مشرق وسطیٰتازہ ترین

امریکی نقہ نظر موصول ہو گیا اور اس پر غور کر رہے ہیں : ایرانی وزارت خارجہ

ایرانی پاسداران انقلاب نے ایک بیان میں کہا کہ "اگر ایران کے خلاف جارحیت دہرائی گئی تو اس بار موعودہ علاقائی جنگ خطے سے باہر کے علاقوں تک پھیل جائے گی۔"

https://vogurdunews.de/our-team/

By Voice of Germany Urdu News Team
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اعلان کیا ہے کہ ان کے ملک کو امریکی نقطہ نظر موصول ہوا ہے اور وہ اس کا مطالعہ کر رہا ہے۔ یہ موقف ایسے وقت سامنے آیا ہے جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ واضح کر چکے ہیں کہ تہران کے ساتھ مذاکرات جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے تک پہنچنے اور دوبارہ حملے شروع کرنے کے درمیان "ایک چوراہے پر” ہیں۔
بقائی نے مزید کہا کہ پاکستان نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان پیغامات کی ترسیل میں ثالثی کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔
انہوں نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ ایرانی سرکاری ویب سائٹ نور نیوز نے آج جمعرات کے روز بتایا ہے کہ رابطوں کے کئی دور 14 نکات پر مشتمل اصل ایرانی فریم ورک کی بنیاد پر ہوئے ہیں۔
یہ بات اس وقت سامنے آئی جب ٹرمپ نے گذشتہ روز بدھ کو اس بات کی تصدیق کی تھی کہ اگر ایران امن معاہدے پر راضی نہ ہوا تو ان کا ملک اس پر مزید حملے کرنے کے لیے آگے بڑھنے کو تیار ہے۔
تاہم انہوں نے اشارہ کیا کہ واشنگٹن اس معاملے پر "صحیح جوابات حاصل کرنے” کے لیے شاید چند دن انتظار کرے۔ انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ صورت حال "بالکل ایک فیصلہ کن موڑ پر پہنچ چکی ہے” اور شاید تیزی سے بڑھ سکتی ہے۔
اسی طرح امریکی صدر نے جوائنٹ بیس اینڈریوز سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ "میرا یقین کریں، اگر ہمیں صحیح جوابات نہ ملے تو معاملات بہت تیزی سے آگے بڑھیں گے۔ ہم سب کارروائی کے لیے تیار ہیں۔” انہوں نے اس سوال کے جواب میں کہ وہ کتنا انتظار کریں گے، کہا کہ "شاید چند دن ہوں، لیکن امور بہت تیزی سے آگے بڑھ سکتے ہیں۔”
دوسری طرف ایران نے حملوں کی بحالی کے خلاف خبردار کیا ہے۔ ایرانی پاسداران انقلاب نے ایک بیان میں کہا کہ "اگر ایران کے خلاف جارحیت دہرائی گئی تو اس بار موعودہ علاقائی جنگ خطے سے باہر کے علاقوں تک پھیل جائے گی۔”
مزید برآں تہران نے آبنائے ہرمز کی اہم گزرگاہ میں نقل و حمل کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک نئی اتھارٹی قائم کی ہے جسے اس نے "خلیج میں آبی گزرگاہوں کی انتظامی اتھارٹی” کا نام دیا ہے۔
امریکی صدر نے تقریباً چھ ہفتے قبل ایک جنگ بندی کے تحت ان فوجی کارروائیوں کو روک دیا تھا جنہیں انہوں نے "ایپک فیوری” کا نام دیا تھا، لیکن جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے مذاکرات میں تب سے اب تک کوئی خاص پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی۔ ٹرمپ نے چند روز قبل ذکر کیا تھا کہ وہ مزید حملوں کا حکم دینے ہی والے تھے، لیکن انہوں نے مذاکرات کے لیے مزید وقت دینے کی خاطر اسے ملتوی کر دیا۔
پاکستان نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان پیغامات منتقل کرتے ہوئے امریکی اور ایرانی نقطہ نظر کو قریب لانے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں۔
پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی گزشتہ چند روز کے دوران دو بار ایرانی دارالحکومت کا دورہ کیا۔ توقع ہے کہ پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر بھی آج تہران کا دورہ کریں گے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button