سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے افغانستان کی عبوری حکومت پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں اور کہا ہے کہ کابل حکومت اس وقت بھارت کی پراکسی کے طور پر کام کر رہی ہے اور پاکستان کے خلاف دہشت گرد گروہوں کی پشت پناہی ختم کرنے کی ضمانت دینے کو تیار نہیں۔
ان کے بیان نے ایک ایسے وقت میں نئی سیاسی اور سفارتی بحث چھیڑ دی ہے جب پاکستان اور افغانستان کے تعلقات پہلے ہی شدید کشیدگی کا شکار ہیں اور سرحدی علاقوں میں جھڑپوں کے واقعات بھی رپورٹ ہو چکے ہیں۔
’’دہلی اور کابل میں کوئی فرق نہیں‘‘
قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ اس وقت کابل اور نئی دہلی کے درمیان کوئی بنیادی فرق نہیں رہا۔
انہوں نے کہا:
“اس وقت دہلی اور کابل میں کوئی فرق نہیں، مشرقی اور مغربی سرحد پر ایک ہی دشمن بیٹھا ہوا ہے۔”
وزیر دفاع کے مطابق پاکستان کو دونوں محاذوں پر ایک ہی طرز کے خطرات کا سامنا ہے، جن میں مبینہ طور پر دہشت گردی کی سرپرستی اور پاکستان مخالف سرگرمیوں کی معاونت شامل ہے۔
دہشت گردی کے الزامات اور سفارتی کوششیں
خواجہ آصف نے الزام عائد کیا کہ پاکستان نے بارہا افغانستان سے دیانتداری کے ساتھ مذاکرات کی کوشش کی اور دہشت گرد گروہوں کی پشت پناہی ختم کرنے کی درخواست کی، لیکن ان کوششوں کا کوئی مثبت نتیجہ سامنے نہیں آیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے مختلف دوست ممالک کی ثالثی بھی استعمال کی، جن میں Saudi Arabia، Turkey اور Qatar شامل ہیں، تاہم مسئلہ حل نہیں ہو سکا۔
وزیر دفاع کے مطابق پاکستان نے کئی سطحوں پر کوشش کی کہ افغانستان کے ساتھ بات چیت کے ذریعے دہشت گردی کے مسئلے کو حل کیا جائے، لیکن پیش رفت نہ ہونے کے باعث صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔
’’تنگ آمد بجنگ آمد‘‘ — سخت لہجہ اختیار
اپنے خطاب میں خواجہ آصف نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اگر صورتحال بہتر نہ ہوئی تو پاکستان سخت اقدامات پر مجبور ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا:
“تنگ آمد بجنگ آمد، پھر تو جنگ ہو گی جو ہم نے دہلی کے ساتھ کیا وہی کابل کے ساتھ کریں گے۔”
ان کے اس بیان کو سیاسی اور سفارتی حلقوں میں انتہائی حساس قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ یہ خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
دہشت گردی اور سرحدی صورتحال پر مؤقف
وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان کو طویل عرصے سے دہشت گردی کا سامنا ہے اور ابتدائی مراحل میں بعض صوبائی حکومتوں کی طرف سے تعاون نہیں تھا، تاہم اب صورتحال بہتر ہو رہی ہے اور تمام ادارے ایک پیج پر ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ افغانستان سے آنے والے عناصر پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں، جبکہ Afghanistan ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔
پاکستانی مؤقف کے مطابق سرحدی علاقوں میں شدت پسند گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں حاصل ہیں، جنہیں ختم کیے بغیر خطے میں امن ممکن نہیں۔
پاک افغان تعلقات میں بڑھتی کشیدگی
گزشتہ کچھ عرصے سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات میں نمایاں تناؤ دیکھا جا رہا ہے۔ سرحدی جھڑپوں، سکیورٹی خدشات اور سفارتی اختلافات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
دونوں ممالک ایک دوسرے پر الزامات عائد کرتے رہے ہیں—پاکستان کا کہنا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان مخالف گروہوں کے لیے استعمال ہو رہی ہے، جبکہ کابل حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی ہے اور کہتی ہے کہ وہ اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گی۔
علاقائی امن کے لیے چیلنجز
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان موجودہ کشیدگی نہ صرف دو طرفہ تعلقات بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی چینلز فعال نہ کیے گئے تو سرحدی تنازعات اور دہشت گردی کے خدشات مزید بڑھ سکتے ہیں، جس کا اثر علاقائی تجارت، نقل و حرکت اور سکیورٹی صورتحال پر بھی پڑے گا۔
آگے کا راستہ
سفارتی مبصرین کے مطابق موجودہ صورتحال میں ضرورت اس بات کی ہے کہ دونوں ممالک سیاسی سطح پر رابطے بحال کریں اور اعتماد سازی کے اقدامات کو فروغ دیں۔
تاہم حالیہ بیانات سے واضح ہے کہ اعتماد کا فقدان گہرا ہو چکا ہے اور خطہ ایک نئے سفارتی بحران کے دہانے پر کھڑا ہے، جس کے اثرات پورے جنوبی ایشیا پر پڑ سکتے ہیں۔



