صحتتازہ ترین

پنجاب میں مڈوائفری سروسز کے فروغ کے لیے بڑے اقدامات، ماں اور بچے کی صحت کے تحفظ کو اولین ترجیح قرار

پنجاب حکومت اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے کہ دیہی اور دور دراز علاقوں میں تربیت یافتہ مڈوائفز کی دستیابی ماں اور بچے کی جان بچانے میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہے

قاسم بخاری-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

محکمہ صحت و بہبودِ آبادی پنجاب نے زچہ و بچہ کی صحت کو مزید بہتر بنانے اور محفوظ زچگی کی سہولیات کو عام کرنے کے لیے مڈوائفری سروسز کے فروغ کا عزم دہراتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ حکومت اس اہم شعبے میں مزید وسائل اور سہولیات فراہم کر رہی ہے تاکہ ماں اور بچے کی اموات کی شرح میں کمی لائی جا سکے اور صحت کی معیاری خدمات ہر شہری تک پہنچائی جا سکیں۔

یہ بات ڈائریکٹر ٹریننگ اینڈ ریسرچ، محکمہ صحت و بہبودِ آبادی پنجاب، رخسانہ کوثر نے ریڈیو پاکستان کے نمائندے قاسم بخاری کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ مڈوائفز صحت کے شعبے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہیں اور زچگی کے دوران ماں اور بچے کی جان بچانے میں فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کی حیثیت رکھتی ہیں۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت پنجاب مڈوائفری سروسز کو مزید مضبوط اور مؤثر بنانے کے لیے جامع حکمت عملی پر عمل پیرا ہے تاکہ ہر ماں اور ہر نومولود بچے کو محفوظ اور معیاری طبی سہولیات میسر آ سکیں۔

مڈوائفز: زچہ و بچہ کی صحت کا بنیادی ستون

رخسانہ کوثر نے کہا کہ دنیا بھر میں ماں اور بچے کی صحت کے حوالے سے مڈوائفز کو صحت کے نظام کا ایک بنیادی ستون تصور کیا جاتا ہے۔ حمل کے دوران طبی رہنمائی، محفوظ زچگی، بعد از زچگی نگہداشت اور نومولود بچوں کی ابتدائی صحت کی دیکھ بھال میں مڈوائفز کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے کہ دیہی اور دور دراز علاقوں میں تربیت یافتہ مڈوائفز کی دستیابی ماں اور بچے کی جان بچانے میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہے، اسی لیے حکومت نے اس شعبے میں سرمایہ کاری بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

چار بڑے ریجنز میں جدید اسکول آف نرسنگ اینڈ مڈوائفری قائم

رخسانہ کوثر نے بتایا کہ مڈوائفری سروسز کے فروغ کے لیے حکومت پنجاب نے ایک اہم اور تاریخی اقدام کے تحت صوبے کے چار بڑے ریجنز لاہور، ملتان، ساہیوال اور فیصل آباد میں جدید اسکول آف نرسنگ اینڈ مڈوائفری قائم کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ ادارے نہ صرف جدید طبی تعلیم فراہم کریں گے بلکہ صوبے میں تربیت یافتہ مڈوائفز کی تعداد میں بھی نمایاں اضافہ کریں گے، جس کے نتیجے میں زچہ و بچہ کی صحت کی سہولیات مزید بہتر ہوں گی۔

انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے کی خاص بات یہ ہے کہ داخلہ لینے والے طلبہ سے کسی قسم کی تعلیمی فیس وصول نہیں کی جائے گی۔ اس کے علاوہ طالبات کے لیے مفت ہاسٹل کی سہولت فراہم کی جائے گی جبکہ انہیں ماہانہ دس ہزار روپے وظیفہ بھی دیا جائے گا تاکہ مالی مشکلات تعلیم کے حصول میں رکاوٹ نہ بن سکیں۔

مفت تعلیم اور وظائف سے نوجوانوں کے لیے نئے مواقع

ماہرین صحت کے مطابق حکومت پنجاب کا یہ اقدام نہ صرف صحت کے شعبے کو مضبوط بنائے گا بلکہ نوجوان طالبات کے لیے روزگار اور پیشہ ورانہ ترقی کے نئے مواقع بھی پیدا کرے گا۔

رخسانہ کوثر نے کہا کہ حکومت کا مقصد ایسے باصلاحیت نوجوانوں کو اس شعبے کی طرف راغب کرنا ہے جو مستقبل میں صوبے کے مختلف علاقوں میں صحت کی خدمات انجام دے سکیں اور زچہ و بچہ کی صحت کے معیار کو بہتر بنانے میں کردار ادا کریں۔

ضلعی اور تحصیل سطح پر بھی مڈوائفری اسکول قائم

انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت پنجاب نے صرف بڑے شہروں تک ہی خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ تمام ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ڈیویلپمنٹ سینٹرز (DHDCs) اور منتخب تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتالوں میں بھی مڈوائفری اسکول قائم کیے ہیں۔

ان اداروں میں بھی داخلہ اور ماہانہ فیس مکمل طور پر مفت رکھی گئی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ طالبات اس شعبے میں پیشہ ورانہ تربیت حاصل کر سکیں۔

انہوں نے کہا کہ ضلعی اور تحصیل سطح پر مڈوائفری تعلیم کے فروغ سے دیہی اور کم ترقی یافتہ علاقوں میں تربیت یافتہ طبی عملے کی دستیابی میں اضافہ ہوگا اور صحت کی سہولیات کا دائرہ مزید وسیع ہو سکے گا۔

زچہ و بچہ کی اموات میں کمی کا ہدف

رخسانہ کوثر نے کہا کہ حکومت کے ان اقدامات کا بنیادی مقصد ماں اور بچے کی اموات کی شرح میں کمی لانا اور محفوظ زچگی کے مواقع بڑھانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی ادارۂ صحت سمیت بین الاقوامی طبی ادارے بھی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ تربیت یافتہ مڈوائفز کی دستیابی زچگی کے دوران پیچیدگیوں کو کم کرنے اور نومولود بچوں کی بقا کی شرح بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔

صحت کے نظام میں موجود خلا کو پر کرنے کی کوشش

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں صحت کے شعبے کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مڈوائفری سروسز کا فروغ انتہائی ضروری ہے۔ حکومت کی جانب سے کیے گئے حالیہ اقدامات اس شعبے میں موجود افرادی قوت کے خلا کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

رخسانہ کوثر کے مطابق تربیت یافتہ مڈوائفز کی تعداد میں اضافے سے نہ صرف سرکاری ہسپتالوں پر بوجھ کم ہوگا بلکہ دور دراز علاقوں میں رہنے والی خواتین کو بھی بروقت اور معیاری طبی سہولیات میسر آ سکیں گی۔

محفوظ مستقبل کی جانب ایک اہم قدم

صحت عامہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت پنجاب کی جانب سے مڈوائفری تعلیم اور تربیت کے فروغ کے لیے کیے گئے یہ اقدامات صوبے میں زچہ و بچہ کی صحت کے شعبے میں ایک مثبت پیش رفت ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر ان منصوبوں پر مؤثر انداز میں عملدرآمد جاری رہا تو آنے والے برسوں میں پنجاب میں محفوظ زچگی، نومولود بچوں کی بہتر نگہداشت اور ماں و بچے کی صحت کے اشاریوں میں نمایاں بہتری متوقع ہے۔

رخسانہ کوثر نے اپنے پیغام کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت پنجاب مڈوائفری سروسز کو مزید مستحکم بنانے اور ہر ماں اور بچے کے لیے محفوظ، صحت مند اور روشن مستقبل یقینی بنانے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button