مشرق وسطیٰتازہ ترین

واشنگٹن سنجیدہ ہو گا تو مذاکرات کریں گے، جنگ بندی برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں: عراقچی

عراقچی نے انکشاف کیا کہ واشنگٹن نے تہران کو مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے بات چیت جاری رکھنے کی آمادگی سے آگاہ کیا ہے

ایجنسیاں
ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ ہم جنگ دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہیں اور مذاکرات کی میز پر واپسی کے لیے بھی آمادہ ہیں
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے آج جمعے کے روز کہا ہے کہ تہران امریکہ پر "اعتماد نہیں کرتا” اور وہ مذاکرات میں تب ہی دل چسپی رکھتا ہے جب واشنگٹن سنجیدہ ہو۔
جمعے کے روز برکس ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے نئی دہلی کے دورے کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ ایران سفارت کاری کو موقع دینے کے لیے جنگ بندی کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔
وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ ان کا ملک حالات کی کسی بھی تبدیلی کے لیے تیار ہے اور وہ امریکہ کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع کرنے کے لیے بھی تیار ہے اور تنازع کے حل کے لیے مذاکرات کی میز پر واپسی کے لیے بھی۔ عراقچی نے کہا "ہم دونوں صورتوں کے لیے تیار ہیں، میدانِ جنگ میں واپسی یا مذاکرات کی میز پر واپسی، ہم مذاکرات کر رہے ہیں اور سفارت کاری کا راستہ چن رہے ہیں، ہمارے لیے کوئی فرق نہیں پڑتا، ہر چیز کا دارومدار دوسرے فریق کے انتخاب پر ہے”۔
عراقچی نے انکشاف کیا کہ واشنگٹن نے تہران کو مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے بات چیت جاری رکھنے کی آمادگی سے آگاہ کیا ہے، باوجود اس کے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تنازع کے حل کی تجویز پر تہران کے جواب کو مسترد کرنے کا اعلان کیا تھا۔
انہوں نے کہا "امریکی تجویز پر ایران کی تجویز یا جواب کو مسترد کرنے کے بارے میں جو کچھ کہا گیا وہ چند دن پرانی بات ہے، جب ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا کے ذریعے یہ پیغام دیا تھا کہ تہران کا جواب ناقابلِ قبول ہے”۔
ایرانی وزیر نے مزید کہا "لیکن اس کے بعد ہمیں امریکیوں کی جانب سے دوبارہ پیغامات موصول ہوئے ہیں کہ وہ تہران کے ساتھ بات چیت اور روابط جاری رکھنے کے لیے تیار ہیں”۔
ایرانی وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ تہران ایران کے افزودہ یورینیم کو روس منتقل کرنے سے متعلق ماسکو کی تجویز پر غور کرنے کے لیے تیار ہے لیکن یہ بعد میں ہو گا۔ انہوں نے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے حل کے سلسلے میں چین کے کسی بھی کردار کے حوالے سے اپنے ملک کی آمادگی کا اظہار بھی کیا۔ انہوں نے کہا "ہم مدد کی صلاحیت رکھنے والے ہر ملک بالخصوص چین کی قدر کرتے ہیں۔ چین کے ساتھ ہمارے تعلقات بہت اچھے ہیں، ہم اسٹریٹجک پارٹنرز ہیں … ہم جانتے ہیں کہ چینیوں کی نیت اچھی ہے، اس لیے ہم سفارت کاری کے حق میں ان کی ہر کوشش کا خیر مقدم کرتے ہیں”۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایرانی اخبار "تہران ٹائمز” نے آج رپورٹ دی ہے کہ امریکی انتظامیہ نے تنازع کے حل کے لیے ایران کے 14 نکاتی منصوبے کو قطعی طور پر مسترد کر دیا ہے۔
اخبار نے وضاحت کی کہ تہران کو تصفیے کے لیے اپنی تحریری تجویز پر واشنگٹن کی جانب سے جواب موصول ہوا ہے، جس میں اشارہ کیا گیا ہے کہ امریکہ نے ایران کی تمام تجاویز مسترد کر دی ہیں اور دباؤ کی پالیسی پر اپنی وابستگی کا اعادہ کیا ہے، خاص طور پر ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے۔
اخبار نے یہ بھی بتایا کہ اگر واشنگٹن ایرانی فریق کی تجاویز قبول کر لیتا ہے تو تہران جوہری معاملے سمیت دیگر مسائل پر مذاکرات کے دوسرے مرحلے کے آغاز کے لیے تیار ہو گا۔
یاد رہے کہ 10 مئی کو ایران نے تنازع کے حل کے لیے پاکستان کے ذریعے موصول ہونے والی امریکی تجاویز پر اپنا جواب پیش کیا تھا۔ امریکی اخبار "وال اسٹریٹ جرنل” کے ذرائع کے مطابق تہران نے اپنی جوہری تنصیبات کو ختم کرنے سے انکار کر دیا ہے جس پر واشنگٹن اصرار کر رہا ہے۔
اخبار نے اشارہ کیا کہ ایران نے یورینیم کی افزودگی معطل کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے، لیکن 20 سال کی مدت کے لیے نہیں جیسا کہ امریکہ مطالبہ کر رہا ہے۔ بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کے جواب کو ناقابلِ قبول قرار دیا تھا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button