پاکستان پریس ریلیزتازہ ترین

پاکستان اور روس کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے، روسی علم و ٹیکنالوجی سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں: مختار احمد بھرت

مختار احمد بھرت نے ایسوسی ایشن آف پاکستانی گریجویٹس فرام رشیا اینڈ سی آئی ایس کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ تنظیم دونوں ممالک کے عوام کے درمیان دوستی اور تعاون کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہی ہے

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
لاہور میں ایسوسی ایشن آف پاکستانی گریجویٹس فرام رشیا اینڈ سی آئی ایس (APGRACI) کی 25ویں سالگرہ کے موقع پر ایک پروقار ایلومینائی میٹنگ کا انعقاد کیا گیا، جس میں پاکستان اور روس کے درمیان تعلیمی، ثقافتی اور سفارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔ تقریب میں وفاقی وزیر صحت مختار احمد بھرت، روسی سفارتکاروں، مختلف جامعات کے سربراہان، بیرونِ ملک سے آئے ہوئے پاکستانی گریجویٹس اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت مختار احمد بھرت نے کہا کہ پاکستان اور روس باہمی اعتماد، احترام اور تعاون کے مضبوط رشتے میں بندھے ہوئے برادر ممالک ہیں اور دونوں ملکوں کے تعلقات وقت کے ساتھ مزید مستحکم ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ روس علم، تحقیق، ٹیکنالوجی اور مہارت کے میدان میں دنیا میں ایک ممتاز مقام رکھتا ہے اور پاکستان اس کے تجربات سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ روس میں تعلیم حاصل کرنے والے پاکستانی نوجوان وطن واپس آ کر مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی روابط کی کامیابی کا واضح ثبوت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ہزاروں طلبہ روس کی جامعات میں میڈیکل، انجینئرنگ، سائنس، ٹیکنالوجی اور دیگر جدید علوم میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور یہ عمل مستقبل میں مزید وسعت اختیار کرے گا۔
مختار احمد بھرت نے ایسوسی ایشن آف پاکستانی گریجویٹس فرام رشیا اینڈ سی آئی ایس کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ تنظیم دونوں ممالک کے عوام کے درمیان دوستی اور تعاون کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے پلیٹ فارمز نہ صرف تعلیمی روابط کو مضبوط بناتے ہیں بلکہ ثقافتی ہم آہنگی اور سفارتی تعلقات کے استحکام میں بھی معاون ثابت ہوتے ہیں۔
تقریب سے ایسوسی ایشن کے چیئرمین ڈاکٹر شاہد حسن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تنظیم کے قیام کو 25 برس مکمل ہونا ایک اہم سنگ میل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس تقریب میں پاکستان کے مختلف شہروں کے علاوہ بیرونِ ملک سے بھی بڑی تعداد میں روسی جامعات کے پاکستانی گریجویٹس شریک ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ روس سے تعلیم حاصل کرنے والے پاکستانی ڈاکٹرز، انجینئرز، سائنسدان، ماہرین تعلیم اور دیگر پروفیشنلز ملک کی ترقی میں بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔
ڈاکٹر شاہد حسن نے کہا کہ ایسوسی ایشن کا مقصد روس اور پاکستان کے درمیان علمی، ثقافتی اور پیشہ ورانہ تعلقات کو مزید فروغ دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تنظیم مختلف تعلیمی پروگراموں، سیمینارز اور ثقافتی سرگرمیوں کے ذریعے دونوں ممالک کے عوام کو قریب لانے کے لیے کام کر رہی ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان میں تعینات روسی سفارتکار گلیب شوپن نے پاکستان اور روس کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ روس پاکستان کو ایک اہم دوست اور شراکت دار سمجھتا ہے اور دونوں ممالک مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے خواہاں ہیں۔
روسی سفارتکار نے ایسوسی ایشن کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ تنظیم روس میں تعلیم حاصل کرنے والے پاکستانی طلبہ کو ایک مضبوط پلیٹ فارم فراہم کر رہی ہے، جو دونوں ممالک کے تعلقات کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے اپنی حکومت کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ روس پاکستان کے ساتھ تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی شعبوں میں روابط کو مزید فروغ دینا چاہتا ہے۔
تقریب میں روسی فرینڈشپ یونیورسٹی کی ڈین ڈیپارٹمنٹ آف فارن افیئرز مس انارہ نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ روسی جامعات بین الاقوامی طلبہ خصوصاً پاکستانی طلبہ کے لیے بہترین تعلیمی مواقع فراہم کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی طلبہ اپنی محنت اور صلاحیتوں کی بدولت روسی تعلیمی اداروں میں نمایاں کارکردگی دکھا رہے ہیں۔
سری لنکن ایلومینائی کے صدر بدھا پریا رامانا نے بھی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ روس میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ عالمی سطح پر دوستی، ہم آہنگی اور تعاون کے سفیر بن جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی روابط مختلف ممالک کے درمیان تعلقات کو مستحکم بنانے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔
پشکن ایوارڈ یافتہ ڈاکٹر نجم السحر بٹ نے روسی زبان و ادب کے فروغ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ روسی ادب، ثقافت اور علمی روایت دنیا بھر میں منفرد مقام رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں روسی زبان اور ثقافت کے فروغ کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان تعلقات مزید مضبوط ہو سکیں۔
لیڈز یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر ندیم احمد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ روسی جامعات کے ساتھ تعلیمی اشتراک سے پاکستانی طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیم حاصل کرنے کے مزید مواقع میسر آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جدید تحقیق، ٹیکنالوجی اور سائنسی علوم میں روس کی مہارت پاکستان کے لیے نہایت مفید ثابت ہو سکتی ہے۔
تقریب میں اے پی جی آر سندھ و بلوچستان چیپٹر کے صدر امجد حسین رضوی، انجینئر حسنین مرزا اور ڈاکٹر مصدق حسین سمیت دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا اور پاکستان و روس کے درمیان تعلیمی اور سائنسی تعاون کو مزید فروغ دینے پر زور دیا۔
شرکاء نے اس موقع پر اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور روس کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے علمی، تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی روابط کو فروغ دیا جائے گا۔ تقریب کے اختتام پر تنظیم کی 25 سالہ خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا اور مختلف شخصیات کو اعزازی شیلڈز بھی پیش کی گئیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button