پاکستاناہم خبریں

کوئٹہ میں پریس کانفرنس: مبینہ خودکش بمبار خاتون گرفتار، بڑی تباہی ناکام بنا دی گئی

پریس کانفرنس کے دوران مبینہ خودکش بمبار خاتون نے بتایا کہ وہ تربت کی رہائشی ہے اور اس کے والدین بزرگ جبکہ بہن بھائی کم عمر ہیں

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ سکیورٹی اور انٹیلی جنس اداروں نے ایک بروقت کارروائی کرتے ہوئے ایک مبینہ خودکش بمبار خاتون کو گرفتار کر لیا، جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسے اسلام آباد میں ایک اہم مقام کو نشانہ بنانے کا ٹاسک دیا گیا تھا۔
پیر کے روز کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان نے مبینہ خاتون کو اپنے ساتھ بٹھایا اور کہا کہ سکیورٹی اداروں نے دہشت گردی کے ایک بڑے منصوبے کو ناکام بنا دیا ہے۔ ان کے مطابق خاتون کا تعلق بلوچستان کے علاقے تربت سے ہے اور اسے شدت پسند تنظیم کے کیمپ میں تربیت دی گئی تھی۔
سرفراز بگٹی نے کہا کہ خاتون کو خودکش حملے کے لیے تیار کیا گیا تھا اور اس دوران اسے ذہنی دباؤ اور بلیک میلنگ کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد عناصر نوجوان خواتین کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں، جو بلوچ روایات اور معاشرتی اقدار کے خلاف ہے۔
انہوں نے کہا:“ہم اپنی بچیوں کو تعلیم دینا چاہتے ہیں جبکہ دہشت گرد انہیں خودکش جیکٹ پہنانا چاہتے ہیں۔”
وزیراعلیٰ بلوچستان کے مطابق اس کیس میں خاتون کا ایک قریبی رشتہ دار، یعنی کزن، بھی مبینہ طور پر ملوث تھا، جس نے اسے شدت پسند تنظیم کے لیے کام کرنے پر مجبور کیا۔
مبینہ خاتون کا بیان
پریس کانفرنس کے دوران مبینہ خودکش بمبار خاتون نے بتایا کہ وہ تربت کی رہائشی ہے اور اس کے والدین بزرگ جبکہ بہن بھائی کم عمر ہیں۔
اس نے دعویٰ کیا کہ اس کے کزن نے اسے دھمکیاں دیں کہ اگر اس نے “فدائی حملہ” نہ کیا تو اس کے والد کو قتل کر دیا جائے گا۔ خاتون کے مطابق اسی خوف کے باعث وہ اس کام کے لیے آمادہ ہوئی۔
خاتون نے مزید کہا کہ ابتدا میں وہ صرف موبائل فون کارڈ پہنچانے اور کھانے پکانے جیسے کام کرتی رہی، تاہم بعد میں اسے معلوم ہوا کہ یہ تمام سرگرمیاں کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کے لیے کی جا رہی ہیں۔
اس کے مطابق اسے دو مرتبہ آنکھوں پر پٹی باندھ کر پہاڑی علاقوں میں لے جایا گیا جہاں مسلح افراد سے ملاقات کروائی گئی اور وہاں اسے خودکش حملے کے لیے تیار کیا گیا۔
“بچی کو باعزت طور پر والد کے حوالے کریں گے”
سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت اور سکیورٹی ادارے خاتون کے ساتھ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر پیش آ رہے ہیں اور اسے باعزت طریقے سے اس کے والد کے حوالے کیا جائے گا۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے خاتمے اور نوجوانوں، خصوصاً خواتین، کو شدت پسند تنظیموں کے اثر سے بچانے کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button