پاکستان میں گوادر پورٹ کی بڑھتی اہمیت: مئی کا پہلا بڑا ٹرانس شپمنٹ جہاز لنگر انداز، عالمی تجارت کا نیا مرکز ابھرنے لگا
ڈائیورٹ ہونے والے جہازوں کے لیے بندرگاہ پر برتھنگ، کارگو ہینڈلنگ اور دستاویزی عمل کو تیز اور مؤثر بنایا گیا ہے تاکہ عالمی تجارتی سرگرمیوں میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ آئے
رپورٹ سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
پاکستان کے گہرے سمندری بندرگاہ گوادر پورٹ پر رواں ماہ مئی کا پہلا بڑا ٹرانس شپمنٹ کارگو جہاز لنگر انداز ہو گیا ہے، جو بندرگاہ کی بڑھتی ہوئی اہمیت اور خطے میں اس کے ابھرتے ہوئے کردار کی واضح علامت ہے۔
پورٹ حکام کے مطابق “ایم وی شو لانگ” نامی کارگو جہاز گوادر پہنچا، جو مئی 2026 کے دوران بندرگاہ پر آنے والا پہلا بڑا جہاز ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس جہاز کی آمد نہ صرف گوادر پورٹ کی تجارتی سرگرمیوں میں اضافے کو ظاہر کرتی ہے بلکہ یہ عالمی سطح پر متبادل بحری راستوں کی تلاش کے رجحان کو بھی اجاگر کرتی ہے۔
میڈیا کوآرڈینیٹر گوادر پورٹ نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ جہاز میں مجموعی طور پر 16 ہزار 77 میٹرک ٹن ٹرانس شپمنٹ کارگو موجود ہے۔ اس کارگو میں 13 ہزار سے زائد پیکجز شامل ہیں، جن میں زیادہ تر چینی ساختہ صنعتی آلات، بھاری مشینری اور پائپس شامل ہیں۔ یہ سامان دراصل کویت کے لیے بھیجا جا رہا تھا، تاہم آبنائے ہرمز میں جاری کشیدہ بحری صورتحال کے باعث جہاز کو گوادر کی جانب موڑ دیا گیا۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز میں غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی شپنگ کمپنیوں نے متبادل اور محفوظ راستوں کی تلاش تیز کر دی ہے، جس کا براہِ راست فائدہ گوادر پورٹ کو پہنچ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ مہینوں میں بندرگاہ پر ٹرانس شپمنٹ سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
چیئرمین گوادر پورٹ نورالحق بلوچ نے اس پیش رفت کو بندرگاہ کے لیے ایک مثبت سنگ میل قرار دیتے ہوئے بتایا کہ اپریل 2026 کے دوران بھی گوادر پورٹ پر چار ٹرانس شپمنٹ جہازوں کی آمد ریکارڈ کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اعداد و شمار اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ خطے میں متبادل بحری راستوں کی ضرورت بڑھ رہی ہے اور گوادر اس ضرورت کو پورا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ڈائیورٹ ہونے والے جہازوں کے لیے بندرگاہ پر برتھنگ، کارگو ہینڈلنگ اور دستاویزی عمل کو تیز اور مؤثر بنایا گیا ہے تاکہ عالمی تجارتی سرگرمیوں میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ آئے۔ ان کے مطابق جدید سہولیات، تیز رفتار کلیئرنس سسٹم اور مؤثر لاجسٹکس کے باعث گوادر پورٹ بین الاقوامی تاجروں کے لیے ایک قابلِ اعتماد مرکز بنتا جا رہا ہے۔
بحری اور تجارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ گوادر پورٹ کی جغرافیائی اہمیت اسے بحیرہ عرب میں ایک اسٹریٹجک مقام فراہم کرتی ہے۔ یہ بندرگاہ نہ صرف خلیجی ممالک بلکہ وسطی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے درمیان تجارت کے لیے ایک اہم گیٹ وے کے طور پر ابھر رہی ہے۔
مزید برآں، چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تناظر میں گوادر پورٹ کی ترقی کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ چینی سرمایہ کاری اور تعاون کے ذریعے اس بندرگاہ کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف پاکستان کی معیشت کو فائدہ پہنچے گا بلکہ خطے میں تجارتی روابط کو بھی فروغ ملے گا۔
حکام کے مطابق گوادر پورٹ بتدریج بحیرہ عرب میں ایک اہم ٹرانس شپمنٹ حب کے طور پر اپنی شناخت بنا رہا ہے، جو خلیجی اور علاقائی منڈیوں کے لیے محفوظ، مؤثر اور کم لاگت متبادل فراہم کرتا ہے۔ موجودہ حالات میں جب عالمی تجارت کو مختلف جغرافیائی اور سیاسی چیلنجز کا سامنا ہے، گوادر پورٹ ایک مستحکم اور قابلِ اعتماد راستے کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔
مقامی کاروباری حلقوں نے بھی اس پیش رفت کا خیر مقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ بندرگاہ پر تجارتی سرگرمیوں میں اضافے سے نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ بلوچستان کی معیشت کو بھی نئی زندگی ملے گی۔
یوں گوادر پورٹ پر “ایم وی شو لانگ” کی آمد محض ایک جہاز کی لنگراندازی نہیں بلکہ پاکستان کے بحری و تجارتی مستقبل کے لیے ایک اہم پیش رفت کی علامت ہے، جو اس بندرگاہ کو عالمی نقشے پر ایک نمایاں مقام دلانے میں مدد دے رہی ہے۔



