پاکستان پریس ریلیزاہم خبریں

بلوچستان کی بہادر بیٹی لیڈی کانسٹیبل شکیلہ بلوچ دہشتگرد حملے میں شہید، قوم سوگوار،محسن نقوی کا خراجِ عقیدت

بلوچستان میں خواتین پولیس اہلکار فرنٹ لائن پر خدمات انجام دے رہی ہیں اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
 تربت میں دہشتگردی کے ایک افسوسناک واقعے میں بلوچستان پولیس کی بہادر خاتون اہلکار، لیڈی کانسٹیبل شکیلہ بلوچ، شہید ہوگئیں جبکہ ان کے شوہر اور معصوم بچے کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ واقعے نے پورے بلوچستان اور ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے، جبکہ سیاسی، سماجی اور عوامی حلقوں کی جانب سے اس بزدلانہ حملے کی شدید مذمت کی جا رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق لیڈی کانسٹیبل شکیلہ بلوچ معمول کے مطابق اپنی ڈیوٹی پر جا رہی تھیں کہ دہشتگردوں نے انہیں راستے میں نشانہ بنایا۔ حملے کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی شہید ہوگئیں جبکہ ان کے خاندان کے افراد زخمی ہو گئے۔ سیکیورٹی اداروں نے واقعے کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

خواتین اور بچوں کو نشانہ بنانے پر شدید ردعمل

واقعے کے بعد مختلف حلقوں کی جانب سے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا کہ دہشتگرد عناصر اب خواتین اور بچوں کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ حملہ نہ صرف ایک پولیس اہلکار پر بلکہ بلوچستان کی ان خواتین پر حملہ ہے جو ریاستی اداروں میں خدمات انجام دیتے ہوئے امن و امان کے قیام کے لیے کردار ادا کر رہی ہیں۔

مقامی سماجی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بلوچستان کی روایات میں خواتین کو عزت اور احترام حاصل ہے، تاہم اس قسم کے حملے معاشرتی اقدار کے منافی اور انتہائی افسوسناک ہیں۔ عوامی حلقوں نے اس واقعے کو بلوچستان کی تہذیبی اور سماجی روایات کے خلاف اقدام قرار دیا۔

بلوچستان میں خواتین اہلکاروں کا کردار

ماہرین کے مطابق بلوچستان پولیس میں خواتین اہلکاروں کی شمولیت نے نہ صرف خواتین کے تحفظ کے نظام کو بہتر بنایا بلکہ سیکیورٹی اداروں میں خواتین کے کردار کو بھی مضبوط کیا ہے۔ لیڈی کانسٹیبل شکیلہ بلوچ کو ایک فرض شناس، باہمت اور پیشہ ور اہلکار کے طور پر یاد کیا جا رہا ہے۔

سیکیورٹی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں خواتین پولیس اہلکار فرنٹ لائن پر خدمات انجام دے رہی ہیں اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق ایسے حملوں کا مقصد خوف پھیلانا اور ریاستی اداروں کے حوصلے پست کرنا ہے، تاہم عوام اور سیکیورٹی ادارے دہشتگردی کے خلاف اپنے عزم پر قائم ہیں۔

محسن نقوی کا خراجِ عقیدت

وفاقی وزیر داخلہ Mohsin Naqvi نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہید لیڈی کانسٹیبل شکیلہ بلوچ کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔

اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی بہادر بیٹی نے فرض کی ادائیگی کے دوران وطنِ عزیز کے لیے اپنی جان قربان کر کے عظیم مثال قائم کی۔ ان کا کہنا تھا کہ شکیلہ بلوچ نے شہادت کا بلند رتبہ حاصل کیا اور پوری قوم ان کی قربانی کو سلام پیش کرتی ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ شہید اہلکار کی قربانی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور شکیلہ جیسی بہادر بیٹیاں قوم کا فخر ہیں۔ انہوں نے زخمی شوہر اور بچے کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کرتے ہوئے متاثرہ خاندان سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار بھی کیا۔

عوامی اور سماجی حلقوں میں غم و غصہ

واقعے کے بعد سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔ مختلف سیاسی و سماجی شخصیات نے دہشتگردی کے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ حملے میں ملوث عناصر کو جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق بلوچستان میں دہشتگردی کے خلاف جنگ صرف سیکیورٹی فورسز ہی نہیں بلکہ عام شہری بھی لڑ رہے ہیں، اور خواتین اہلکاروں کی قربانیاں اس جدوجہد کا اہم حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معصوم شہریوں، خواتین اور بچوں کو نشانہ بنانا اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشتگرد عناصر انسانی اقدار سے عاری ہیں۔

دہشتگردی کے خلاف قومی عزم

سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے عوام دہشتگردی کے خلاف متحد ہیں اور ایسے حملے ریاستی عزم کو کمزور نہیں کر سکتے۔ ان کے مطابق بلوچستان میں امن و استحکام کے لیے سیکیورٹی فورسز، پولیس اور عوام نے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔

لیڈی کانسٹیبل شکیلہ بلوچ کی شہادت کو بلوچستان میں امن، قانون کی حکمرانی اور دہشتگردی کے خلاف جدوجہد کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایسی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور دہشتگردی کے خاتمے تک یہ جدوجہد جاری رہے گی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button