نیشنل ڈریجنگ اینڈ میرین سروسز کے قیام سے پاکستان بحری خود انحصاری کے نئے دور میں داخل
جدید ڈریجنگ ٹیکنالو جی کے استعمال سے پورٹ قاسم کی بحری گزرگاہوں کی مطلوبہ گہرائی برقرار رکھی جا سکے گی
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
پاکستان نے بحری شعبے میں خود انحصاری اور بلیو اکانومی کے فروغ کی جانب ایک اہم اور تاریخی پیش رفت کرتے ہوئے نیشنل ڈریجنگ اینڈ میرین سروسز (این ڈی ایم ایس) کمپنی قائم کر دی ہے، جس کے ذریعے ملک میں پہلی مرتبہ جدید ڈریجنگ صلاحیت کو مقامی سطح پر فروغ دیا جا رہا ہے۔ اس اقدام کو پاکستان کے بندرگاہی نظام، بحری تجارت اور اقتصادی ترقی کے لیے ایک سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

حکومتی حکام کے مطابق این ڈی ایم ایس ایک مشترکہ قومی منصوبہ ہے جس میں،نیشنل لاجسٹک کارپوریشن کراچی پورٹ ٹرسٹ، پورٹ قاسم اتھارٹی اور گوادر پورٹ اتھارٹی شریک ہیں۔ اس اشتراک کا مقصد پاکستان کے ساحلی اور بندرگاہی ڈھانچے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے ملکی سطح پر ڈریجنگ خدمات کو فروغ دینا ہے تاکہ بیرونی کمپنیوں پر انحصار کم کیا جا سکے۔
پورٹ قاسم میں افتتاحی تقریب، ڈریجنگ آپریشنز کا آغاز
این ڈی ایم ایس نے اپنی افتتاحی تقریب کے موقع پر پورٹ قاسم پر باضابطہ طور پر ڈریجنگ سروسز کا آغاز کر دیا۔ تقریب میں بحری امور، لاجسٹکس، تجارت اور بندرگاہی شعبوں سے وابستہ اعلیٰ حکام اور ماہرین نے شرکت کی۔ تقریب سےخطاب کرتے ہوئے حکام نے کہا کہ جدید ڈریجنگ ٹیکنالو جی کے استعمال سے پورٹ قاسم کی بحری گزرگاہوں کی مطلوبہ گہرائی برقرار رکھی جا سکے گی، جس کے نتیجے میں بڑے بحری جہازوں کی آمد و رفت مزید محفوظ، مؤثر اور تیز ہوگی۔ ماہرین کے مطابق بندرگاہی چینلز میں مٹی اور تلچھٹ جمع ہونے سے جہاز رانی متاثر ہوتی ہے، جس کے لیے مسلسل ڈریجنگ ناگزیر ہوتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ ماضی میں پاکستان کو اس شعبے میں غیر ملکی کمپنیوں کی خدمات حاصل کرنا پڑتی تھیں جس پر بھاری زرمبادلہ خرچ ہوتا تھا، تاہم اب مقامی استعداد کار پیدا ہونے سے نہ صرف اخراجات میں کمی آئے گی بلکہ ملکی ادارے جدید مہارت اور ٹیکنالوجی سے بھی مستفید ہوں گے۔
غیر ملکی انحصار میں کمی، زرمبادلہ کی بچت متوقع
بحری ماہرین کے مطابق این ڈی ایم ایس کا قیام پاکستان کے لیے اقتصادی لحاظ سے بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ ڈریجنگ کے لیے بیرونی کمپنیوں پر انحصار کم ہونے سے قیمتی زرمبادلہ کی بچت ہوگی جبکہ مقامی سطح پر روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ مستقبل میں پاکستان کی دیگر بندرگاہوں خصوصاً گوادر میں بھی جدید ڈریجنگ آپریشنز کی راہ ہموار کرے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ مقامی انجینئرز، ٹیکنیکل ماہرین اور بحری شعبے سے وابستہ افرادی قوت کو عالمی معیار کی تربیت فراہم کی جائے گی تاکہ پاکستان اس میدان میں خطے کے دیگر ممالک کا مقابلہ کر سکے۔
بلیو اکانومی کے فروغ کی جانب اہم قدم
ماہرین اقتصادیات نے این ڈی ایم ایس کے قیام کو پاکستان کی بلیو اکانومی پالیسی کا اہم ستون قرار دیا ہے۔ بلیو اکانومی سے مراد سمندری وسائل، بندرگاہی سرگرمیوں، بحری تجارت، ماہی گیری اور ساحلی معیشت سے حاصل ہونے والے اقتصادی فوائد ہیں۔
ان کے مطابق پاکستان کا ساحلی علاقہ، بحیرہ عرب تک رسائی اور جغرافیائی محل وقوع عالمی تجارت میں غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ اگر بندرگاہی انفراسٹرکچر کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے تو پاکستان خطے میں ٹرانزٹ ٹریڈ اور بحری تجارت کا بڑا مرکز بن سکتا ہے۔
ماہرین نے اس امید کا اظہار کیا کہ این ڈی ایم ایس مستقبل میں نہ صرف ملکی بندرگاہوں کی ضروریات پوری کرے گی بلکہ علاقائی سطح پر بھی ڈریجنگ خدمات فراہم کرنے کی صلاحیت حاصل کر سکتی ہے، جس سے پاکستان کے لیے نئے معاشی مواقع پیدا ہوں گے۔
بحری تجارت اور قومی معیشت کو تقویت
تجزیہ کاروں کے مطابق ڈریجنگ آپریشنز بندرگاہوں کی کارکردگی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں کیونکہ بحری راستوں کی مناسب گہرائی برقرار رہنے سے بڑے کارگو جہاز آسانی سے لنگر انداز ہو سکتے ہیں۔ اس سے تجارتی سرگرمیوں میں تیزی، سامان کی ترسیل میں بہتری اور درآمدات و برآمدات کے عمل میں آسانی پیدا ہوتی ہے۔
حکام نے اس عزم کا اظہار کیا کہ این ڈی ایم ایس کے ذریعے پاکستان اپنے بحری شعبے کو جدید بنیادوں پر استوار کرتے ہوئے معاشی استحکام، صنعتی ترقی اور قومی خود انحصاری کے نئے اہداف حاصل کرے گا۔



