پاکستاناہم خبریں

مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان متحرک، ایران کی ترمیمی تجویز امریکہ تک پہنچا دی گئی، سفارتی کوششیں تیز

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان براہِ راست رابطوں میں تعطل کے باعث پاکستان سمیت چند علاقائی ممالک سفارتی پل کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

اسلام آباد:  پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور جنگ کے خاتمے کے لیے اہم سفارتی کردار ادا کرتے ہوئے Iran کی جانب سے پیش کی جانے والی ایک ترمیمی تجویز امریکہ تک پہنچا دی ہے۔ برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایک پاکستانی ذریعے نے اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں امن کے لیے سفارتی رابطے جاری ہیں، تاہم اختلافات کم کرنے کے لیے وقت بہت محدود رہ گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ثالثی اور سفارتی رابطوں کے ذریعے صورتحال کو قابو میں رکھنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ ایک بڑے علاقائی بحران سے بچا جا سکے۔

ایرانی وزارت خارجہ کی تصدیق

بعد ازاں Esmaeil Baghaei نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ تہران کے مؤقف سے پاکستانی سفارتی ذرائع کے ذریعے امریکی فریق کو آگاہ کیا گیا ہے۔

تاہم ایرانی ترجمان نے اس ترمیمی تجویز کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں اور نہ ہی یہ بتایا کہ ایران نے مذاکرات کے لیے کن نئی شرائط یا تجاویز کو شامل کیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان براہِ راست رابطوں میں تعطل کے باعث پاکستان سمیت چند علاقائی ممالک سفارتی پل کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

جنگ بندی کے باوجود صورتحال کشیدہ

واضح رہے کہ ایران پر امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد شروع ہونے والی چھ ہفتوں کی شدید جنگ کے بعد اس وقت ایک کمزور جنگ بندی نافذ ہے، تاہم صورتحال اب بھی غیر یقینی کا شکار ہے۔

اطلاعات کے مطابق جنگ بندی کے باوجود مختلف محاذوں پر تناؤ برقرار ہے جبکہ فریقین کے درمیان اعتماد کی شدید کمی پائی جاتی ہے۔

امریکی صدر Donald Trump نے حالیہ بیان میں کہا تھا کہ موجودہ جنگ بندی ’وینٹی لیٹر‘ پر ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن اس سیزفائر کو غیر مستحکم تصور کر رہا ہے۔

پاکستانی ذریعے کا اہم انکشاف

روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستانی ذریعے نے کہا کہ اختلافات ختم کرنے کے لیے زیادہ وقت باقی نہیں رہا کیونکہ تمام فریق مسلسل اپنے اہداف اور شرائط تبدیل کر رہے ہیں۔

ذریعے کے مطابق مذاکرات میں پیش رفت سست روی کا شکار ہے اور خطے کی صورتحال کسی بھی وقت دوبارہ سنگین رخ اختیار کر سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر فوری طور پر کوئی قابل قبول سفارتی حل نہ نکالا گیا تو جنگ بندی کا برقرار رہنا مشکل ہو سکتا ہے۔

امریکہ کے مطالبات کیا ہیں؟

رپورٹ کے مطابق واشنگٹن نے تہران پر زور دیا ہے کہ وہ اپنا جوہری پروگرام مکمل طور پر ختم کرے اور آبنائے ہرمز پر عائد عملی ناکہ بندی بھی ختم کرے۔

Strait of Hormuz دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی تقریباً پانچویں حصہ سپلائی گزرتی ہے۔

ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت، توانائی کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے۔

ایران کے مطالبات

دوسری جانب ایران نے جنگ سے ہونے والے نقصانات کے معاوضے، ایرانی بندرگاہوں پر امریکی پابندیوں اور ناکہ بندی کے خاتمے سمیت خطے کے مختلف محاذوں پر جنگ بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ایران کا کہنا ہے کہ لبنان سمیت خطے میں جاری عسکری کارروائیوں کو بھی روکنا ضروری ہے جہاں Hezbollah اور اسرائیلی افواج کے درمیان کشیدگی جاری ہے۔

تہران کا مؤقف ہے کہ خطے میں پائیدار امن صرف اسی صورت ممکن ہے جب تمام فریق یکساں ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔

ٹرمپ کی ایران کو سخت وارننگ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ دنوں اپنی سوشل میڈیا ایپ ٹروتھ سوشل پر ایران کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا تھا کہ تہران کے لیے وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کو فوری فیصلے کرنا ہوں گے، بصورت دیگر اس کے نتائج انتہائی سنگین ہو سکتے ہیں۔

ٹرمپ کے اس بیان کو خطے میں ممکنہ نئی عسکری کارروائی کے اشارے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

نئی فوجی کارروائی پر غور

امریکی نیوز ویب سائٹ ’ایکسیاس‘ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ منگل کو اعلیٰ قومی سلامتی مشیروں کے ساتھ اہم اجلاس کریں گے جس میں ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی شروع کرنے کے مختلف آپشنز پر غور کیا جائے گا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو مشرقِ وسطیٰ ایک مرتبہ پھر بڑے فوجی تصادم کی جانب بڑھ سکتا ہے، جس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا پر مرتب ہوں گے۔

پاکستان کا سفارتی کردار اہم قرار

بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں پاکستان کا ثالثی کردار خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اہم ثابت ہو سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق پاکستان کی کوشش ہے کہ مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے تنازع کو مزید پھیلنے سے روکا جائے اور خطے کو ایک نئی جنگ سے محفوظ رکھا جا سکے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button