ہوئے ایران اور امریکہ کے درمیان تعطل کا شکار مذاکرات کو بحال کرانے کے لیے کردار ادا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے دارالحکومت اسلام آباد میں سیکیورٹی صورتحال میں بہتری کے پیش نظر سرینا ہوٹل اور ریڈ زون کے اطراف عائد ٹریفک پابندیوں کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
پاکستانی حکام کے مطابق ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات کی بحالی کے لیے “وقت کے خلاف دوڑ” میں مصروف ہے۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ پیش رفت کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان اہم اختلافات اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے پاکستان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے نمائندوں کو رواں ہفتے اسلام آباد میں ہونے والے مجوزہ مذاکرات میں شرکت سے روک دیا تھا، جس کے باعث بات چیت کا عمل وقتی طور پر تعطل کا شکار ہوا۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سلطنت عمان کے دورے کے بعد اسلام آباد پہنچے، جہاں انہوں نے پاکستانی حکام کے ساتھ مشاورت جاری رکھی۔ تاہم ایرانی خبر رساں ایجنسی “تسنیم” کے مطابق ان کا یہ دورہ براہ راست جوہری مذاکرات سے متعلق نہیں بلکہ ایک وسیع علاقائی سفارتی مہم کا حصہ ہے۔
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران نے مذاکرات کی بحالی کے لیے چند اہم شرائط پیش کی ہیں، جن میں امریکی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ، آبنائے ہرمز میں نیا قانونی نظام، جنگی نقصانات کا ازالہ (ہرجانہ) اور مستقبل میں کسی بھی فوجی کارروائی سے گریز کی ضمانت شامل ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے دورہ عمان کے دوران سلطان ہیثم بن طارق آل سعید سے بھی ملاقات کی، جس میں جنگ بندی، علاقائی سلامتی اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی جیسے اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ عمان ماضی میں بھی ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق موجودہ صورتحال میں پاکستان کی قیادت میں جاری سفارتی کوششیں ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کر رہی ہیں، جہاں دونوں ممالک کے درمیان مذاکراتی عمل کو دوبارہ فعال بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
عباس عراقچی نے اس موقع پر اس بات پر زور دیا کہ خطے کے ممالک کو بیرونی مداخلت سے ہٹ کر مشترکہ سیکیورٹی نظام تشکیل دینا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ کشیدگی نے ثابت کیا ہے کہ خطے میں امریکی فوجی موجودگی عدم استحکام کو بڑھاتی ہے۔
پاکستانی حکام پرامید ہیں کہ مسلسل سفارتی رابطوں اور ثالثی کی کوششوں کے ذریعے ایران اور امریکہ کو ایک بار پھر مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے گا، جو نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی اہم پیش رفت ثابت ہوگی۔
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur.