
ایران امریکہ ڈائیلاک لیکن ڈیڈ لاک ۔۔خدشات اور توقعات !!….پیر مشتاق رضوی
گلوبل ساؤتھ" کی سفارتکاری کو کریڈٹ ملا، امریکہ،روس،چین ہی ثالث بنتے تھے۔ پاکستان، قطر، عمان جیسے ملکوں نے دکھایا کہ علاقائی طاقتیں بھی جنگ رکوا سکتی ہیں۔
"بڑا شور سنتے تھے پہلو میں دل کا”۔۔۔. . . گذشتہ ہفتہ اسلام آباد میں ایران امریکہ کے مابین پہلے مرحلہ کے مذاکرات بے نتیجہ رہے لیکن اگلے روز ٹرمپ نے عالمی میڈیا کو اسلام آباد میں رکنے کا کہا کہ اسلام آباد میں "بڑا کجھ ہونے والا ہے "پاکستان کی مؤثر سفارتکاری سے امن کی آشا کی امید بر آئی اور عالمی جنگ کے بادل چھٹنے لگے تھے دوسری بیٹھک کی تیاریاں حتمی مراحل میں داخل ہونے والی تھی ایران امریکہ کے مابین مذاکرات کا دوسرا دور 25 اپریل کو اسلام آباد میں متوقع تھا امریکی وفد بھی "اسٹینڈ بائی”تھے ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی اسلام آباد پہنچے اور اعلان کر دیا کہ "امریکہ سے کوئی براہ راست ملاقات نہیں ہو گی”*۔ بات صرف پاکستانی حکام کے ذریعے ہو گا اس کے فوراً بعد ٹرمپ نے مذاکرات منسوخ کر دیے جبکہ امریکہ چاہتا تھا کہ وٹکوف اور کشنز عراقچی سے آمنے سامنے ملیں۔ ایران نے کہا صرف "پیغام رسانی” ہو گی۔ ٹرمپ نے اسے "وقت ضائع” سمجھا۔ وائٹ ہاؤس پریس سیکرٹری نے کہا وفد "ایرانیوں کو سننے” گیا تھا، مگر ایران تیار ہی نہیں تھا۔ ٹرمپ نے جنگ بندی کی من پسند شرائط رکھی تھیں
ٹرمپ نے دباؤ کی حکمت عملی جاری رکھی ٹرمپ نے خود کہا: "The blockade scares them even more than the bombing” یعنی وہ سمجھتا ہے آبنائے ہرمز کی بحری ناکہ بندی سے ایران زیادہ دباؤ میں ہے۔ مذاکرات روک کر وہ ایران کو مجبور کرنا چاہتا ہے کہ پہلے جھکے۔
اس سلسلے امریکہ نے آبنائے ہرمز میں ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی نہیں ہٹائی۔ٹرمپ نے کہا کوئی "جلدی نہیں”۔ مطلب خفیہ رابطے عمان/قطر سے چلتے رہیں گے۔مذاکرات اس لیے ٹوٹے کیونکہ *ایران براہ راست ملنے کو تیار نہیں تھا، اور امریکہ "خالی میٹنگ” نہیں کرنا چاہتا تھا۔ ٹرمپ سمجھتا ہے کہ دباؤ بڑھا کر وہ بہتر ڈیل لے گا۔ پاکستان کا کردار ثالث کا رہا، اس لیے شکریہ ادا کیا۔پاکستان نے امریکہ اور ایران سے دو طرفہ موثر سفارتکاری کر کے جنگ بندی کو برقرار رکھا ہوا ہےدنیا پر اس کے مثبت اثرات سامنے آ رہے ہیں پاکستان ایران کا ہمسایہ بھی ہے اور امریکہ کا اہم پارٹنر بھی۔ گذشتہ سال 2024ء میں ایران،اسرائیل کشیدگی اور 26-2025ء میں خطے میں تناؤ کے دوران پاکستان نے "بیک چینل” سفارتکاری کی جس کے نتیجہ میں تیل کی قیمتوں اور عالمی معیشت میں قدرے استحکام پیدا ہوا ایران پر امریکی جارحیت ہی آبنائے ہرمز بند ہونا کا سبب بنی اب امریکہ بین الاقوامی اصولوں کی پاسداری نہ کرتے ہوۓ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کر رکھی ہے ۔ دنیا کا 20% تیل یہاں سے گزرتا ہے۔ جنگ بندی سے تیل 90 سے 105 ڈالر فی بیرل کی رینج میں رہا، بصورت دیگر 150 ڈالر فی بیرل سے بھی زائد ہو جاتا۔پاکستان، بھارت، چین، یورپ جیسے تیل درآمد کرنے والے ملک۔ مہنگائی کنٹرول میں رہی، غریب ملکوں میں خوراک، ٹرانسپورٹ اور توانائی کا معاشی بحران ٹلا ہے
اگر ایران امریکہ براہ راست لڑتے تو اسرائیل، حزب اللہ، حوثی، خلیجی ملک سب لپیٹ میں آ جاتے۔ یہ تیسری عالمی جنگ کی صورت اختیار کر سکتی تھی
دنیا میں تقریبا’ 2 کروڑ سے زیادہ پناہ گزینوں کا نیا بحران رُک گیا۔ یورپ میں 2015ء جیسا مہاجر بحران دوبارہ نہیں آیا۔ عالمی سپلائی چین متاثر نہیں ہوئی۔
گلوبل ساؤتھ” کی سفارتکاری کو کریڈٹ ملا، امریکہ،روس،چین ہی ثالث بنتے تھے۔ پاکستان، قطر، عمان جیسے ملکوں نے دکھایا کہ علاقائی طاقتیں بھی جنگ رکوا سکتی ہیں۔
اقوام متحدہ سے باہر "منصفانہ ثالثی” کا نیا ماڈل بنا۔ چھوٹے ملکوں کا اعتماد بڑھا کہ وہ بھی بڑی طاقتوں کے بیچ پل بن سکتے ہیں۔
ایران-امریکہ جنگ ہوتی تو داعش-خراسان، ٹی تی پی ، دھشت گردبلوچ سرمچاروں کو کھل کھیلنے کا موقع ملتا۔ ایران،پاکستان،افغان سہ فریقی بارڈر پر عدم استحکام آ جاتا پاکستان اور ایران نے بارڈر تعاون بڑھایا۔ منشیات، اسلحہ سمگلنگ، فرقہ واریت پر مشترکہ کریک ڈاؤن ہوا۔ یورپ تک ہیروئن کی سپلائی چین متاثر ہوئی۔جنگ کی صورت میں ایران فوری طور پر این پی ٹی سے نکل کر بم بنا سکتا ہے سعودی عرب، ترکی، مصر بھی دوڑ میں لگ جاتے۔جنگ بندی نے IAEA کو ایران سے مذاکرات کا وقت دیا۔ مشرق وسطیٰ "جوہری ہتھیاروں سے پاک” رہنے کا ممکنہ مواقع حاصل ہوۓ ہیں
لیکن یہ واضح رہے کہ جنگ بندی "نازک” ہے۔ ایک غلط اقدام یا ایک غلط فہمی سے سب ختم ہو سکتا ہے۔ پاکستان کے لیے چیلنج یہ ہے کہ امریکہ کے ساتھ سٹریٹیجک پارٹنر چاہیے، اور ایران سے گیس پائپ لائن اور بارڈر امن چاہیے۔ توازن رکھنا مسلسل سفارتکاری کا تقاضا کرتا ہے
پاکستان کی کوشش سے دنیا کو مہنگا تیل، نئی پناہ گزین لہر، اور جوہری ہتھیاروں کی دوڑ سے عارضی بچت ملی ” کرائسز منیجمنٹ سے مسئلہ مستقل طور پرحل نہیں ہوا، مگر فی الحال ایک آتش فشاں پھٹنے سے بچ گیا ۔امریکہ اران کے مابین مستقل جنگ بندی اور مستقل امن "ناممکن” نہیں، پاکستان جیسے ملک اس میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں کیونکہ دونوں طرف بات کر سکتے ہیں۔ مگر فیصلہ تہران اور واشنگٹن نے کرنا ہے۔
ٹرمپ کی "ناکہ بندی , دباؤ اور خوف” کی حکمت عملی ایران کو تکلیف ضرور دے سکتی ہے، معیشت کو ناقابل تلافی نقصان ہو سکتاہے ، مگر ایران کو "گھٹنے ٹیکنے” پر مجبور نہیں کر سکے گی ایرانی تیل کی ناکہ بندی سے برآمدات 2.8 ملین بیرل سے گر کر 0.3 ملین ہوسکتی ہے اندازا” 100 ارب ڈالر سالانہ نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا ایرانی کرنسی کو ڈی ویلیو کرنا بھی امریکہ کا ایک معاشی حملہ ہے ایران پر بینکنگ پابندی اور ایرن کو ڈالر میں تجارت پر مجبور کرنا ایران میں ادویات اور ، خوراک کا حصول بھی مشکل ترین بنادینا ۔گذشتہ سال 2020ء-2022ء میں انسولین، کینسر کی دوا کی قلت سے بڑے پیمانے پر انسانی اموات ہوئیں آبنائے ہرمز میں امریکی بحری بیڑوں کی ناکہ بندی سے چین اور بھارت کو تیل بیچنا مہنگا اور تیل کی سپلائی کو خطرناک بنانا امریکی حکمت عملی کا حصہ ہے ۔ 2022 میں نام نہاد زندگی اور آزادی مظاہرے اسی معاشی درد کی آڑ میں کرائے گئے۔ ٹرمپ یہی چاہتا ہے کہ عوام تنگ آ کر حکومت گرائیں۔ لیکن امریکہ کا رجیم چینج کا حربہ ناکام ہوچکا ہے ایران کے سپریم کمانڈر سمیت اعلی’ قیادت کو قتل کرنے کے ردعمل میں ایرانی قوم مزید متحد اور مضبوط دکھائی دیتی ہے امریکہ کو تسلیم کرنا ہو گا کہ درد دینا اور ہار ماننا دو الگ چیزیں ہیں۔ ایران کبھی نہیں جھکے گا اس کی سب سے بڑی وجہ 1979ء سے لیکر 2026ء انقلاب ایران کے تحت قومی "نظام کی بقاء اور تسلسل ہے جبکہ ایرانی قیادت سمجھتی ہے: قذافی نے ایٹم چھوڑااور نیٹو نے اسے مار دیا۔ شمالی کوریا نے ایٹم رکھا اور پاکستان نے ایٹم بم بنایا اسے کوئی ہاتھ لگانے کی جرأت نہیں کرسکتا ۔ اس لیے جوہری پروگرام ایران کی سلامتی اور بقاء کی اصل ضمانت ہے رپورٹ کے مطابق رواں سال 2026ء میں جنگ بندی کے دوران بھی ایران میں 60% افزودگی جاری رہی۔ جو کہ امریکہ کے لئے تشویشناک ہے امریکہ دباؤ میں مزید اضافہ کے باوجود چین اور روس ایران کو "آکسیجن” فراہم کر رہے ہیں گذشتہ سال 2025ء میں چین نے 90% ایرانی تیل خریدا جبکہ روس 30% ڈسکاؤنٹ پرایران کو S-400، SU-35 دفاعی نظام دے رہا۔ امریکہ کی طرف سے ناکہ بندی کے باوجود ایران $35 ارب سالانہ کما رہا – ایران کی سپاہ اور عوام مرنے سے نہیں کی ے بلکہ شہادت قبول ہے امریکہ کے سامنےجھکنا کسی صورت منظور نہیں خامنہ ای کی حقیقی طاقت "امریکہ کے سامنے نہ جھکنے” پر ہے. ٹرمپ کی "ڈیڈ لائن” کمزور ٹرمپ ہر 2 ہفتے نئی ڈیڈ لائن دیتا ہے، پھر بڑھا دیتا ہے۔ ایران نے سیکھ لیا: "انتظار کرو، خود ٹل جائے گا” کیونکہ 24 اپریل 2026: "24 گھنٹے”اور پھر "3/5 دن کی توسیع۔ امریکہ کے قول وفعگ کا اعتبار ختم ہو چکا ہے امریکہ کے "دباؤ” کا 47 سالہ ریکارڈ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی بار بار کھلی جارحیت اور حملوں اور عالمی پابندیوں کے باوجود امریکہ ایران پر قابو پانے میں ناکام چلا أرہا ہے مبصرین کے مطابق اب ٹرمپ کی حکمت عملی ہہ ہے کہ وہ "ڈیل میکر” کہلوانا چاہتا ہے”وار پریذیڈنٹ” نہیں۔ مگر اس کے لیے اسے "دباؤ اور خوف” کم کرنا پڑے گا ایرن کو ” رعائتیں ” دینا پڑیں گی امریکہ کی دباؤ اور خوف کی حکمت عملی 30% کامیاب، 70% ناکام ثابت ہوچکی ہے کیونکہ "خوف مسلط کرنا” صرف اس پر چلتا ہے جو ڈرتا ہو۔ ٹرمپ کو تزویراتی حالات سے نکلنے کے لئے "سرنڈر کرو” کی جگہ "ڈیل کرو، عزت سے” کہنا پڑے گا۔ ورنہ ناکہ بندی ایران کو بھوکا مارے سکتی ہے، مگر امریکی شرائط نہیں منوائے گی امریکی صدر ٹرمپ کو نوشتۀ دیور پڑھ لینا چاہیۓ کہ "گن پوائنٹ” پر ٹرمپ ایران سے اپنی مرضی کی ڈیل نہیں کرا سکتا۔ مذکرات ککی میز پر گن پوائنٹ پر سے ایران مزید سخت ہو جاتا ہے۔جسکی وجہ 47 سال کی مزاحمتی تاریخ اور 2026ء کی جنگ کے زمین حقائق ساری دنیا کے سامنے ہیں” امریکی گن پوائنٹ ڈپلومیسی کی ناکامی کا ااصل سبب ایران کا ” شوق شہادت کلچر” ہے ایرانی قیادت کے لیے امریکہ کے سامنے جھکنا سیاسی اور نظریاتی موت ہے 1980ءمیں عراق نے حملہ کیا تو 8 سال لڑے، 10 لاکھ ی قربانیاں دیں ، مگر جھکے نہیں۔ ٹرمپ کی ہر دھمکی سے خامنہ ای کو اندرونی جواز مل جاتا ہے۔ 2019 ء میں ٹرمپ نے "مکمل تباہی” کی دھمکی دی، ایران نے اس کے بر عکس یورینیم کی افزودگی 60% کر دی۔ ایران کے پاس اب کھونے کو کچھ نہیں رہا پابندیوں سے معیشت پہلے ہی تباہ حال ہے عوام 40% مہنگائی میں مردانہ وار جی رہے ہیں ۔ بمباری سے کون سا نقصان ہو گا جو پہلے نہیں ہوا؟ الٹا جنگ سے قوم پرست جذبہ مزید تقویتابھرا ہے ایرانی رجیم مضبوط ہو ئی ۔ 1988ء میں عراق جنگ بندی کے وقت امام خمینی نے کہا "زہر کا گھونٹ پی رہا ہوں”۔ مگر یہ تب کہا تھا جب اایران عراق میں بغداد تک پہنچ گیا تھا۔ ابھی امریکہ تہران سے 2000 کلومیٹر دور ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ایران کی "جوابی گن” بہت بڑی ہے امریکہ گن پوائنٹ پر یک طرفہ فیصلہ نہیں کرا سکتا ایران کی آبنائے ہرمز کی. ناکہ بندی عالمی کساد بازاری کے باووجود ایران سرنڈر کو تیار نہیں جبکہ عراق-شام-لبنان میں امریکی فوجیوں پر ایراانی میزائل حملے ، اسرائیل پر 2000 میزائل برسائے۔ سعودی اور عرب امارات کی تیل تنصیبات تباہی اور عین الاسد پر 16 میزائل مار کر ایران نے واضح بتا دیا "ہم جواب دیں گے”۔ جس پر ٹرمپ نے آگے حملہ نہیں کیا۔ ٹرمپ خود بھی مکمل جنگ نہیں چاہتا کیونکہ ٹرمپ کی "زیادہ سے زیادہ دباؤ” والی حکمت عملی 2018ء-2020ء فیل ہوئی اور ٹرمپ پہلے بھی گن پوائنٹ آزما چکا لیکن ناکام رہا دباؤ سے ایران "کم” نہیں، "زیادہ” خطرناک بنتا ہے۔ اس تناظر میں مبصرین کا خیل ہے کہ ڈیل ہو سکتی ہے، مگر "گن پوائنٹ” پر نہیں۔ایران عزت” والی شرطوں پر جھک سکتا ہے، چہرہ بچاؤ فارمولا کے تحت ” مگر ". دو طرفہباہمی اقدامات "کئے جائیں ایران یورنیم کیی افزودگی 60% پر فریز کردے، امریکہ ایران کے منجمند اثاثے بحال کرے اور فوری طور پر10 ارب ڈالر جاری کرے۔ دونوں امن جیت کا اعلان کریں۔ اس دو طرفہ ڈیل کی گارنٹی چین ، روس اور سعودی تحریری دیں کہ اگر امریکہ نے ڈیل سے روگردانی کی تو وہ ایران کا تیل خریدیں گے۔ 2018ء والامریکیا دھوکہ نہ ہو۔ ٹرمپ کو "گن” جیب میں رکھنی پڑے گی اور کہنا پڑے گا "ہم عزت دیتے ہیں”۔ جبکہ ٹرمپ کو یہ بھی یاد رکھنا ہو گا. کہ جتنی دھمکی، اتنی ڈیل دور ہوگی اس سلسلے پاکستان کا کردار یہی ہے کہ ٹرمپ کی گن جیب میں رکھوانا، اور ایران کی کرسی کھینچ کر اسے بٹھانا۔ اپریل 2026ء کی جنگ بندی اسی کا پہلا قدم تھی۔



