ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان گرما گرم فون کال
اس حوالے سے تین با خبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ اس کال کے بعد نیتن یاہو "شدید تناؤ کی حالت میں" تھے۔ یہ بات axios ویب سائٹ نے اپنی رپورٹ میں بتائی ہے۔
By Voice of Germany Urdu News Team
ایسے میں جبکہ جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے تک پہنچنے کی خاطر ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات جاری ہیں… امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ ہونے والی ایک ٹیلیفونک گفتگو پر تناؤ چھا گیا۔
اس حوالے سے تین با خبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ اس کال کے بعد نیتن یاہو "شدید تناؤ کی حالت میں” تھے۔ یہ بات axios ویب سائٹ نے اپنی رپورٹ میں بتائی ہے۔
علاوہ ازیں ایک اسرائیلی ذریعے نے بتایا کہ نیتن یاہو امریکی صدر کے ساتھ ملاقات کے لیے آنے والے ہفتوں کے دوران واشنگٹن کا دورہ کرنے کے خواہش مند ہیں۔
خاص طور پر اس لیے کہ اسرائیلی وزیر اعظم مذاکرات کے بارے میں انتہائی شکوک و شبہات کا شکار ہیں اور ایرانی فوجی صلاحیتوں کو مزید کم کرنے اور اس کے اہم بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر کے حکومت کو کمزور کرنے کے لیے جنگ کو دوبارہ شروع کرنا چاہتے ہیں۔
لیکن انہوں نے اسی وقت مذاکرات کو چند اضافی دن دینے کی آمادگی بھی ظاہر کی۔یہ بات اس وقت سامنے آئی جب با خبر ذرائع نے واضح کیا کہ دیگر علاقائی ثالثوں کے تعاون سے قطر اور پاکستان نے ایک ترمیم شدہ امن یاد داشت کا مسودہ تیار کیا ہے تاکہ امریکہ اور ایران کے درمیان اختلافات کو ختم کیا جا سکے۔چنانچہ دو عرب عہدے داروں اور ایک اسرائیلی ذریعے نے انکشاف کیا ہے کہ دوحہ نے حال ہی میں امریکی اور ایرانی دونوں فریقوں کو ایک نیا مسودہ پیش کیا ہے۔جبکہ ایک چوتھے ذریعے نے کہا کہ قطر کا کوئی الگ مسودہ نہیں ہے، بلکہ قطر صرف سابقہ پاکستانی تجویز کی بنیاد پر نقطہ نظر کو قریب لانے کی کوشش کر رہا ہے۔
ایک عرب عہدے دار کے مطابق ثالثوں کی کوششوں کا مقصد ایرانیوں سے ان کے جوہری پروگرام سے متعلق اقدامات کے بارے میں مزید ٹھوس وعدے حاصل کرنا ہے۔ ساتھ ہی امریکہ سے اس بارے میں واضح تفصیلات حاصل کرنا ہے کہ منجمد ایرانی فنڈز کو مرحلہ وار کیسے جاری کیا جائے گا۔ تینوں ذرائع نے اس بات پر زور دیا کہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ آیا تہران نئے مسودے پر راضی ہوگا یا اپنے موقف میں نمایاں تبدیلی لائے گا۔
دونوں ممالک کے درمیان براہ راست مذاکرات کا پہلا دور گذشتہ اپریل (2026) کے اوائل میں اسلام آباد میں ہوا تھا، جو کئی گھنٹوں پر محیط رہا لیکن اس کے کوئی نتائج برآمد نہیں ہوئے۔ جس کے نتیجے میں امریکی صدر کو ایرانی بندرگاہوں کا سخت بحری محاصرہ کرنا پڑا۔
تہران نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کے لیے اپنی دھمکیوں میں اضافہ کر دیا، جس میں 28 فروری کو جنگ شروع ہونے کے بعد سے جہاز رانی کی نقل و حرکت کافی حد تک معطل ہو کر رہ گئی ہے۔




