احساس کا رشتہ: پنجاب میں فلاحی اقدامات کا دائرہ وسیع، 16 لاکھ سے زائد افراد مستفید، نئے پروگرامز اور اصلاحات کا اعلان
مزید برآں، مینارٹی کارڈ کے ذریعے ایک لاکھ مستحق اقلیتی افراد کو ہر تین ماہ بعد 10 ہزار 500 روپے فراہم کیے جا رہے ہیں، جو ان کی مالی مشکلات کم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
مریم نواز شریف کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس میں پنجاب میں جاری فلاحی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جہاں یہ انکشاف ہوا کہ مختصر عرصے میں راشن کارڈ، ہمت کارڈ اور مینارٹی کارڈ جیسے اقدامات سے 16 لاکھ سے زائد افراد مستفید ہو چکے ہیں۔ اجلاس میں سوشل ویلفیئر اینڈ بیت المال ڈیپارٹمنٹ کے جاری پروگرامز کی کارکردگی پر بریفنگ بھی دی گئی۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ راشن کارڈ پروگرام کے تحت 14 لاکھ سے زائد افراد کو ماہانہ مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ ”مریم کو بتائیں“ پروگرام کے ذریعے مزید 50 ہزار افراد کو اس اسکیم میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اسی طرح ہمت کارڈ کے تحت اب تک ایک لاکھ سے زائد خصوصی افراد کو مالی امداد دی جا چکی ہے، جبکہ رواں مالی سال میں اس تعداد کو بڑھا کر 2 لاکھ تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
مزید برآں، مینارٹی کارڈ کے ذریعے ایک لاکھ مستحق اقلیتی افراد کو ہر تین ماہ بعد 10 ہزار 500 روپے فراہم کیے جا رہے ہیں، جو ان کی مالی مشکلات کم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ خصوصی افراد کی سہولت کے لیے 16 ہزار سے زائد افراد کو وہیل چیئرز اور 16 اقسام کے معاون آلات بھی فراہم کیے جا چکے ہیں۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے دھی رانی پروگرام کے تحت اجتماعی شادیوں کے منصوبے کا بھی جائزہ لیا۔ اس پروگرام کے تحت اب تک 5 ہزار شادی تقریبات کا انعقاد کیا جا چکا ہے، جبکہ انہوں نے حکام کو ہدایت دی کہ جلد از جلد 9 ہزار شادیوں کا ہدف مکمل کیا جائے اور مزید مستحق خاندانوں کو بھی اس پروگرام میں شامل کیا جائے۔
اجلاس میں سماجی بہبود کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے کئی اہم فیصلے کیے گئے۔ سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کی خصوصی ہیلپ لائن 1737 کے قیام کا اعلان کیا گیا، جبکہ پنجاب بھر میں گداگروں کے ڈیٹا کلیکشن اور میپنگ کا اصولی فیصلہ بھی کیا گیا تاکہ اس مسئلے سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔
وزیراعلیٰ نے زکوٰۃ فنڈز کے ذریعے ادویات کی فراہمی کے نظام کو ڈیجیٹلائز کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ شفافیت اور سہولت کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے صنعت زار پروگرام کی ری ویمپنگ کے لیے نجی شعبے کو شامل کرنے، ڈسپلے سینٹرز کی برینڈنگ اور اشتراک کار کو فروغ دینے کی بھی ہدایت کی۔
اس موقع پر مریم نواز شریف نے لاوارث اور بے سہارا بچوں کے لیے باقاعدہ یتیم خانے قائم کرنے کا حکم دیا اور خواتین و بچوں کی فلاح کے لیے مستند این جی اوز سے تعاون بڑھانے پر زور دیا۔ انہوں نے خصوصی افراد کو فراہم کیے گئے معاون آلات کی دیکھ بھال، صفائی اور سروسز کی فراہمی کو بھی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کا بنیادی مقصد عام آدمی کی فلاح و بہبود اور محروم طبقات کی مدد ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کو یورپی ممالک کی طرز پر جدید، شفاف اور عوام دوست بنایا جائے گا تاکہ مستحق افراد تک سہولیات باآسانی پہنچ سکیں۔
اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے افراد کی بھرپور مالی معاونت جاری رکھی جائے گی اور ان کی معاشی بحالی کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت کم آمدن والے طبقات کی زندگی میں بہتری لانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔


