سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
اسلام آباد: پاکستان نے متحدہ عرب امارات میں واقع براکہ نیوکلیئر پاور پلانٹ پر ہونے والے ڈرون حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اماراتی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان نے اس حملے کو بین الاقوامی قوانین اور جوہری تحفظ کے عالمی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
Shehbaz Sharif نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان متحدہ عرب امارات میں براکہ نیوکلیئر انرجی پلانٹ پر ڈرون حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان متحدہ عرب امارات کی قیادت اور برادر عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے اور ایسے حملے خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔
وزیراعظم کا تحمل اور سفارت کاری پر زور
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ انتہائی تحمل کا مظاہرہ کریں اور بین الاقوامی قوانین کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔
انہوں نے کہا کہ خطے میں پائیدار امن، استحکام اور کشیدگی میں کمی کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری ہی واحد قابل عمل راستہ ہیں۔ وزیراعظم کے مطابق ایسے حساس معاملات میں اشتعال انگیزی یا عسکری کارروائیاں نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی امن کو بھی خطرے میں ڈال سکتی ہیں۔
وزارت خارجہ کا سخت ردعمل
اس واقعے پر وزارت خارجہ کی جانب سے بھی ایک تفصیلی بیان جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ جوہری تنصیبات کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون، بین الاقوامی انسانی حقوق، اقوام متحدہ کے چارٹر اور نیوکلیئر تحفظ سے متعلق عالمی ضوابط کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کی قراردادوں کے مطابق شہری جوہری تنصیبات کا تحفظ عالمی ذمہ داری ہے اور انہیں کسی بھی قسم کے حملے کا نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔
وزارت خارجہ کے مطابق ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات انسانی جانوں، ماحولیات اور علاقائی و عالمی امن و سلامتی کے لیے تباہ کن نتائج کا سبب بن سکتے ہیں۔
شہری جوہری تنصیبات کے تحفظ پر زور
پاکستان نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ شہری جوہری تنصیبات پر حملہ نہ کرنا ایک تسلیم شدہ بین الاقوامی اصول ہے اور اس کی ہر صورت پابندی کی جانی چاہیے۔
وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جوہری تنصیبات پر حملے یا ان کے قریب عسکری سرگرمیوں سے تابکاری کے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں، جن کے اثرات سرحدوں سے باہر تک پھیل سکتے ہیں۔
بیان میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر کردار ادا کرے تاکہ حساس تنصیبات اور شہری آبادی کو خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔
خطے میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ
پاکستان نے تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو خطے میں مزید کشیدگی پیدا کر سکتے ہوں۔ وزارت خارجہ کے مطابق موجودہ صورتحال میں تحمل، ذمہ دارانہ رویہ اور سفارتی رابطے انتہائی ضروری ہیں تاکہ تنازعات کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔
بیان میں کہا گیا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر میں درج اصولوں کے مطابق مذاکرات اور سفارت کاری ہی خطے میں دیرپا امن اور استحکام کا واحد راستہ ہیں۔
براکہ نیوکلیئر پلانٹ میں پیش آنے والا واقعہ
یاد رہے کہ 17 مئی کو متحدہ عرب امارات کے الظفرہ ریجن میں واقع بارکہ نیوکلیئر پاور پلانٹ پر ڈرون حملے کے بعد آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا تھا۔
ابوظبی میڈیا آفس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ پلانٹ کے اندرونی حفاظتی حصار سے باہر موجود ایک برقی جنریٹر میں آگ بھڑک اٹھی تھی، جس پر فوری کارروائی کرتے ہوئے قابو پا لیا گیا۔
بیان کے مطابق ڈرون حملے کے نتیجے میں آگ لگی تاہم اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور نہ ہی تابکاری کے تحفظ کی سطح متاثر ہوئی۔
عالمی سطح پر تشویش
ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں جوہری تنصیبات پر حملوں یا سکیورٹی خدشات کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جاتا ہے کیونکہ کسی بھی معمولی واقعے کے اثرات انسانی جانوں، ماحولیات اور عالمی سلامتی پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران حساس تنصیبات کا محفوظ رہنا نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے مفاد میں ہے۔



