پاکستاناہم خبریں

وزیراعظم شہباز شریف اور چینی سفیر کی اہم ملاقات، سی پیک 2.0، اقتصادی تعاون اور علاقائی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال

ملاقات کے دوران چین پاکستان اقتصادی راہداری کے دوسرے مرحلے، سی پیک 2.0، پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

پاکستان اور چین کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے دوسرے مرحلے پر پیش رفت کو تیز کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کی لازوال دوستی باہمی اعتماد، مشترکہ ترقی اور علاقائی استحکام کی ضمانت ہے، جسے مزید وسعت دینا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

یہ بات وزیراعظم محمد شہباز شریف نے عوامی جمہوریہ چین کے پاکستان میں سفیر عزت مآب جناب جیانگ زائی ڈونگ سے وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات کے دوران کہی۔ ملاقات میں وزیراعظم کے مشیر ڈاکٹر سید توقیر شاہ، معاونِ خصوصی سید طارق فاطمی اور سیکرٹری خارجہ سفیر آمنہ بلوچ بھی شریک تھیں۔

چینی قیادت کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار

وزیراعظم شہباز شریف نے گفتگو کے آغاز میں عوامی جمہوریہ چین کے صدر شی جن پنگ اور وزیراعظم لی چیانگ کے لیے نیک خواہشات اور پرتپاک جذبات کا اظہار کیا۔ انہوں نے حالیہ دورۂ چین کے دوران چینی قیادت کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں کو انتہائی مفید، نتیجہ خیز اور مستقبل کی سمت متعین کرنے والی قرار دیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان "ہر موسم کی اسٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داری” وقت کے ساتھ مزید مستحکم ہوئی ہے اور دونوں ممالک کی قیادت اس تعلق کو نئی بلندیوں تک پہنچانے کے لیے پُرعزم ہے۔

انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ حالیہ دورۂ چین کے دوران طے پانے والے فیصلوں، مفاہمتوں اور معاہدوں پر تیز رفتار اور مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ دونوں ممالک کے عوام جلد از جلد ان کے ثمرات سے مستفید ہو سکیں۔

سی پیک 2.0 پر خصوصی توجہ

ملاقات کے دوران چین پاکستان اقتصادی راہداری کے دوسرے مرحلے، سی پیک 2.0، پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ سی پیک نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران پاکستان کی اقتصادی ترقی، توانائی کے شعبے کی بہتری اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ سی پیک کے دوسرے مرحلے کے تحت صنعتی تعاون، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، معدنیات، کان کنی اور خصوصی اقتصادی زونز کے قیام پر خصوصی توجہ دی جائے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی موجودہ حکومت چینی سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے تاکہ ملک میں صنعتی ترقی، برآمدات میں اضافہ اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔

ہانگژو سرمایہ کاری کانفرنس کے نتائج پر عملدرآمد کی ہدایت

وزیراعظم نے اپنے دورۂ چین کے دوران ہانگژو میں منعقدہ بزنس ٹو بزنس (B2B) سرمایہ کاری کانفرنس کا بھی خصوصی ذکر کیا۔

انہوں نے کہا کہ اس کانفرنس کے دوران پاکستانی اور چینی کمپنیوں کے درمیان مختلف شعبوں میں مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) پر دستخط کیے گئے، جو دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز ہیں۔

وزیراعظم نے متعلقہ اداروں کو ہدایت دی کہ ان معاہدوں پر بروقت عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے تاکہ سرمایہ کاری کے منصوبے جلد عملی شکل اختیار کر سکیں اور پاکستان کی اقتصادی ترقی میں معاون ثابت ہوں۔

قراقرم ہائی وے اور رابطہ کاری کے منصوبوں پر پیش رفت

ملاقات میں قراقرم ہائی وے (KKH) ری الائنمنٹ منصوبے پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ دونوں فریقوں نے اس اہم منصوبے کی تکمیل کی رفتار تیز کرنے کی ضرورت پر اتفاق کیا تاکہ پاکستان اور چین کے درمیان تجارتی و اقتصادی رابطوں کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

قراقرم ہائی وے کو پاکستان اور چین کی دوستی کی علامت تصور کیا جاتا ہے اور یہ سی پیک کے اہم ترین اجزاء میں سے ایک ہے۔

سکیورٹی، انسداد دہشت گردی اور دفاعی تعاون

وزیراعظم شہباز شریف اور چینی سفیر کے درمیان ملاقات میں سکیورٹی، انسداد دہشت گردی اور دفاعی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیراعظم نے پاکستان میں چینی شہریوں، ماہرین اور سرمایہ کاروں کے تحفظ کو حکومت کی اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے یقین دلایا کہ تمام جاری منصوبوں اور چینی مفادات کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔

دونوں فریقوں نے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششوں کو مزید مضبوط بنانے اور سکیورٹی تعاون کو وسعت دینے پر بھی اتفاق کیا۔

اقتصادی اور مالی تعاون پر گفتگو

ملاقات میں پاکستان کی اقتصادی صورتحال، مالی استحکام اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے تعاون کے مختلف امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیراعظم نے پاکستان کی معاشی بحالی کے لیے چین کی مسلسل حمایت اور تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ چین نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے اور دونوں ممالک کی دوستی آزمائش کی ہر گھڑی میں مزید مضبوط ہو کر ابھری ہے۔

علاقائی اور عالمی صورتحال کا جائزہ

ملاقات کے دوران خطے میں بدلتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی صورتحال اور عالمی سطح پر رونما ہونے والی اہم پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

دونوں رہنماؤں نے علاقائی امن، استحکام اور اقتصادی تعاون کے فروغ کے لیے پاکستان اور چین کے درمیان مسلسل رابطوں اور مشاورت کی اہمیت پر زور دیا۔

چینی سفیر کا اظہارِ تشکر

چینی سفیر جیانگ زائی ڈونگ نے وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہیں عیدالاضحیٰ کی پیشگی مبارکباد دی۔

انہوں نے وزیراعظم کے 23 تا 26 مئی 2026 کے کامیاب دورۂ چین کو پاک چین تعلقات کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا اور کہا کہ اس دورے نے دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک تعاون کو نئی توانائی فراہم کی ہے۔

چینی سفیر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ چین پاکستان کے ساتھ اپنی فولادی، تاریخی اور لازوال دوستی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پُرعزم ہے اور دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، تجارتی، دفاعی اور سفارتی تعاون کو مزید وسعت دی جائے گی۔

پاک چین دوستی کا نیا مرحلہ

سیاسی و سفارتی مبصرین کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور چینی سفیر کے درمیان ہونے والی یہ ملاقات اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ پاکستان اور چین سی پیک 2.0 کے ذریعے اپنے اقتصادی تعلقات کو نئی جہت دینے کے لیے سنجیدہ ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر دورۂ چین کے دوران طے پانے والے معاہدوں اور سرمایہ کاری منصوبوں پر بروقت عملدرآمد یقینی بنایا گیا تو آنے والے برسوں میں پاکستان کی معیشت، صنعت، زراعت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں نمایاں پیش رفت متوقع ہے، جبکہ پاک چین اسٹریٹجک شراکت داری مزید مضبوط ہو کر خطے میں ترقی اور استحکام کا اہم ذریعہ بن سکتی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button