سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
اسلام آباد کی بین الاقوامی شراکت داری بشمول سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ مئی 2025 میں پاک-بھارت تنازعے کے بعد ملک کی بڑھتی ہوئی "عالمی اہمیت” کی عکاسی کرتا ہے، اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے سفیر عاصم افتخار احمد نے اتوار کے روز کہا۔
سعودی عرب اور پاکستان نے ستمبر 2025 میں ایک تزویری دفاعی معاہدے پر دستخط کیے جس کے تحت انہوں نے عہد کیا کہ "کسی بھی ملک کے خلاف کسی جارحیت کو دونوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔”
مئی 2025 تنازعے کے ایک سال کے موقع پر بروکلین میں پاکستانی کمیونٹی کی منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے احمد نے مشاہدہ کیا کہ پاکستان کی فوجی کامیابی بعد کے مہینوں میں مؤثر سفارت کاری کے ذریعے ایک "بڑی سیاسی و سفارتی فتح” میں بدل گئی۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن نے ایکس پر کہا، "سفیر عاصم افتخار نے مزید کہا کہ سعودی عرب سے دفاعی معاہدے سمیت پاکستان کی بین الاقوامی شراکت داری کا فروغ ملک کی سفارتی کامیابی اور تنازع کے بعد بڑھتی ہوئی عالمی اہمیت کا مظہر ہے۔”
اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مشن نے کہا کہ تقریب کا اہتمام کمیونٹی لیڈر ملک خالد اعوان نے کیا تھا۔ نیز بتایا کہ اس میں پاکستانی کمیونٹی کے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ اس موقع پر پاکستانی سینیٹر رانا محمود الحسن نے بھی خطاب کیا۔
احمد نے زور دے کر کہا کہ کشیدگی اور تنازعات کے باوجود پاکستان نے ہمیشہ امن، مذاکرات اور سفارت کاری کی حمایت کی ہے۔ جولائی میں پاکستان کو ملنے والی سلامتی کونسل کی صدارت کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب عالمی ادارہ کئی مسائل پر گہری تقسیم کا شکار تھا تو پاکستان نے "تنازعات کے پرامن حل” کی قرارداد منظور کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
پاکستانی مشن نے کہا کہ "انھوں نے واضح کیا کہ اگرچہ پاکستان پرامن بقائے باہمی اور مکالمے کے ذریعے حل پر یقین رکھتا ہے لیکن اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا دفاع کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بھارت پاکستان کے خلاف سازشیں جاری رکھے ہوئے ہے اور خطے کو درپیش خطرات ہنوز برقرار ہیں۔”
سفیر نے کہا، پاکستان جموں و کشمیر اور فلسطین کے لوگوں کی مکمل حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ پاکستان ان آٹھ ممالک میں شامل ہے جنہوں نے گذشتہ سال غزہ جنگ بندی کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کیا۔
پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی ثالثی کی امید رکھتا ہے کیونکہ وہ تمام دنیا میں اپنی سفارتی حیثیت کو مضبوط کرنا چاہتا ہے۔ فروری میں فریقین کے درمیان لڑائی شروع ہونے کے بعد سے اسلام آباد امریکہ اور ایران کے درمیان ایک اہم سفارتی ثالث کے طور پر ابھرا ہے۔



