پاکستاناہم خبریں

پاکستان-افغان سرحدی صورتحال: برطانوی نمائندہ خصوصی کے بیان پر پاکستان کا سخت ردعمل

افغان طالبان کی جانب سے بلا اشتعال سرحد پار فائرنگ اور حملوں میں اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان کے اندر شہریوں اور سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا گیا

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
پاکستان نے افغانستان کے لیے برطانوی نمائندہ خصوصی طاہر اندرابی کے ذریعے جاری کردہ بیان میں پاکستان-افغانستان سرحدی صورتحال پر برطانوی مؤقف کو یک طرفہ اور زمینی حقائق سے لاعلم قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کر دیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے میڈیا کے سوالات کے جواب میں کہا کہ پاکستان نے برطانوی اسپیشل ریپریزنٹیٹو فار افغانستان (SRA) کی سوشل میڈیا پوسٹ کا بغور جائزہ لیا ہے، تاہم اس میں پیش کیے گئے نکات سرحدی حالات کی پیچیدگی اور حساسیت کو درست انداز میں بیان کرنے میں ناکام ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے یک طرفہ تبصرے نہ صرف زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے بلکہ خطے میں جاری سکیورٹی چیلنجز کو بھی نظر انداز کرتے ہیں۔
بیان میں واضح کیا گیا کہ مارچ 2026 میں پاکستان کی جانب سے خیرسگالی کے جذبے کے تحت سرحدی کشیدگی میں کمی کے لیے عارضی توقف کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم اس کے باوجود افغان سرزمین سے دہشت گردوں کی دراندازی اور حملوں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ ترجمان کے مطابق، افغان طالبان کی جانب سے بلا اشتعال سرحد پار فائرنگ اور حملوں میں اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان کے اندر شہریوں اور سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا گیا۔
مزید برآں، پاکستان نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ افغان طالبان کی پشت پناہی میں ہندوستانی پراکسی عناصر پاکستان کے اندر دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ ان حملوں کے نتیجے میں متعدد شہری زخمی ہوئے، جبکہ سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔
دفتر خارجہ کے مطابق، پاکستان نے انتہائی تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے صرف مخصوص اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں دہشت گردوں کے ٹھکانے اور معاونت فراہم کرنے والا بنیادی ڈھانچہ شامل تھا۔ اس دوران افغان سرزمین سے دراندازی کی متعدد کوششوں کو بھی ناکام بنایا گیا۔
ترجمان نے افغان حکام کی جانب سے شہری ہلاکتوں کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد اور ناقابلِ اعتبار قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کارروائیاں مکمل طور پر ذمہ دارانہ اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق تھیں، جن کا مقصد صرف دہشت گردی کے خطرے کو ختم کرنا تھا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ دہشت گردی کے بنیادی اسباب کو نظر انداز کرتے ہوئے اس نوعیت کے بیانات دینا نہ تو تعمیری ہے اور نہ ہی خطے میں امن کے قیام کے لیے مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ ترجمان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ علاقائی حرکیات، پاکستان کے مؤقف اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی عوام اور سکیورٹی اداروں کی قربانیوں کو بہتر طور پر سمجھے۔
آخر میں، پاکستان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اپنی سرزمین کے دفاع، شہریوں کے تحفظ اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رکھے گا، جبکہ خطے میں پائیدار امن کے لیے تعمیری سفارت کاری کو بھی فروغ دیتا رہے گا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button