کاروبار

پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں تاریخی اضافہ، رواں مالی سال میں 4.6 بلین ڈالر تک پہنچنے کی توقع

حکومت آئی ٹی صنعت کے فروغ، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی توسیع اور برآمدات میں اضافے کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کیے ہوئے ہے۔

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

پاکستان کے انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) اور ٹیلی کام سیکٹر نے حالیہ برسوں میں غیر معمولی ترقی کرتے ہوئے ملکی معیشت میں ایک مضبوط ستون کی حیثیت اختیار کر لی ہے، اور اب حکومت کو توقع ہے کہ رواں مالی سال کے اختتام تک آئی ٹی برآمدات 4.5 سے 4.6 بلین ڈالر تک پہنچ جائیں گی۔

یہ بات وزیرِ اعظم کے دفتر کی جانب سے پیر کو جاری کیے گئے ایک بیان میں سامنے آئی، جس میں کہا گیا کہ حکومت آئی ٹی صنعت کے فروغ، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی توسیع اور برآمدات میں اضافے کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کیے ہوئے ہے۔

وزیراعظم کی زیرِ صدارت اہم اجلاس

شہباز شریف نے اسلام آباد میں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کام سیکٹر سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی، جس میں متعلقہ حکام نے آئی ٹی برآمدات، ڈیجیٹل سہولیات، انٹرنیٹ انفراسٹرکچر اور فائیو جی سپیکٹرم کی حالیہ نیلامی سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ پاکستان کا آئی ٹی شعبہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور عالمی مارکیٹ میں پاکستانی آئی ٹی خدمات کی مانگ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ حکام کے مطابق حکومت کی پالیسیوں، فری لانسرز کی بڑھتی ہوئی تعداد اور ڈیجیٹل معیشت کی توسیع نے اس شعبے کو نئی بلندیوں تک پہنچایا ہے۔

وزیرِ اعظم کے دفتر کے بیان میں کہا گیا:

“رواں مالی سال پاکستان کو آئی ٹی برآمدات سے 4.5 سے 4.6 بلین ڈالر حاصل ہونے کی توقع ہے۔ آئی ٹی سیکٹر کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلقہ برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔”

آئی ٹی برآمدات میں ریکارڈ اضافہ

پاکستان کے آئی ٹی اور آئی ٹی سے منسلک خدمات کے شعبے نے مالی سال 2025 میں 3.8 بلین ڈالر کی ریکارڈ برآمدات کیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 18 فیصد زیادہ تھیں۔

یہ بھی بتایا گیا کہ دسمبر 2025 میں پہلی مرتبہ ماہانہ آئی ٹی برآمدات 400 ملین ڈالر کی حد عبور کر گئیں، جسے ماہرین نے پاکستانی ڈیجیٹل معیشت کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026 کے ابتدائی سات مہینوں میں آئی سی ٹی برآمدی ترسیلات تقریباً 20 فیصد اضافے کے ساتھ 2.61 بلین ڈالر تک پہنچ چکی ہیں، جو اس شعبے کی مسلسل ترقی کی عکاسی کرتی ہیں۔

معیشت کے لیے اہم سہارا

ماہرینِ معیشت کے مطابق آئی ٹی سیکٹر پاکستان کے لیے زرِ مبادلہ کا تیزی سے بڑھتا ہوا ذریعہ بن چکا ہے، جس نے ادائیگیوں کے توازن کو بہتر بنانے اور بیرونی کھاتوں پر دباؤ کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

حکومت کی جانب سے آئی ٹی برآمد کنندگان کو اپنی آمدن بینکاری چینلز کے ذریعے پاکستان منتقل کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے، جس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔

ڈیجیٹل خدمات کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی طلب، پاکستانی نوجوانوں کی ٹیکنالوجی میں دلچسپی اور فری لانسرز کی بڑی تعداد نے بھی اس شعبے کو تقویت دی ہے۔

گھریلو انٹرنیٹ کنیکشنز میں نمایاں اضافہ

وزیرِ اعظم کے دفتر کے مطابق ملک بھر میں گھریلو انٹرنیٹ کنیکشنز کی تعداد میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ:

  • 2024 میں گھریلو انٹرنیٹ کنیکشنز کی تعداد 1.9 ملین تھی
  • جبکہ 2026 میں یہ بڑھ کر 5.1 ملین تک پہنچ گئی

حکام کے مطابق تیز رفتار انٹرنیٹ کی دستیابی، فائبر نیٹ ورک کی توسیع اور ڈیجیٹل سہولیات میں بہتری نے شہری اور دیہی علاقوں میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ کیا ہے۔

فائیو جی سپیکٹرم نیلامی سے 509 ملین ڈالر آمدن

اجلاس میں فائیو جی سپیکٹرم کی حالیہ نیلامی کے نتائج بھی پیش کیے گئے۔

حکام کے مطابق پاکستان نے حال ہی میں فائیو جی سپیکٹرم کی نیلامی سے 509 ملین ڈالر کی آمدنی حاصل کی، جسے 2016 کے بعد دنیا کی سب سے بڑی سپیکٹرم نیلامی قرار دیا گیا۔

ماہرین کے مطابق فائیو جی ٹیکنالوجی کے آغاز سے پاکستان میں:

  • انٹرنیٹ کی رفتار میں نمایاں اضافہ ہوگا
  • آن لائن کاروبار کو فروغ ملے گا
  • ای کامرس، ایجوکیشن اور ہیلتھ ٹیکنالوجی کے شعبوں میں جدت آئے گی
  • نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے

اسلام آباد میں ڈیجیٹل سہولیات کے منصوبے

وزیرِ اعظم کے دفتر نے بتایا کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مفت انٹرنیٹ ہاٹ سپاٹس کے قیام کے منصوبے آخری مراحل میں داخل ہو چکے ہیں۔

اس کے علاوہ:

  • فاطمہ جناح پارک
  • سیدپور ماڈل ولیج

میں جدید ای لرننگ پوڈز نصب کیے جا رہے ہیں تاکہ نوجوانوں اور طلبہ کو جدید ڈیجیٹل تعلیم اور آن لائن سیکھنے کی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

ماہرین کی رائے

ٹیکنالوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت مستقل بنیادوں پر ڈیجیٹل پالیسیوں کو جاری رکھتی ہے، انٹرنیٹ کی رفتار اور رسائی بہتر بناتی ہے اور آئی ٹی کمپنیوں کو سہولیات فراہم کرتی ہے تو پاکستان آئندہ چند برسوں میں خطے کے بڑے آئی ٹی برآمد کنندگان میں شامل ہو سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق پاکستان میں نوجوان آبادی، فری لانسنگ کلچر اور سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کی بڑھتی ہوئی صلاحیت عالمی سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button